تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label عمامہ کی فضیلت. Show all posts
Showing posts with label عمامہ کی فضیلت. Show all posts

Tuesday, October 27, 2015

٭عمامہ باندھ کر نماز پڑھنے کی فضیلت

عمامہ باندھ کر نماز پڑھنے کی فضیلت

صَلَاۃٌ عَلَی کَوٌرِ الٗعَمَامَةِ یَعٗدِلُ ثَوَابُهَا عِنٗدَ اللہِ غَزٗوَۃ فِی سَبِیٗلِ اللهِ.
پگڑی  کے بَل پر نماز کا ثواب اللہ کے ہاں جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہے۔“


موضوع (من گھڑت): یہ جھوٹی اور من گھڑت روایت ہے۔
٭علامہ ابن عراق  رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اسے ابراہیم بن عبد اللہ بن ہمام راوی نے گھڑا ہے۔ (تنزیعہ الشریعة: ۱۴۲/۲)

٭ابن طاہر المقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم راوی منکر الحدیث ہے۔ (ذخیرۃ الحفاظ: ۳۴۰۸)

Tuesday, November 18, 2014

٭ سبز عمامہ باندھنا


سبز عمامہ باندھنا 
سلیمان بن ابی عبد اللہ سے روایت ہے کہ:
أَدْرَكْتُ  الْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ يَعْتَمُّونَ بِعَمَائِمَ كَرَابِيسَ سُودٍ وَبِيضٍ وَحُمْرٍ وَخُضْرٍ وَصُفْرٍ
”میں نے پہلے مہاجرین کو دیکھا ہے، وہ موٹے سوتی کپڑے کے کالے، سفید، سرخ، سبز اور زرد عمامے باندھتے تھے۔۔۔“                           (مصنف ابن ابی شیبہ: ۲۴۱/۸ح۲۴۹۷۷)
ضعیف: اس کا راوی سلیمان بن ابی عبد اللہ مجہول الحال ہے، امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، لیکن:
٭ عقیلی رحمہ اللہ نے کہا: "مجھول بالنقل" (الضعفاء الکبیر: ۶۵/۴)
٭ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے کہا: "لیس بالمشھور فیعتبر بحدیثه" (الجرح و التعدیل: ۱۲۷/۴)
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے کہا: "لا یدری من ھو" یہ معلوم نہیں کہ وہ کون ہے؟ (تاریخ الاسلام: ۲۶۵/۹)
٭ امام احمد نے  سلیمان مذکور کی حدیث ِعمامہ کے بارے میں کہا: "ما أدري ماھو" مجھے پتا نہیں کہ یہ کیا ہے؟ (مسائل احمد واسحاق روایۃ اسحاق بن منصور الکوسج: ۵۶۸/۲فقرہ: ۳۴۰۱)


فائدہ:کالا اور سفید عمامہ باندھنا حدیث سے ثابت ہے۔ (دیکھئے صحیح مسلم: ۱۳۵۹، المستدرک: ۵۴۰/۴)
غلام رسول سعیدی بریلوی نے سبز عمامے کو جائز قرار دینے کے باوجود لکھا ہے:
"اب ایک گمراہ فرقہ یعنی دیندار جماعت نے بھی سبز عمامہ باندھنا شروع کردیا ہے اور اس کو اپنی علامت بنالیا ہے اس فرقہ کی تعداد بہت کم ہے ۔ ۔ ۔ ۔ " (شرح صحیح مسلم ج ۶ص۳۸۲)

