تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label شیعیت کا مقدمہ اور جھوٹی روایات. Show all posts
Showing posts with label شیعیت کا مقدمہ اور جھوٹی روایات. Show all posts

Saturday, November 22, 2014

٭ جاہلیت کی موت


جاہلیت کی موت
 
10: امینی صاحب نے وحید الزمان حیدر آبادی اور شاہ اسماعیل دہلوی دونوں سے ایک حدیث نقل کی کہ:
جو شخص مرجائے اور اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانے، اس کی موت جاہلیت کی سی موت ہوگی۔“
 (شیعیت کا مقدمہ ص۱۹۰۔۱۹۱، واللفظ للاول)

موضوع(من گھڑت):
٭وحید الزمان نے کہا: "اگرچہ یہ حدیث اہلسنت کے عقائد کی کتابوں میں اس لفظ سے مذکور ہے، مگر حدیث کی کتابوں میں مجھے اس لفظ سے نہیں ملی۔"
٭امینی صاحب لکھتے ہیں: "اس سے  اس حدیث پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔" (شیعیت کا مقدمہ: ص۱۹۱)
عرض ہے کہ کیوں اثر نہیں پڑتا؟ کیا بے سند روایت مردود نہیں ہوتی؟ کیا شیعہ کے خلاف بھی بے سند روایتیں پیش کرنا جائز ہے؟ یاد رہے کہ یہاں عقائد کی کتابوں سے مراد بعض متأخرینِ اہلِ بدعت کی غیر مستند اور بے سند کتابیں ہیں جنھیں اہلِ سنت کے عقائد کی کتابیں قرار دینا غلط ہے؟
٭روایت مذکورہ کے بارے میں حافظ ذہبی نے فرمایا: "بل واللہ ماقاله الرسول ﷺ ھکذا" بلکہ اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے اس طرح نہیں فرمایا ہے۔ (المنتقیٰ من منہاج السنہ ص۲۸)
٭حافظ ابن تیمیہ نے اس حدیث کی سند کا مطالبہ کیا تھا۔ (دیکھئے منہاج السنۃ النبویہ ج۱ص۲۶)
مگر آج تک کوئی شیعہ یا غیر شیعہ اس کی سند پیش نہیں کرسکا اور یہ اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ روایت ِمذکورہ موضوع ہے۔



٭ نیکوکاروں کے امام اور فاجروں کو قتل کرنے والے


نیکوکاروں کے امام اور فاجروں کو قتل کرنے والے
 
9: امینی صاحب نے کسی عبد الحسین (؟!) شرف الدین موسوی (شیعہ) کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ:
پیغمبر اکرم ؐ نے ایک دفعہ حضرت علی  کی گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:۔ ۔۔ یہ علی ؑ نیکوکاروں کے امام اور فاجروں کو قتل کرنے والے ہیں۔
جس نے ان کی مدد کی وہ کامیاب ہوا اور جس نے ان کی مددسے منہ موڑا اس کی بھی مدد نہ کی جائے۔
امام حاکم نے اس حدیث کو مستدرک ج۳،ص۱۲۹ پر حضرت جابر  سے روایت کرکے کے لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔لیکن بخاری اور مسلم نے اسے درج نہیں کیا۔“
(شیعیت کا مقدمہ ص ۵۶۔۵۷)
موضوع(من گھڑت): عرض ہے کہ :
٭مستدرک کی تلخیص میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے لکھا ہے: "بل واللہ موضوع، وأحمد کذاب" بلکہ اللہ کی قسم ! (یہ روایت) موضوع ہے اور احمد (بن عبد اللہ بن یزید الحرانی) کذاب ہے۔ (تلخیص المستدرک ج ۳ص۱۲۹ح۴۶۴۴)
کیا امینی صاحب کو یہ جرح نظر نہیں آئی یا پھر دال میں کالا ہی کالا ہے۔؟!
٭ابو جعفر احمد بن عبد اللہ بن یزید المؤدب کے بارے میں حافظ ابن عدی نے فرمایا: "کان بسُرّ من رأی یضع الحدیث" وہ سرمن رأی (عراق کا ایک مقام) میں حدیث گھڑتا تھا۔ (الکامل لابن عدی ج۱ص۱۹۵، دوسرا نسخہ ج۱ص۳۱۶)
٭امام دارقطنی نے فرمایا: "وہ عبد الرزاق وغیرہ سے منکر حدیثیں بیان کرتا تھا، اس کی حدیث ترک کردی جائے۔" (تاریخ بغداد ج ۴ص۲۲۰ وسندہ صحیح)
نیز دیکھئے الضعفاء والمتروکون للدارقطنی (ص۱۲۸، ترجمہ ۶۸)
امام ابن عدی، امام دارقطنی اور حافظ ذہبی کی شدید جرح کے بعد یہاں حاکم کی تصحیح کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔



٭ علیؓ اختلاف کے وقت راہ حق واضح کرنے والے

علیؓ اختلاف کے وقت راہ حق واضح کرنے والے
 
8: امینی صاحب نے ایک اور روایت  بھی لکھی ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے علی (رضی اللہ عنہ) سے فرمایا:
أنت تبین لأمتي ما اختلفوا فیه من بعدي
میرے بعد میری امت اختلافات میں مبتلا ہوگی تو تم ہی راہ حق واضح کرو گے۔
اس حدیث کو امام حاکم نے مستدرک ج ۳، ص۱۲۲ پر درج کرنے کے بعد لکھا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کے بنائے ہوئے معیار پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اس کا ذکر نہیں کیا نیز دیلمی نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے جیسا کہ کنز العمال ج۷ص۱۵۶ پر مذکور ہے۔“
(شیعیت کا مقدمہ ص۵۷حاشیہ)
موضوع(من گھڑت): عرض ہے کہ مستدرک کی اس روایت کے بارے میں حافظ ذہبی نے لکھا ہے: "بل ھو فیما اعتقدہ من وضع ضرار، قال ابن معین: کذاب"
بلکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اسے ضرار (بن صرد) نے بنایا ہے، ابن معین نے (اس کے بارے میں) فرمایا: جھوٹا ہے۔ (تلخیص المستدرک ج۳ص۱۲۲ح۴۶۲۰)
٭ابو نعیم ضرار بن صرد الکوفی پر امام بخاری اور جمہور محدثین نے جرح کی ہے اور امام ابن معین رحمہ اللہ نے فرمایا: کوفہ میں دو کذاب (جھوٹے) ہیں: ابو نعیم النخعی اور ابو نعیم ضرار بن صرد۔ (کتاب الجرح والتعدیل ج۴ص۴۶۵ وسندہ صحیح)
٭ ضرار بن صرد کی اس روایت کو اس کی منکر روایتوں میں شمار کیا گیا ہے، یاد رہے کہ امام بخاری اور امام مسلم  کا یہ معیار ہرگز نہیں ہے کہ وہ کذاب راویوں کی روایات سے استدلال کریں، لہٰذا یہاں حاکم کی غلطیوں سے استدلال کیوں کر صحیح ہوسکتا ہے؟
تنبیہ: سیوطی کی بیان کردہ (کنز العمال: ۶۱۵/۱۱ح۳۲۹۸۳) دیلمی والی روایت بھی ابو نعیم ضرار بن صرد ہی سے ہے۔ دیکھئے مسند الفردوس (مخطوط مصور ج ۳ص۲/۱۳۵)


٭نبی ﷺ کا بھائی، وصی اور خلیفہ


نبی ﷺ کا بھائی، وصی اور خلیفہ
 
7: امینی صاحب نے بحوالہ تاریخ طبری (اردو ج۱ص۸۹) ایک روایت لکھی ہے کہ:
”نبی ﷺ نے (سیدنا) علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں تمام بنو ہاشم کے سامنے اعلان فرمایا:
"إن ھذا أخي و وصي و خلیفتي فیکم فاسموا له وأطیعوا"
یہ میرا بھائی میرا وصی اور تم میں میرا خلیفہ ہے۔ تم اس کی بات سنو اور جو کہے اسے بجا لاؤ۔ ۔
(شیعیت کا مقدمہ ص۶۱، ۱۶۳۔۱۶۴)
 
موضوع(من گھڑت): تاریخ ابن جریر الطبری کے ہمارے اصل عربی نسخے میں یہ روایت جلد۲صفحہ ۳۲۱پر ہے اور :
۱:اس کی سند میں ایک راوی عبد الغفار بن القاسم ابو مریم الانصاری (رافضی) ہے،  جس کے بارے میں:
٭ امام ابو داود الطیالسی  رحمہ اللہ نے فرمایا: "میں گواہی دیتا ہوں کہ ابو مریم کذاب ہے، کیونکہ میں نے اس سے ملاقات کی ہے اور اس سے (احادیث کا) سماع کیا ہے۔ " (کتاب الضعفاء للعقیلی: ۱۰۰/۳۔۱۰۱، وسندہ حسن)
٭امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرمایا: "وعامة حدیثه بواطیل" اس کی عام حدیثیں باطل ہیں۔ (کتاب الجرح والتعدیل: ج۲ص۵۳وسندہ صحیح)
۲:اس سند میں محمد بن حمید الرازی بھی سخت مجروح  راوی ہے۔
۳: محمد بن اسحاق بن یسار مدلس ہیں۔
لیکن یہ روایت عبد الغفار بن القاسم کی وجہ سے موضوع ہے۔



