تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Monday, January 09, 2017

دعا عبادت کا مغز ہے




ضعیف احادیث، دعا عبادت کا مغز ہے، دعوت اسلامی، zaeef hadees


"الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ."
 دعا عبادت کا مغز ہے۔
(جامع الترمذی: ۳۳۷۱)
ضعیف: یہ روایت ضعیف ہے:
۱: اس کا راوی "ولید بن مسلم"  مدلس ہے۔ (طبقات المدلسین: ۱۲۷/۴)
  ٭''ولیدبن مسلم ''تدلیس کی سب سے بدترین قسم "تدلیس تسویة "کے وصف سے متصف ہے۔ (تقریب التہذیب،رقم٧٤٥٦)
 ۲:عبد اللہ بن لهیعہ ضعیف بعد اختلاط و مدلس  راوی ہے۔ (طبقات المدلسین: ۱۴۰/۵)
٭علامہ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ضعفه الجمهور" (مجمع الزوائد: ۳۷۵/۱۰)

صحیح حدیث:                                                 "الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ‏"
دعا ہی عبادت ہے۔ (ابو داود: ۱۴۷۹)

Thursday, January 05, 2017

جمعہ یا شب جمعہ سورہ الدخان کی تلاوت کرنا


جمعہ یا شب جمعہ سورہ الدخان کی تلاوت کرنا ، شب جمعہ کی فضیلت، ضعیف احادیث
www.facebook.com/DaeefHadiths

جمعہ یا شب جمعہ سورۂ الدخان کی تلاوت کرنا

"من قرأ حم الدخان في لیلة الجمعة أو یوم الجمعة بنی اللہ له بیتا فی الجنة."
جس نے جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن سورهٔ حم الدخان کی تلاوت کی اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائیں گے۔
(المعجم الکبیر: ۲۶۴/۸، حدیث: ۸۰۲۶)

سخت ضعیف: یہ روایت سخت ضعیف ہے:
٭امام ہیثمی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس میں فضال بن جبیر راوی "بہت زیادہ ضعیف" ہے۔ (مجمع الزوائد: ۳۰۱۷)

٭محدث العصر علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو سخت ضعیف کہا ہے۔ (ضعیف الترغیب، ۴۴۹، ضعیف الجامع الصغیر: ۵۷۶۸، سلسلة الأحادیث الضعیفة: ۵۱۱۲)

ایک نوجوان کا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا

ایک نوجوان کا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا

ضعیف احادیث، zaeef Hadees, سلسلة الأحادیث الضعیفة و الموضوعة

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"عُدْنَا شَابًّا مِنَ الأَنْصَارِ وَعِنْدَهُ أُمٌّ لَهُ عَجُوزٌ عَمْيَاءٌ قَالَ فَمَا بَرِحْنَا أَنْ فَاظَ يَعْنِي مات ومددنا على وجه الثَّوْبَ فَقُلْنَا لأُمِّهِ يَا هَذِهِ احتسبي مصابك عند الله قال أَمَاتَ ابْنِي قُلْنَا نَعَمْ قَالَتْ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي هَاجَرْتُ إِلَيْكَ وَإِلَى نَبِيِّكَ رَجَاءَ أَنْ تُغْنِينِي عِنْدَ كُلِّ شَدِيدَةٍ فَلا تَحْمِلْ عَلَيَّ هَذِهِ الْمُصِيبَةَ الْيَوْمَ قَالَ أَنَسٌ فَوَاللَّهِ مَا بَرِحْنَا حَتَّى كَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ وَطَعِمَ وَطَعِمْنَا مَعَهُ."
میں ایک انصاری نوجوان کی عیادت کیلئے گیا (لیکن وہاں جانے کے بعد) وہ جلد ہی فوت ہوگیا۔ ہم نے اس کی آنکھیں بند کیں اور اس پر چادر ڈال دی، ہم میں سے بعض نے اس کی ماں کو کہا: اس کے ثواب کی امید رکھ،ا س نے کہا: وہ فوت ہوگیا؟ ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: کیا تم صحیح کہہ رہے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں، اس نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے اور کہا: اے اللہ! بے شک میں تیرے ساتھ ایمان لائی اور تیرے رسول کی طرف ہجرت کی، پس جب مجھے کوئی مصیبت پہنچی اور مین نے تجھ سے دعا کی، تو نے اسے دور کردیا۔ میں تجھ سے سوال کرتی ہوں: اے اللہ! آج کے دن یہ مصیبت مجھ پر نہ ڈال۔ انھوں (انس رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: اس (میت) نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا ہم اس سے جدا نہیں ہوئے حتیٰ کہ ہم نے کھانا کھایا اور اس نے بھی ہمارے ساتھ کھانا کھایا۔ (دلائل النبوۃ للبیهقي: ج۶ص۵۱، الکامل لابن عدي: ۹۵/۵، البدایة و النهایة: ۱۷۱/۶)

