تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Friday, September 23, 2016

عصر کے بعد سونے سے عقل کم ہونے کا خدشہ


من نام بعد العصر فاختلس عقلہ فلا یلومن الا نفسہ
جوشخص عصر کے بعد سویااور اس کی  عقل ميں فتور پیدا ہو جائے (عقل کم کردی جائے)تووہ صرف اپنے آپ کو ہی ملا مت کرے ۔“

سخت ضعیف:  یہ حدیث بہت ہی زيادہ ضعیف ہے ۔
دیکھیں:  سلسلة الضعیفة (۳۹)

" الموضوعات " لابن جوزي ( ۶۹/۳ ) اور " اللآلی المصنوعۃ " للسیوطی (۲۷۹/۲) اور " ترتیب الموضوعات " للذھبی ( ۸۳۹ )




Thursday, March 17, 2016

جشن میلاد النبی ﷺ پر جھنڈے لگانا



حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"وَرَأَيْتُ ثَلَاثَ أَعْلَامٍ مَضْرُوبَاتٍ: عَلَمٌ فِي الْمَشْرِقِ , وَعَلَمٌ فِي الْمَغْرِبِ , وَعَلَمٌ عَلَى ظَهْرِ الْكَعْبَةِ"
میں نے دیکھا کہ تین جھنڈے نصب کئے گئے، ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں، تیسرا کعبے کی چھت پر اور حضور اکرم ﷺ کی ولادت ہوگئی۔  (دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني : ج۱، ص۶۱۰ رقم ۵۵۵)


سخت ضعیف: یہ سخت ضعیف  (یاپھر موضوع)روایت ہے، کیونکہ؛
۱:  اس کا راوی یحییٰ بن عبد اللہ  البابلتی ضعیف ہے۔
٭ حافظ ابن حجر  رحمہ اللہ نے اس ضعیف قرار دیا ہے۔ (تقریب التہذیب: ۷۵۸۵) اور (تہذیب التہذیب: ج۱۱،ص۲۴۰ رقم: ۳۹۳)
۲: یحییٰ بن عبد اللہ کا استاد ابو بکر بن ابی مریم سخت ضعیف راوی ہے ۔
٭  اسے امام احمد ، ابوداود ، ابو حاتم ، ابو زرعۃ ، یحیی بن معین، دارقطنی ، النسائی رحمھم اللہ علیھم اجمعین اور اس کے علاوہ بھی کئی دیگر محدیثین نے ضعیف و مجروح قرار دیا ہے۔ (تقریب التہذیب: ۷۹۷۴) اور دیکھئے: (تہذیب التہذیب: ج۱۲،ص۲۸ رقم: ۱۳۹)


Zaeef Hadiths, Meelad un Nabi par Jandhay Lagany ki Riwayat ki Tahqeeq. Sheikh Ghulam Mustafa Zaheer Amanpuri


چند دیگر ضعیف اور موضوع روایات:




Thursday, December 31, 2015

٭ اولاد کی کمی ہو تو پیاز کھاؤ

اولاد کی کمی ہو تو پیاز کھاؤ

شَكَا رَجُلٌ قِلَّةَ الْوَلَدِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْكُلَ الْبَيْضَ وَالْبَصَلَ.
"ایک آدمی نے اولاد کی کمی کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے اسے انڈا اور پیاز کھانے کا حکم دیا۔ "

ایک دوسری رویت میں ہے کہ:

 عَلَيْكُمْ بِالْبَصَلِ فَإِنَّهُ يُطَيِّبُ النُّطْفَةَ ، وَيُصْبِحُ الْوَلَدَ .
"پیاز ضرور استعمال کرو کیونکہ یہ نطفہ صاف کردیتا ہے اور بچہ پیدا ہوجاتاہے۔"

موضوع (من گھڑت): یہ جھوٹی اور من گھڑت روایت ہے۔
۱: : امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ (۱۶/۳)
۲: علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے۔ (الفوائد المجموعة: ص ۱۳۷)
۳: ملا علی قاری (الاسرار المرفوعة:ص۴۳۹ امام ابن قیم (المنار المنیف: ص ۶۴) اور   علامہ طاہر پٹنی  (تذکرة الموضوعات: ۱۳۴) رحمہم اللہ  نے بھی اسے موضوعات کے ضمن میں ذکر کیا ہے.