٭ علی رضی اللہ عنہ کی ولایت

علی رضی اللہ عنہ کی ولایت
 
6: امینی صاحب نے لکھا ہے:
ابو سعید خدری  سے روایت ہے کہ بہ تحقیق غدیر خم کے روز جناب رسالت مآب ﷺ نے لوگوں کو بلا کر درخت کے نیچے جھاڑو دینے کا حکم دیا۔ وہاں سے کانٹوں کو جھاڑو سے دور کیا گیا۔ پھر آپ ؐ نے علی ؑ کو بلوا کر ان کے دونوں بازو پکڑ کر اٹھائے۔ یہاں تک کہ لوگوں نے حضرت ؐ کی بغل کی سفیدی کو ملاحظہ کیا۔ پھر آپ ؐ نے فرمایا جس کا میں مولا ہوں پس اس کا علی ؑ مولا ہے۔ پھر ابھی لوگ متفرق نہیں ہوئے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی کہ "آج کے روز میں نے تمہارے لیے دین کو مکمل کیا ہے اور میں نے اپنی نعمت کو تم پر پورا کیا ہے۔ پس رسالت مآب ؐ نے فرمایا: اللہ اکبر دین کے کامل ہوجانے اور نعمت کے پورا ہونے اور میری رسالت اور علی ؑ کی ولایت پر خدا کےراضی ہونے پر۔
(شیعیت کا مقدمہ ص۱۷۱، بحوالہ ارجح المطالب ص۸۰، أبو نعیم وأبو بکر مردویه عنه وعن أبي ھریرۃ، 
والسیوطی فی الدرالمنثور والدیلمی (صح) وأبو نعیم فیما نزل من القرآن في علي)

موضوع(من گھڑت): عرض ہے کہ اس روایت کی کوئی سند اہلِ سنت کی کتابوں میں موجود نہیں ہے اور نہ ابو نعیم وابن مردویہ کی روایتوں کی اسانید کا علم ہوسکا ہے۔ یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ درمنثور (۳۹۸/۲) میں بھی نہیں ملی اور نہ دیلمی کی سند کا نام ونشان ملا ہے، لہٰذا یہ بے سند روایت موضوع  (من گھڑت)ہے۔
٭حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے صدیوں پہلے اس روایت کی سند پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دیکھئے منہاج السنۃ النبویہ (ج۴ص۱۵)
٭حافظ ذہبی نے اسے موضوع قرار دیا۔ دیکھئے المنتقیٰ من منہاج السنہ (ص۴۲۵)
امینی صاحب اور ان کے ساتھیوں سے درخواست ہے کہ ہمت کریں اور کوشش کرکے کہیں سے اس روایت کی سند پیش کریں تاکہ راویوں کی تحقیق کی جاسکے اور اگر سند پیش نہ کرسکیں تو پھر اس بے سند موضوع روایت کو عوام الناس کے سامنے کیوں پیش کررہے ہیں؟
اگر شیعہ کی کتابوں، مثلاً اصولِ کافی سے ہم کوئی ضعیف ومردود روایت پیش کردیں تو کیا شیعہ اسے تسلیم کرلیں گے؟
فل حال اصولِ کافی کی روایت پڑھ لیں:
٭ ابو عبد اللہ علیہ السلام (شیعہ کے نزدیک معصوم امام) سے روایت ہے کہ: "إنّ العلماء ورثة الأنبیاء وذاک أن الأنبیاء لم یورّثوا درھماً ولا دینارً۔ ۔ ۔ ۔"
بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں، یہ اس لئے کہ انبیاء نے درہم ودینار کی وراثت نہیں چھوڑی ۔ ۔ ۔ ۔ الخ (الاصو ل من الکافی ج۱ص۳۲ باب صفۃ العلم وفضلہ وفضل العلماء ح۲)
ضعیف: اس کے راوی ابو البختری وھب بن وھب کے بارے میں مامقانی (شیعہ) نے لکھا ہے: "في غایة الضعف" یعنی بہت زیادہ ضعیف۔ (تنقیح المقال فی علم الرجال ج۱ص۱۶۱، راوی نمبر ۱۲۷۰۹)
کیا خیال ہے شیعہ اصول کی رُو سے اس سخت ضعیف روایت کو شیعہ کے خلاف پیش کرنا جائز ہے؟