موضوع (من گھڑت): اس واقعہ کا مرکزی راوی صالح المری "منکر الحدیث" ہے۔
٭ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا: کان صاحب قصص یقص لیس ھو صاحب آثار و ھدیث ولا یعرف الحدیث۔ "وہ قصہ گو تھا قصے بیان کرتا تھا۔ وہ صاحب آثار و حدیث نہیں ہے اور نہ وہ حدیث کو پہچانتا۔" (الجرح والتعدیل:۳۹۶/۴ )
٭امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا:" ضعیف الحدیث " (الجرح والتعدیل:۳۹۶/۴ )
٭امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا: "منکر الحدیث" (الجعفاء الصغیر: ۱۶۹)
٭امام نسائی رحمہ اللہ نے کہا:"متروک الحدیث" (الضعفاء والمتروکون: ۳۲۱)
٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہا: "ضعیف" (التقریب: ۲۸۴۵)
٭ اس کے علاوہ بھی علماء نے اس پر جرح کی ہے۔ دیکھئے الکامل لابن عدي وغیرہ
تنبیہ: ان تمام علماء کے مقابلے مین صرف امام ابن شاہین رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں کہا: لیس به بأس  ۔ (أسماء الثقات: ۶۰۲)
لیکن جمہور علماء کے مقابلے میں ہونے کی وجہ سے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ لہٰذا یہ سارا واقعہ من گھڑت ہے جو لائق التفات نہیں۔

Friday, September 23, 2016

عصر کے بعد سونے سے عقل کم ہونے کا خدشہ


عصر کے بعد سونا، ضعیف احادیث ، موضوع (من گھڑت)، سلسلة الأحادیث الضعیفة و الموضوعة

من نام بعد العصر فاختلس عقلہ فلا یلومن الا نفسہ
” جوشخص عصر کے بعد سویااور اس کی  عقل ميں فتور پیدا ہو جائے (عقل کم کردی جائے)تووہ صرف اپنے آپ کو ہی ملا مت کرے ۔“

سخت ضعیف:  یہ حدیث بہت ہی زيادہ ضعیف ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، دیکھیں:
٭ سلسلة الأحادیث الضعیفةو الموضوعة  (۳۹)
٭ " الموضوعات " لابن جوزي ( ۶۹/۳ )
 ٭  " اللآلی المصنوعۃ " للسیوطي (۲۷۹/۲)
٭ اور " ترتیب الموضوعات " للذھبي ( ۸۳۹ )
عصر کے بعد سونا  جائز اور مباح ہے، اس وقت میں سونے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ بھی چیز ثابت نہیں ہے۔





Thursday, March 17, 2016

جشن میلاد النبی ﷺ پر جھنڈے لگانا



حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"وَرَأَيْتُ ثَلَاثَ أَعْلَامٍ مَضْرُوبَاتٍ: عَلَمٌ فِي الْمَشْرِقِ , وَعَلَمٌ فِي الْمَغْرِبِ , وَعَلَمٌ عَلَى ظَهْرِ الْكَعْبَةِ"
میں نے دیکھا کہ تین جھنڈے نصب کئے گئے، ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں، تیسرا کعبے کی چھت پر اور حضور اکرم ﷺ کی ولادت ہوگئی۔  (دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني : ج۱، ص۶۱۰ رقم ۵۵۵)


سخت ضعیف: یہ سخت ضعیف  (یاپھر موضوع)روایت ہے، کیونکہ؛
۱:  اس کا راوی یحییٰ بن عبد اللہ  البابلتی ضعیف ہے۔
٭ حافظ ابن حجر  رحمہ اللہ نے اس ضعیف قرار دیا ہے۔ (تقریب التہذیب: ۷۵۸۵) اور (تہذیب التہذیب: ج۱۱،ص۲۴۰ رقم: ۳۹۳)
۲: یحییٰ بن عبد اللہ کا استاد ابو بکر بن ابی مریم سخت ضعیف راوی ہے ۔
٭  اسے امام احمد ، ابوداود ، ابو حاتم ، ابو زرعۃ ، یحیی بن معین، دارقطنی ، النسائی رحمھم اللہ علیھم اجمعین اور اس کے علاوہ بھی کئی دیگر محدیثین نے ضعیف و مجروح قرار دیا ہے۔ (تقریب التہذیب: ۷۹۷۴) اور دیکھئے: (تہذیب التہذیب: ج۱۲،ص۲۸ رقم: ۱۳۹)


Zaeef Hadiths, Meelad un Nabi par Jandhay Lagany ki Riwayat ki Tahqeeq. Sheikh Ghulam Mustafa Zaheer Amanpuri


چند دیگر ضعیف اور موضوع روایات: