تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label جمعہ سے متعلق. Show all posts
Showing posts with label جمعہ سے متعلق. Show all posts

Thursday, January 05, 2017

جمعہ یا شب جمعہ سورہ الدخان کی تلاوت کرنا


جمعہ یا شب جمعہ سورہ الدخان کی تلاوت کرنا ، شب جمعہ کی فضیلت، ضعیف احادیث
www.facebook.com/DaeefHadiths

جمعہ یا شب جمعہ سورۂ الدخان کی تلاوت کرنا


"من قرأ حم الدخان في لیلة الجمعة أو یوم الجمعة بنی اللہ له بیتا فی الجنة."

جس نے جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن سورهٔ حم الدخان کی تلاوت کی اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائیں گے۔

(المعجم الکبیر: ۲۶۴/۸، حدیث: ۸۰۲۶)

سخت ضعیف: یہ روایت سخت ضعیف ہے:

٭امام ہیثمی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس میں فضال بن جبیر راوی "بہت زیادہ ضعیف" ہے۔ (مجمع الزوائد: ۳۰۱۷)

٭محدث العصر علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو سخت ضعیف  کہا ہے۔ (ضعیف الترغیب، ۴۴۹، ضعیف الجامع الصغیر: ۵۷۶۸، سلسلة الأحادیث الضعیفة: ۵۱۱۲)

Thursday, March 12, 2015

٭ نمازِ جمعہ سے قبل ناخن کاٹنا

Zaeef Hadiths, Weak and Fabricated Hadiths, silsala Ahadees az Zaeefa, ضعیف احادیث، جھوٹی احادیث

 
من قلم أظافیرہ یوم الجمعة قبل الصلاۃِ، أخرج اللہ منه کلَّ داء، وأدخل مکانَه الشفاء و الرَّحمة
"جس نے جمعہ کے دن نماز جمعہ  سے قبل ناخن کاٹے، اللہ اس سے ہر بیماری کو دور فرما دیتا ہے، اور اس کے گھر میں شفا اور رحمت داخل کردیتا ہے۔"
(أبو نعيم "أخبار أصبھان ": ۲۴۷/۱)

سخت ضعیف: یہ روایت سخت ضعیف ہے کیونکہ :
۱: اس کا راوی طلحہ بن عمر "متروک" ہے۔(تقریب التہذیب: ۳۰۳۰)
٭ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "لا شيء متروک" ،  ٭ ابن معین رحمہ اللہ نے اسے  "ضعیف" قرار دیا ہے۔  ٭ امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے کہا: "لیس بالقوی لین الحدیث عندھم"، ٭امام ابو زرعہ الرازی رحمہ  اللہ نے بھی اسے "ضعیف" قرار دیا ہے۔  (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم:۲۰۹۷)
٭ مزید دیکھئے: ( سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة : ۲۰۲۱)

فائدہ:ناخن کاٹنے (تراشنے) سنت ہیں۔ اور ان کو کاٹنے کے لئے کوئی دن یا مخصوص طریقہ نبی کریم سے ثابت نہیں ہے۔ جس طرح آسانی ہو آپ تراش سکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ چالیس دن مدت ہے۔ اس سے زیادہ دن گزرنے پر ناخن نہ تراشنا گناہ ہے۔

ناخن تراشنا فطرت ہے:سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"پانچ چیزیں فطرت ہیں؛ ۱: ختنہ  ۲: زیر ناف بالوں کی صفائی   ۳: مونچھیں ہلکی کرنا   ۴: ناخن تراشنا    ۵: بغلوں کے بال اکھاڑنا۔" (صحیح البخاری: ۵۸۹۱، صحیح مسلم: ۲۵۷)

چالیس دن کے اندر ناخں تراشنا: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"رسول اکرم ﷺ نے ہمارے لیے مونچھیں کاٹنے ، ناخن تراشنے،        بغلوں کے بال اکھاڑنے اور  زیر ناف بالوں کی صفائی کا (زیادہ سے زیادہ) وقت چالیس دن مقرر فرمایا۔" (صحیح مسلم: ۲۵۸)
چالیس دنوں سے زیادہ ناخن نہ تراشنا حرام و ناجائز ہے، کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ کے حکم اور سنت کی مخالفت ہے، جو سراسر ہلاکت و بربادی کا باعث ہے۔

ناخن تراشنا سنت ہے:سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مونچھیں کاٹنا، بغلوں کے بال اکھڑنا اور ناخن تراشنا (واجبی) سنت ہے۔" (السنن الکبریٰ للبیھقي: ۱۴۹/۱، وسندہ صحیح)

٭ شبِ جمعہ سورۂ الدخان کی تلاوت

Daeef Hadiths, Zaeef Hadees, ضعیف حدیث، موضوع حدیث، سلسلة الأحادیث الضعیفة

شبِ جمعہ سورۂ الدخان کی تلاوت
 
مَنْ قَرَأَ ﴿حٰم الدُّخَانَ  فِي لَيْلَةِ الْجُمُعَةِ غُفِرَ لَهُ
"جو شخص شب جمعہ کو سورۂ دخان کی تلاوت کرتا ہے تو اسے بخش دیا جاتا ہے۔"
(ترمذی: ۲۸۸۹)

سخت ضعیف: یہ روایت سخت ضعیف ہے، کیونکہ:
۱: اس کا راوی ہشام بن زیاد أبو المقدام "متروک" ہے۔ (تقریب التہذیب: ۷۲۹۲)
٭امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: " ہشام ابو المقدام کو ضعیف قرار دیا گیا ہے۔"
٭ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف  کہا ہے۔ (الضعيفة : 4632،  المشكاة : 2150 /التحقيق الثاني،  ضعيف الجامع الصغير :5767)
٭مزید دیکھئے: الفوائد المجموعة (ص۳۰۲) اور اللآلی المصنوعة (۲۱۵/۱)

Thursday, December 04, 2014

٭ جمعہ کے دن والدین کی قبروں کی زیارت اور سورۂ یٰس کی تلاوت


Daeef Hadiths, Zaeef Hadees, ضعیف حدیث، موضوع حدیث، سلسلة الأحادیث الضعیفة

جمعہ کے دن والدین کی قبروں کی زیارت اور سورۂ یٰس کی تلاوت 

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ:
من زار قبر أبویه أو أحدھما في کل یوم الجمعة فقرأعنده یٰس غفرله
"جو شخص ہر جمعہ کے دن اپنے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کرے
اور وہاں سورۂ یٰس پڑھے تو اس شخص کی مغفرت ہوجائے گی"
(کنز العمال ج۱۶ص۴۶۸ ، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت ۱۴۰۵ھ، ابن عدي عن أبي بکر)

موضوع (من گھڑت): الکامل لابن عدی میں اس روایت کی سند درج ذیل ہے:
"عمروبن زیاد: ثنا یحیی بن سلیم الطائفي عن ھشام بن عروۃ عن أبیه عن عائشة رضی اللہ عنھا عن أبي بکر الصدیق رضی اللہ عنه۔ ۔ ۔ ۔" (ج۵ص۱۸۰۱، دوسرا نسخہ ج۶ص۲۶۰)
٭ یہ روایت بیان کرکے حافظ ابن عدی رحمہ اللہ نے فرمایا: "اور یہ حدیث اس سند کے ساتھ باطل ہے اس کی کوئی اصل نہیں، اور اس کے علاوہ عمروبن زیاد کی بیان کردہ اور روایتیں بھی ہیں جو اس نے ثقہ راویوں سے چرائی ہیں اور ان میں موضوع روایات بھی ہیں جن کے گھڑنے میں یہی متہم ہے۔"
۱:اس کے راوی عمروبن زیاد  کے بارے میں:
٭حافظ ابن عدی نے فرمایا: "منکر الحدیث، یسرق الحدیث و یحدث بالبواطیل" منکر روایتیں بیان کرتا تھا، حدیثیں چوری کرتا تھا اور باطل روایات بیان کرتا تھا۔ (الکامل لابن عدی: ۱۸۰۰/۶، ۲۵۹/۶)
٭امام دارقطنی نے فرمایا: "عمر بن زیاد الثوباني: یضع الحدیث" (الضعفاء والمتروکون: ۳۹۱ص۳۰۵)
٭حافظ ذہبی نے  بھی اس راوی کو ایک روایت کا گھڑنے والا قرار دیا ہے۔ (میزان الاعتدلال: ۲۶۱/۳ت۶۳۷۱)
نیز فرمایا: "وضاع" (تلخیص کتاب الموضوعات للذہبی: ۲۰۶/۱ح۹۴۰ بحوالہ شاملہ)
اور فرمایا: "وھو کذاب" (تلخیص کتاب الموضوعات للذہبی: ۹۰/۱ح۳۳۰، شاملہ)
٭ابن الجوزی نے فرمایا: "اور ہم نے تھوڑی دیر پہلے بتایا ہے کہ ثوبانی کذاب تھا۔" (الموضوعات لابن الجوزی:۳/۲، دوسرا نسخہ: ۲۳۰/۲)
تنبیہ: ایک اور راوی ہے جسے عمروبن زیاد الباہلی کہتے ہیں، یہ رے (شہر) میں گیا تھا۔
یہ مصری یا بصری شخص ہے اور اسے ابن حبان نے کتاب الثقات میں ذکر کیا۔ (۴۸۸/۸)
جبکہ اسی باہلی کے بارے میں امام ابو حاتم الرازی نے فرمایا:"وہ حدیثیں گھڑتا تھا۔۔۔۔ اور وہ کذاب افاک (بہت بڑا جھوٹا مفتری)تھا۔" (کتاب الجرح والتعدیل: ۲۳۴/۳ت۱۲۹۴)
حافظ ابن حجر کا خیال ہے کہ الباہلی اور الثوبانی ایک ہی ہے۔ (دیکھئے لسان المیزان: ۳۶۴/۴، دوسرا نسخہ: ۳۰۵/۵)
لیکن انھوں نے کوئی واضح دلیل پیش نہیں کی، لہٰذا ان کا یہ دعویٰ محلِ نظر ہے۔
بشرط صحت اگر ان دونوں کو ایک ہی راوی تسلیم کرلیا جائے تو حافظ ابن عدی، امام ابو حاتم الرازی اور امام دارقطنی وغیرہم (جمہور) کی شدید جروح وتکذیب کے مقابلے میں ابن حبان کی یہ توثیق مردود ہے۔
٭اس موضوع روایت میں بعض الفاظ کے موضوع و مردود شواہد بھی ہیں، لیکن علمی  وتحقیقی میدان میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔

٭ جمعہ کی رات یا دن مرنے والے پر شہداء کی مہر


جمعہ کی رات یا دن مرنے والے پر شہداء کی مہر
 
رسول اللہ ﷺ سے منسوب ہے کہ:
"جو شخص جمعہ کی رات کو یا جمعہ کے دن کو فوت ہوا اس کو عذاب قبر سے محفوظ رکھا جائے گا
اور جب وہ قیامت کے دن آئےگا تو اس پر شہداء کی مہر لگی ہوگی"
(حلیۃ الاولیاء: ج۳ص۱۵۵)
 
موضوع (من گھڑت): اس روایت کی سند درج ذیل ہے: "عمر بن موسی بن الوجیه عن محمد بن المنکدر عن جابر قال قال رسول اللہﷺ۔۔۔"
۱: اس کا راوی عمر بن موسیٰ الوجیہی "کذاب" اور "وضاع" ہے، جیسا کہ:
٭امام یحییٰ بن معین نے فرمایا: "کذاب لیس بشئي" وہ کذاب ہے، کوئی چیز نہیں۔ (سوالات ابن الجنید: ۵۳۵)
٭ابو حاتم الرازی نے فرمایا: "متروک الحدیث، ذاھب الحدیث، کان یضع الحدیث" (کتاب الجرح والتعدیل: ۱۳۳/۶ت۷۲۷)
٭اسماعیل بن عیاش نے عمر بن موسیٰ الوجیہی سے کہا: تو نے خالد بن معدان سے کس سن میں سنا تھا؟ اس نے کہا: ۱۰۸ھ میں۔ اسماعیل بن عیاش نے فرمایا: تو نے اُن کی وفات کے چار سال بعد سنا ہے!!
پھر پوچھا: تو نے اُن سے کہاں سنا تھا؟ اس نے کہا: ارمینیہ اور آذربائیجان میں۔ انھوں نے فرمایا: وہ کبھی ارمینیہ اور آذر بائیجان میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ (کتاب الجرح والتعدیل: ۱۳۳/۶، وسندہ حسن)
٭حافظ ابن عدی نے فرمایا: "اور ضعیف راویوں میں اس کا معاملہ واضح ہے، وہ ان لوگوں میں شامل ہے جو سند اورمتن کے لحاظ سے حدیثیں گھڑتے تھے۔" (الکامل: ۱۶۷۳/۵، دوسرا نسخہ: ۲۳/۶)
٭حافظ ذہبی نے فرمایا: "وضاع" وہ احادیث گھڑنے والا ہے۔ (تلخیص المستدرک: ۱۲۴/۳ح۴۶۲۶)
٭ہیثمی نے فرمایا: "وھو کذاب " (مجمع الزوائد:۴۹/۸)
اور فرمایا: "وھو وضاع" (مجموع الزوائد: ۱۳۵/۵)
٭حافظ ابن حبان نے فرمایا: "وہ مشہور راویوں سے منکر روایتیں بیان کرتا تھا، پھر جب اس کی راویتوں میں ثقہ راویوں سے ایسی راویتوں کی کثرت ہوگئی جو ثقہ راویوں کی روایات کے مشابہ نہیں تو وہ عدالت سے نکل گیا  پھر متروک قررار دیئے جانے کا مستحق ٹھرا۔" (کتاب المجروحین: ۸۶/۲، دوسرا نسخہ: ۵۸/۲)
٭امام بخاری نے فرمایا: "منکر الحدیث" (التاریخ الکبیر: ۱۹۷/۶، الکامل لابن عدی: ۱۶۷۰، دوسرا نسخہ: ۱۳/۶، وسندہ صحیح)
٭سیوطی نے بھی سخت متساہل اور حاطب اللیل ہونے کے باوجود لکھا: "یضع" وہ (حدیثیں) گھڑتا تھا۔ (اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ:۴۱۲/۲)

