تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label طب سے متعلق. Show all posts
Showing posts with label طب سے متعلق. Show all posts

Thursday, December 31, 2015

٭ اولاد کی کمی ہو تو پیاز کھاؤ

اولاد کی کمی ہو تو پیاز کھاؤ


شَكَا رَجُلٌ قِلَّةَ الْوَلَدِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْكُلَ الْبَيْضَ وَالْبَصَلَ.
"ایک آدمی نے اولاد کی کمی کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے اسے انڈا اور پیاز کھانے کا حکم دیا۔ "


ایک دوسری رویت میں ہے کہ:


عَلَيْكُمْ بِالْبَصَلِ فَإِنَّهُ يُطَيِّبُ النُّطْفَةَ ، وَيُصْبِحُ الْوَلَدَ .
"پیاز ضرور استعمال کرو کیونکہ یہ نطفہ صاف کردیتا ہے اور بچہ پیدا ہوجاتاہے۔"

موضوع (من گھڑت): یہ جھوٹی اور من گھڑت روایت ہے۔

۱: : امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ (۱۶/۳)

۲: علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے۔ (الفوائد المجموعة: ص ۱۳۷)

۳: ملا علی قاری (الاسرار المرفوعة:ص۴۳۹)، امام ابن قیم (المنار المنیف: ص ۶۴) اور   علامہ طاہر پٹنی  (تذکرة الموضوعات: ۱۳۴) رحمہم اللہ  نے بھی اسے موضوعات کے ضمن میں ذکر کیا ہے.

٭جبکہ دوسری روایت کوعلامہ طاہر پٹنی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات میں شمار کیا ہے۔(تذکرة الموضوعات: ص۱۴۹)


تنبیہ: یہ بات کسی طبیب کی تو ہوسکتی ہے لیکن نبی کریم ﷺ سے ایسی کوئی حدیث یا حکم ثابت نہیں۔

Saturday, October 31, 2015

٭ ہفتے کے روز ناخن کاٹنا شفاء کا ذریعہ

ہفتے کے روز ناخن کاٹنا شفاء  کا باعث


من قلم أظفارہ یوم السبت خرج منه الداءُ و دخل فیه الشفاء.
"جس نے بروز ہفتہ ناخن کاٹے اس سے بیماری نکل جاتی ہے اور اس میں شفاء داخل ہوجاتی ہے۔"


موضوع (من گھڑت): یہ جھوٹی اور من گھڑت روایت ہے۔
۱:  امام شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ روایت موضوع ہے کیونکہ اس کی سند میں دو راوی حدیثیں گھڑنے والے ہیں اور کچھ مجہول بھی ہیں۔ (الفوائد المجموعة: ص۱۹۷)

:امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے بھی اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ (۵۳/۳

فائدہ:ناخن کاٹنے (تراشنے) سنت ہیں۔ اور ان کو کاٹنے کے لئے کوئی دن یا مخصوص طریقہ نبی کریم سے ثابت نہیں ہے۔ جس طرح آسانی ہو آپ تراش سکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ چالیس دن مدت ہے۔ اس سے زیادہ دن گزرنے پر ناخن نہ تراشنا گناہ ہے۔

ناخن تراشنا فطرت ہے:سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"پانچ چیزیں فطرت ہیں؛ ۱: ختنہ  ۲: زیر ناف بالوں کی صفائی   ۳: مونچھیں ہلکی کرنا   ۴: ناخن تراشنا    ۵: بغلوں کے بال اکھاڑنا۔" (صحیح البخاری: ۵۸۹۱، صحیح مسلم: ۲۵۷)

چالیس دن کے اندر ناخں تراشنا: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"رسول اکرم ﷺ نے ہمارے لیے مونچھیں کاٹنے ، ناخن تراشنے،        بغلوں کے بال اکھاڑنے اور  زیر ناف بالوں کی صفائی کا (زیادہ سے زیادہ) وقت چالیس دن مقرر فرمایا۔" (صحیح مسلم: ۲۵۸)
چالیس دنوں سے زیادہ ناخن نہ تراشنا حرام و ناجائز ہے، کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ کے حکم اور سنت کی مخالفت ہے، جو سراسر ہلاکت و بربادی کا باعث ہے۔

ناخن تراشنا سنت ہے:سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مونچھیں کاٹنا، بغلوں کے بال اکھڑنا اور ناخن تراشنا (واجبی) سنت ہے۔" (السنن الکبریٰ للبیھقي: ۱۴۹/۱، وسندہ صحیح)

Monday, February 24, 2014

٭ سینگی (حجامہ) لگوانے سے متعلق ضعیف روایات

1: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عن ليلة، أسري به أنه لم يمرعلى ملإٍمن الملائكةإلاأمروه أن مرأمتَك بالحجامة .
"جس رات مجھے معراج ہوئی، میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرا، وہ سب  مجھے یہی کہتے رہے: اے محمد (ﷺ)! سینگی لگوایا کریں۔" (سنن الترمذی:2052، سنن ابن ماجہ: 3477 ، المستدرک للحاکم: 209/4)
ضعیف: ٭سنن الترمذی کی سند میں عبد الرحمٰن بن اسحاق الکوفی الواسطی ضعیف ہے۔
٭جبکہ سنن ابن ماجہ اور المستدرک للحاکم کی سند میں عباد بن منصور ضعیف ہے۔
٭ اور یہ  روایت اپنے تمام طرق و شواہد کے ساتھ ضعیف ہی ہے۔

2:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "سینگی لگانے والا اچھا بندہ ہے۔ خون لے جاتا ہے، کمر ہلکی کرتا ہے اور بینائی تیز کرتا ہے۔" (سنن ترمذٰ: 2053، سنن ابن ماجہ: 3478، المستدرک للحاکم: 212/4)
ضعیف: ٭ عباد بن منصور راوی ضعیف راوی ہے۔

3:سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے نازل ہوکر نبی کریم ﷺ کو گردن کی رگوں پر اور دونوں کندھوں کے درمیان سینگی لگوانے کی ہدایت کی۔ (سنن ابن ماجہ: 3482)
ضعیف: ٭ اس میں اصبغ بن نباتہ متروک راوی ہے۔

4: سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے گردن کی رگوں اور کندھوں کے درمیان سینگی لگوائی۔ (سنن ابن ماجہ:3483، سنن ابی داود:3860، سنن الترمذی: 2051)
ضعیف: اس میں قتادہ مشہور مدلس ہیں اور روایت عن سے ہے ، سماع کی تصریح بھی نہیں، لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے۔
5: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہار منہ سینگی لگوانا زیادہ مفید ہے، اس سے عقل میں اضافہ اور حافظہ تیز ہوتا ہے اور اچھی یادداشت والے کی یاد داشت بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔ جس نے سینگی لگوانے ہو وہ اللہ کا نام لے کر جمعرات کو لگوائے۔۔ جمعہ ، ہفتہ اور اتوار کو سینگی لگوانے سے اجتناب کرو۔ سوموار اور منگل کو سینگی لگوالیا کرو۔ بدھ والے دن بھی سینگی لگوانے سے بچو، کیونکہ ایوب علیہ السلام کو اسی دن آزمائش آئی تھی۔ جذام اور برص صرف بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں ظاہر ہوتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ: 3488)
ضعیف: اس روایت کی سند میں عبد اللہ بن عصمتہ اور سعید بن میمون دونوں مجہول ہیں۔