٭ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنا


ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنا
 
5:امینی صاحب نے عبد الحئی لکھنوی صاحب سے نقل کیا ہے کہ:
عن معاذ ان رسول اللہ کان إذاقام فی االصلوۃ رفع یدیه معال أذنیه فاذا کبر ارسلھما (رواہ الطبرانی)
جناب معاذ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ؐ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے وقت ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاکر بلند کرتے اور پھر انھیں کھلا چھوڑدیتے۔ “
(فتاویٰ شیخ عبد الحئی لکھنوی ج۱ ص۳۲۶ طبع اول، شیعیت کا مقدمہ ص ۲۳۶۔۲۳۷)
موضوع(من گھڑت): یہ روایت طبرانی کی المعجم الکبیر (ج۲۰ص۷۴ح۱۳۹) میں خصیب بن حجدر کی سند سے موجود ہے اور اس روایت کے بارے میں:
٭حافظ ہیثمی نے کہا: "رواہ الطبراني فی الکبیر وفیه الخصیب بن حجدر وھو کذاب"
اسے طبرانی نے الکبیر میں روایت کیا اور اس میں خصیب بن حجدر (راوی) ہے او روہ کذاب (جھوٹا) ہے۔ (مجمع الزوائد ج۲ص۱۰۲)
٭خصیب بن حجدر کے بارے میں امام یحییٰ بن سعید القطان نے فرمایا: "وہ جھوٹا تھا۔" (تاریخ ابن معین روایۃ الدوری: ۳۳۲۷)
٭امام یحییٰ بن معین نے فرمایا: "الخصیب بن جحدر  کذاب" (کتاب الجرح والتعدیل: ۳۹۷/۳ وسندہ صحیح)
تفصیل کیلئے اسماء والرجال کی اصل کتابوں کی طرف رجوع کریں۔



Thursday, November 20, 2014

٭ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے شیعہ


شیعیت کا مقدمہ نامی کتاب کی جھوٹی اور مردود روایات

حسین الامینی صاحب (ایک شیعہ) کی کتاب : "شیعیت کا مقدّمہ" سے جھوٹی اور مردود روایات پیشِ خدمت ہیں، جن سے امینی مذکور نے اہلِ سنت کی بعض کتابوں کے حوالے دے کر استدلال کیا ہے، حالانکہ مذکورہ کتابوں کے مصنفین نے اپنی ان کتابوں میں روایات کے صحیح ہونے کا التزام نہیں کیا اور نہ اصولِ حدیث واسماءالرجال کی رُو سے یہ روایتیں صحیح یا حسن ہیں، بلکہ اس کے برعکس موضؤع، باطل ومردود ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے شیعہ
1:سیدنا جابر بن عبد اللہ الانصاری رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک روایت میں آیا ہے کہ ہم نبی ﷺ کے پاس موجود تھے، پھر علی (رضی اللہ عنہ) تشریف لائے تو نبی ﷺ نے  فرمایا :
والذي نفسي بیدہ! إن ھذا وشیعته ھم الفائزون یو م القیامة ۔ ۔ ۔
” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بے شک یہ (علی رضی اللہ عنہ) اور اُن کے شیعہ قیامت کے دن (جنت کے رفیع درجوں پر) فائز ہوں گے۔۔۔۔۔ الخ
(شیعیت کا مقدمہ ص ۵۰۔ ۵۱)