Sunday, November 02, 2014

٭ عمامہ باندھ کر جمعہ پڑھنا


Zaeef Hadees, Hadiths, silsila ahadees azeefa, ضعیف حدیث، موضوع حدیث

عمامہ باندھ کر جمعہ پڑھنا
 
ان اللہ وملائکة یصلون علی اصحاب العمائم یوم الجمعة
اللہ تعالیٰ رحمت کرتا ہے اور اس کے فرشتے دعائیں کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے
 جو جمعہ کے روز پگڑی باندھتے ہیں
(طبرانی۔ عن ابی الدرداء رضی اللہ عنہ)
موضوع (من گھڑت) :اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن مدرک ہے،  جسے امام یحیٰ بن معین رحمہ اللہ نے "کذاب"، امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ، امام نسائی رحمہ اللہ اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے "متروک"، امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللہ، امام یعقوب بن سفیان جوزجانی رحمہ اللہ، امام صالح بن محمد جزرہ اور امام ابنِ عدی رحمہمااللہ وغیرہم نے "ضعیف"  کہا ہے۔
٭ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ایوب بن مدرک نے امام مکحول سے ایک من گھڑت نسخہ روایت کیا ہے، ان کو دیکھا نہیں۔" (لسان المیزان لابن حجر: ۴۸۸/۱)
٭ابن الجوزی نے بھی اس روایت کو موضوعات میں ذکر کیا او رلکھا کہ اس کی کوئی اصل نہیں۔ نیز اس کے بیان کرنے میں ایوب متفرد ہے، جس کے متعلق ازدی لکھتے ہیں کہ یہ روایت اس کی خود ساختہ ہے۔ دیکھئے فیض القدیر:2؍270

Monday, May 19, 2014

٭ جمعہ کے دن دو سو بار درود پڑھنا



Zaeef Hadees, Hadiths, silsila ahadees azeefa, ضعیف حدیث، موضوع حدیث

جمعہ کے دن دو سو بار درود پڑھنا

من صلى على يوم الجمعة مائتى صلاة غفر له ذنب مائتى عام.
جس نے مجھ پر روزِ  جمعہ دو سو بار درود پاک پڑھا اس کے دو سو سال کے گنا معاف ہوں گے۔“
(الديلمى عن أبى ذر) (جمع الجوامع أو الجامع الكبير للسيوطي ص: 23418)
(فیضانِ جمعہ ص 1بحوالہ جمع الجوامع للسیوطی ج 7 ص 199 حدیث 22353)
 
ضعیف:  یہروایت ضعیف ہے ۔
٭یہ روایت دیلمی کے حوالہ سے منقول ہے  اور دیلمی کی کتاب کا جو حصہ موجود ہے اس میں ہمیں یہ روایت نہیں ملی ۔
٭ البتہ امام سخاوی نے اسے اپنی کتاب میں نقل کیا اور اسے ضعیف قرار دیتے ہوئے کہا:ولا يصح
یہ صحیح نہیں ہے(القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع ص: 196)

Thursday, May 08, 2014

٭ نماز جمعہ مسکینوں کا حج ہے



جمعہ مسکینوں کا حج، ضعیف احادیث، سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة


"
الجُمُعَةُ حَجُّ المَسَاکِینِ."
 نماز جمعہ مسکینوں کا حج ہے۔
(جمع الجوامع للسیوطی: ج۴ص ۸۴ حدیث ۱۱۱۰۹ ، ۱۱۱۰۸)

موضوع (من گھڑت): یہ من گھڑت روایت ہے۔
٭امام سبکی رحمہ اللہ کے بیان کے مطابق اس کی کوئی اصل نہیں۔ (أحادیث الاحیاء التی لا أصل لہا : ص ۵۰)
٭شیخ حوت فرماتے ہیں کہ : اس کی سند میں مقاتل راوی ضعیف ہے۔ (أسنی المطالب : ص ۱۲۱)
٭امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں۔ (الفوائد المجموعۃ : ص ۴۳۷)
٭امام صغانی رحمہ اللہ نے اسے  موضوعات میں ذکر کیا ہے۔(موضوعات: ص ۵۰)
٭حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند  ضعیف ہے۔ (تخریج الاحیاء : ۲۶۱/۸)
٭ محدث البانی رحمہ اللہ نے اسے موضوع قرار دیا ہے۔ (سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة: ۱۹۱)