٭جبکہ دوسری روایت کوعلامہ طاہر پٹنی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات میں شمار کیا ہے۔(تذکرة الموضوعات: ص۱۴۹)


تنبیہ: یہ بات کسی طبیب کی تو ہوسکتی ہے لیکن نبی کریم ﷺ سے ایسی کوئی حدیث یا حکم ثابت نہیں۔

Friday, December 11, 2015

٭ ربیع الاول کے مہینے کی مبارک باد دینے والے پر جہنم حرام

ربیع الاول کے مہینے کی مبارک باد دینے والے پر جہنم حرام


کچھ لوگ ماہِ ربیع الاول کے آتے ہی ایک حدیث نشر کرنا شروع کر دیتے ہیں:
"جو بھی اس فضیلت والے ماہ کی مبارک باد سب سے پہلےدے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی۔ "

موضوع (من گھڑت): یہ جھوٹی اور من گھڑت روایت ہے۔
اس روایت کی  سند حدیث کی کتابوں میں نہیں ملی، اور خود ساختہ اور من گھڑت ہونے کی علامات اس حدیث پر بالکل واضح ہیں، اس لئے اس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ آپ کے بارے میں جھوٹ باندھنے کے زمرے میں آتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:"جس شخص نے میری طرف منسوب کوئی حدیث بیان کی، اور وہ خدشہ بھی رکھتا تھا یہ جھوٹ ہے، تو بیان کرنے والا بھی دو جھوٹوں میں سے ایک ہے) مسلم نے اسے اپنی صحیح مسلم کے مقدمہ میں بیان کیا ہے۔

امامنووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
"اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے کی سنگینی بیان کی گئی ہے، اور جس شخص کو اپنے ظنِ غالب کے مطابق کوئی حدیث جھوٹی لگی لیکن پھر بھی وہ آگے بیان کر دے تو وہ بھی جھوٹا ہوگا، جھوٹا کیوں نہ ہو؟! وہ ایسی بات کہہ رہا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی" انتہی (شرح صحيح مسلم : ۱/۶۵)
اور اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے کہ ماہِ ربیع الاول کی جس شخص نے مبارکباد دی تو صرف اسی عمل سے اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی، یہ بات حد سے تجاوز، اور مبالغہ آرائی پر مشتمل ہے، جو کہ اس حدیث کے باطل اور خود ساختہ ہونے کی علامت ہے۔

چنانچہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"خود ساختہ احادیث میں اندھا پن ، بے ڈھب الفاظ، اور حد سے زیادہ تجاوز ہوتا ہے، جو ببانگ دہل ان احادیث کے خود ساختہ ہونے کا اعلان کرتا ہے، کہ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر خود گھڑی گئی ہے" انتہی (المنار المنيف : ص۵۰)

Thursday, November 26, 2015

٭ صفر کے مہینے کی اختتام کی خبر دینے والے کیلئے جنت

Daeef Hadiths, Zaeef Hadees, ضعیف حدیث، موضوع حدیث، سلسلة الأحادیث الضعیفة

صفر کے مہینے کی اختتام کی خبر دینے والے کیلئے جنت

 مَنْ بَشَّرَنِي بِخُرُوجِ صَفَرٍ، بَشَّرْتُهُ بِدُخُولِ الْجَنَّةِ .
"جو کوئی مجھے صفر کا مہینا گزر جانے کی خبر دے گا میں اسے جنت میں جانے کی بشارت دوں گا۔ "


موضوع (من گھڑت): یہ جھوٹی اور من گھڑت روایت ہے۔
۱: ملا علی قاری نے لکھا ہے: لا أصل له "اس کی کوئی اصل نہیں۔" (الموضوعات الکبریٰ: ۳۳۷/۱)
۲:  علامہ الصغاني نے اسے اپنی کتاب الموضوعات (۱۰۰) میں ذکر کیا ہے۔
۳:  قاضی شوکانی لکھتے ہیں: قال الصنعانی؛ موضوع، و کذا قال العراقی۔
«اسے علامہ صنعانی اور علامہ عراقی نے موضوع کہا ہے۔» (الفوائد المجموعة: ۴۳۸/۱)