موضوع(من گھڑت): اس روایت کو امینی صاحب نے اپنے مخصوص ترجمے کے ساتھ کسی عبید اللہ امرتسری (؟)کی کتاب : ارجح فی مناقب اسد اللہ الغالب سے بحوالہ ابن عساکر، خوارزمی اور سیوطی (دُرِّ منثور) نقل کیا ہے۔
٭خوارزمی سے مراد اگر موفق بن احمد بن محمد بن سعید المکی خطیب خوارزم ہے تو یہ شخص معتزلی تھا۔ دیکھئے مناقب ابی حنیفہ للکردری (ج۱ص۸۸)
خوارزمی مذکور کی توثیق ثابت نہیں اور نہ اس کی کتاب کا کوئی اتہ پتا ملا ہے اور علمائے کرام نے یہ صراحت کی ہے کہ اس کی کتاب (فضائل علی رضی اللہ عنہ) میں (بہت زیادہ) موضوع  روایات ہیں۔ دیکھئے منہاج السنہ للحافظ ابن تیمیہ (۱۰/۳) اور المنتقیٰ من منہاج السنہ للذہبی (ص۳۱۲)
معلوم ہوا کہ خوارزمی کا بے سند حوالہ پیش کرنا بے کار ومردود ہے اور اُصولِ اہلِ سنت کے سرا سر خلاف ہے۔
٭سیوطی کی درمنثور میں یہ روایت بحوالہ ابن عساکر مذکور ہے۔ (ج۶ص۳۷۹، آخر سورۃ البینہ)
٭حافظ ابن عساکر کی کتاب: تاریخ دمشق (ج۴۵ص۲۴۳) میں یہ روایت سند سے موجود ہے، لیکن کئی وجہ سے موضوع ہے۔
۱: اس کا راوی ابو العباس ابن عقدہ رافضی اور چور تھا۔
٭امام دارقطنی نے فرمایا: "وہ گندا آدمی تھا" آپ اس کے رافضی ہونے کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ (دیکھئے تاریخ بغداد: ۲۲/۵، لسان المیزان: ۲۶۴/۱ت۸۱۷)
امام دارقطنی نے مزید فرمایا: "وہ منکر روایتیں کثرت سے بیان کرتا ہے۔" (تاریخ بغداد: ۲۲/۵ وسندہ صحیح)
٭ابو عمر محمد بن العباس بن محمد بن زکریا البغدادی المعروف بابن حیویہ نے فرمایا: "ابن عقدہ براثا (بغداد) میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ یا (سیدنا ) ابو بکر اور (سیدنا) عمر (رضی اللہ  عنہم) کی بُرائیاں اور سب وشتم لکھواتا تھا، میں نے جب یہ دیکھا تو اس کی حدیث کو ترک کردیا اور اس کے بعد میں اس سے کوئی چیز بھی روایت نہیں کرتا ہوں۔" (سوالات حمزہ السہمی: ۱۶۶، وسندہ صحیح)
٭محمد بن الحسین بن مکرم البغدادی البصری نے ایک سچا واقعہ بیان کیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابن عقدہ نے عثمان بن سعید المری رحمہ اللہ کے بیٹے کے گھر سے کتابیں چرالی تھیں۔  (دیکھئےالکامل لابن عدی ج۱ص۲۰۹وسندہ صحیح)
۲: ابن عقدہ رافضی کا استاد محمد بن احمد بن الحسن القطوانی نامعلوم (مجہول) ہے۔
۳: قطوانی کا استاد ابراہیم بن انس الانصاری نامعلوم ہے۔
4: انصاری کا استاد ابراہیم بن جعفر بن عبد اللہ بن محمد بن مسلمہ نامعلوم ہے۔
مجہول راوی کی روایت موضوع ہونے کیلئے دیکھئے: حافظ ذہبی کی تلخیص المستدرک (۶۰/۳ح۴۳۹۹)
خلاصۃ التحقیق یہ ہے کہ روایتِ مذکورہ موضوع ہے، لہٰذا بغیر جرح کے اس کا بیان کرنا حلال نہیں ہے۔


 
2: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (سیدنا) علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
ھوأنت وشیعتک یوم القیامة راضین  مرضین
” وہ لوگ تم اور تمہارے شیعہ ہیں۔ قیامت کے روز خوش اور خوشنود کیے گئے“
 (شیعیت کا مقدمہ ص۵۱ بحوالہ ابن مردویہ، ابونعیم فی الحلیہ، 
الدیلمی فی فردوس الاخبار اور السیوطی فی الدرالمنثور)
موضوع(من گھڑت): ٭ابن مردویہ کی کتاب نامعلوم یعنی مفقود ہے۔
٭درمنثور (۳۷۹/۶) میں یہ روایت بحوالہ ابن عدی مذکور ہے۔
٭اور الکامل لابن عدی، حلیۃ الاولیاء لابی نعیم، الفردوس للدیلمی تینوں کتابوں میں نہیں ملی، لہٰذا یہ بے سند ہونے کی وجہ سے مردود اور باطل ہے۔
٭حافظ ابن تیمیہ نے فرمایا: "ھو کذب موضوع باتفاق أھل المعرفة بالمنقولات” روایات کے ماہرین کا اتفاق (اجماع) ہے کہ یہ روایت جھوٹی من گھڑت ہے۔ (منہاج السنۃ النبویہ ج۴ص۷۰)
٭حافظ ذہبی نے فرمایا: "وان کنا جازمین بوضعه" اور اگر چہ بطورِ جزم اسے موضوع (جھوٹی من گھڑت روایت) سمجھتے ہیں۔ (المنتقیٰ من منہاج السنۃ ص۴۵۹)
خلاصہ یہ کہ اہلِ سنت کے نزدیک یہ روایت جھوٹی اور موضوع ہے، لہٰذا ابن عدی، ابن مردویہ یا کسی امرتسری کا نام لے کر اسے عوام کے سامنے بیان کرنا حرام ہے۔