٭ بروز جمعہ والدین کی قبروں کی زیارت کا ثواب

Zaeef Hadiths, Weak and Fabricated Hadiths, Tahqeeq e Hadith, ضعیف احادیث، سلسلة الأحادیث الضعیفة، جھوٹے واقعات

 
من زار قبر أبو يه أو أحدهما في كل جمعة غفر له وكتب برا
"جو اپنے والدین یا ایک کی قبر پر ہر جمعہ کے دن زیارت کو حاضر ہو ، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دےگااور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والا لکھا جائے۔"
(بیہقی(شعب الإیمان:۱/۷۹۰۱)، طبرانی (الصغیر:۶۹/۲ح۹۶۹))

موضوع (من گھڑت) : یہ روایت من گھڑت ہے کیونکہ:
۱: اس کا راوی محمد بن النعمان أبو الیمان "مجہول" ہے۔ (الجرح و التعدیل: ۱۰۸/۸)
۲: اس کا دوسرا راوی یحی بن العلاء "متروک" اور "متہم" ہے۔
۳:  اور اس کا تیسرا راوی عبد الکریم أبی أمیہ "ضعیف" راوی ہے۔
٭علامہ سیوطی اور شیخ البانی نے اس روایت کو موضو ع کہا ہے۔ (اللآلی المصنوعۃ : ۳۶۶/۲) ( السلسلۃ الضعیفۃ : ۴۹ )
٭امام ہیثمی نے فرمایا ہے کہ اس کی سند میں عبد الکریم ابو امیہ راوی ضعیف ہے۔ (مجمع الزوائد:  ۱۸۹/۳)
٭حافظ عراقی نے کہا ہے کہ اس کی سند میں محمد بن نعمان راوی مجہول ہے (تخریج الاحیاء :  ۴۰۲/۹)

Wednesday, February 05, 2014

٭جمعہ کے دن سورۃ آل عمران کی تلاوت

Daeef Hadiths, Zaeef Hadees, ضعیف حدیث، موضوع حدیث، سلسلة الأحادیث الضعیفة

جمعہ کے دن سورۃ آل عمران کی تلاوت
 
ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"جمعہ کے دن جس نے بھی سورۃ آل عمران پڑھی اس پر اللہ تعالی اوراسکے فرشتے غروب شمس تک رحمتیں بھیجتے ہیں۔"
(المعجم الاوسط: ۱۹۱/۶ ، معجم الکبیر : ۴۸/۱۱ )

موضوع (من گھڑت) :
٭اس کے متعلق علامہ ھیثمی کا کہنا ہے کہ : اسے طبرانی نےالمعجم الاوسط اور معجم الکبیرمیں روایت کیا ہے ،اس کی سند میں طلحۃ بن زید الرقی ”ضعیف“ ہے ۔ مجمع الزوائد ( ۱۶۸/۲)
٭اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ : طلحۃ  ”سخت ضعیف“ ہے ، بلکہ امام احمد اور ابوداود رحمہما اللہ نے تواس کی طرف وضع کی نسبت کی ہے ۔ فیض القدیر ( ۱۹۹/۶)
٭شیخ علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کوموضوع قرار دیا ہے دیکھیں ضعیف الجامع حدیث نمبر ( ۵۷۵۹ )
دوسری روایت: اور ایسے ہی اس ( سورۃ آل عمران ) کے بارہ میں تمیمی رحمہ اللہ تعالی نے " الترغیب " میں یہ حدیث روایت کی ہے : 
” جس نے جمعہ کی رات سورۃ آل عمران پڑھی اسے اتنا اجر ملے گا جتنا کہ بیداء یعنی ساتویں زمین اور عروب یعنی ساتویں آسمان کے درمیان فاصلہ ہے )
٭اس حدیث کے بارہ میں مناوی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ یہ غریب اور بہت ہی ضعیف ہے ۔ دیکھیں فيض القدیر ( ۱۹۹/۶ )
جمعہ کے دن سورۃ آل عمران کی تلاوت کرنے کے متعلق جتنی بھی احادیث وارد ہیں ان میں کوئی ایک بھی صحیح نہیں بلکہ یا تووہ ضعیف یاپھر موضوع ہیں ۔