3: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
ألم تسمع قول اللہ تعالیٰ: ان الذین آمنوآ وعملوا الصٰلحٰت اولئٰک ھم خیر البریة؟  أنت وشیعتک وموعدکم الحوض ۔ ۔ ۔
” یاعلی! کیا تُو نے اللہ کے فرمان کو نہیں سنا کہ تحقیق جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ سب سے بہترین مخلوق ہیں۔ وہ لوگ تم اور تمہارے شیعہ ہیں۔ میرا اور تمہارا وعدہ گاہ حوض کوثر ہے
 (شیعیت کا مقدمہ ص۵۲بحوالہ ابن مردویہ، خوارزمی اور درمنثور)
موضوع(من گھڑت): ٭ابن مردویہ کی کتاب مفقود ہے اور درمنثور (۳۷۹/۶) میں یہ روایت بحوالہ ابن مردویہ مذکور ہے، لہٰذا اس کی سند نامعلوم ہے۔
٭خوارزمی کے بارے میں دیکھئے حدیث سابق: ۱
خلاصہ یہ کہ یہ روایت بے سند ہونے کی وجہ سے موضوع ومردود ہے۔



4:سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی (رضی اللہ عنہ) سے فرمایا:
أبشر یا علي! أنت وشیعتک فی الجنة
” یا علی! خوش ہو تو اور تیرے شیعہ جنت میں ہوں گے۔ “
(شیعیت کا مقدمہ ص ۵۲ بحوالہ فخر الاسلام نجم الدین ابوبکر بن محمد بن حسین السنبلانی المرندی فی مناقب صحابہ)
موضوع(من گھڑت): نجم الدین سنبلانی مرندی کا کوئی اتا پتا معلوم نہیں اور اگر یہ واقعی کوئی قابلِ ذکر شخص تھا تو پھر اس سے لے کر سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہما تک سند نامعلوم ہے،  لہٰذا یہ روایت موضوع ہے۔

تنیبہ: امینی صاحب نے یہ چار موضوع روایات پیش کرکے لکھا ہے: "مزید تفصیل دیکھنے کے خواہشمند ارجح المطالب ص۶۵۷تاص۶۵۹ طبع قدیم کی طرف رجوع کریں۔" (شیعیت کا مقدمہ ص۵۲)
عرض ہے کہ کیا یہ چار موضوع اور جھوٹی روایتیں تھوڑی ہیں کہ لوگ عبیداللہ امرتسری (؟) کی ناقابلِ اعتماد اور خزینۂ موضوع کتاب: ارجح المطالب کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کئے  جارہے ہیں؟
ایسی کتاب کی طرف رجوع کرنے کا کیا فائدہ؟ کہ آپ نے جس کی طرف خوب رجوع کرکے اس میں سے چار جھوٹی روایات کی شکل میں جو "مکھن" نکالا ہے، علمی میدان اور اہلِ سنت  کے اصولوں پر اس کی کوئی حیثیت نہیں، بلکہ اس کا وجود اور عدمِ وجود برابر ہے۔
ہم آپ کو اور تمام مسلمانوں کی وصیت اور نصیحت کرتے ہیں کہ حق دیکھنے کے خواہشمند کے چائیے کہ قرآن مجید، صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی طرف رجوع کریں ، اور ان شاء اللہ اس میں آپ لوگوں کا بہت فائدہ ہوگا، بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم شاملِ حال رہے۔
دوسری تمام کتابوں کی اسانید ومتون کی اصولِ حدیث اور علمِ اسماءالرجال کی رُو سے تحقیق کرنے اور ثبوت کے بعد ہی اُن سے استدلال جائز ہے۔