Monday, November 03, 2014

٭ ستر رکعتوں سے بہتر رکعتیں


ستر رکعتوں سے بہتر رکعتیں
 
رَكْعَتَانِ بِعِمامَةٍ خَيْرٌ مِنْ سَبْعِينَ رَكْعَةً بِلا عِمامَةٍ
"عمامہ باندھ کر پڑھی گئی دو رکعتیں، بلا عمامہ پڑھی گئی ستر رکعتوں سے بہتر ہیں"
(الدیلمی في "مسند الفردوس ": ۲/۲۶۵، رقم/۳۲۳۳)
 موضوع (من گھڑت):اس کی سند میں ایک راوی طارق بن عبد الرحمٰن ہے جسے علامہ مناوی رحمہ اللہ نے ضعیف ثابت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : "امام ذہبی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب الضعفاء میں ذکر کیا ہے اور  فرمایا ہے کہ :یہ غیر معروف ہے۔ اور امام نسائی فرماتے ہیں کہ: یہ قوی نہیں ہے۔" ( فيض القدير :۴/۴۹)
٭امام سخاوی رحمہ اللہ رحمہ اللہ نے اس روایت کے بارے میں فرمایا ہے کہ: "یہ حدیث ثابت نہیں ہوتی۔ یعنی صحیح نہیں ہے" (المقاصد الحسنة:ص۴۰۶)
٭علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس رویت کو موضوع قرار دیا ہے۔ (السلسلة الضعيفة : ۱۲۸، ۵۶۹۹)
٭ شیخ ابن باز رحمہ اللہ اس روایت کے بار ےمیں فرماتے ہیں: "اس کی کوئی اصل نہیں، یہ نبی کریمﷺ پر جھوٹی گھڑی گئی ہے"

٭ ہمارے اور مشرکین کے مابین فرق


ہمارے اور مشرکین کے مابین فرق
 
فَرْقُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلاَنِسِ
"ہمارے اور مشرکین کے مابین فرق یہ ہے کہ ہم ٹوپی پر عمامہ باندھتے ہیں"
(ابی داود: ۴۰۷۸، ترمذی: ۱۷۸۴)
 ضعیف: اس روایت کی سند ضعیف ہے،
٭ا س کے راوی أبو الحسن العسقلانی اور أبو جعفر "مجہول " ہیں۔(تقریب التھذیب: ۸۰۴۸، ۸۰۱۶)
٭ امام ترمذی رحمہ اللہ یہ روایت  بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں: "یہ حدیث غریب ہے اس کی سند قوی نہیں۔ ابو حسن عسقلانی اور ابن رکانہ کو ہم نہیں جانتے" (سنن الترمذی: ۱۷۸۴)
٭ علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی  اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ (المشكاة : 4340 ، الإرواء :1503 ،  ضعيف الجامع الصغير :3959 ، ضعيف أبی داود :882 / 4078)

٭ دس ہزار نیکیوں کے برابر ثواب

دس ہزار نیکیوں کے برابر ثواب
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ:
اَلصَّلوٰۃُ فِی العِمَامَةِ تَعدِلُ بِعَشَرَۃِ آلاَفِ حَسَنَة
"عمامہ باندھ کر نماز پڑھنا دس ہزار نیکیاں کرنے کے برابر ہے"
(ذیل الاحادیث الموضوعہ: ص۱۱۱ بحوالہ مسند الفردوس للدیلمی)
موضوع (من گھڑت) :
٭علامہ سیوطی نے اس روایت کو "ذیل الاحادیث الموضوعہ" میں نقل کیا ہے اور اس کی سند کے ایک راوی ابان کو "متہم" لکھا ہے۔
٭ابن عراق رحمہ اللہ نے  بھی"تنزیعه الشریعه"  (۲۵۷/۲) میں علامہ سیوطی کی متابعت کرتے ہوئے  اس  روایت کے راوی ابان کو متہم قرار دیا ہے۔
٭حافظ سخاوی رحمہ اللہ نے اس روایت کو "من گھڑت"  کہا ہے۔ (المقاصد الحسنة: ص۱۲۴)
٭ملا علی قاری نے  شیخ ضوفی مالکی کے حوالے سے لکھا ہے : "کہ یہ روایت باطل ہے۔" (موضوعات: ص۵۱)

Sunday, November 02, 2014

٭ عمامہ باندھ کر جمعہ پڑھنا


Zaeef Hadees, Hadiths, silsila ahadees azeefa, ضعیف حدیث، موضوع حدیث

عمامہ باندھ کر جمعہ پڑھنا
 
ان اللہ وملائکة یصلون علی اصحاب العمائم یوم الجمعة
اللہ تعالیٰ رحمت کرتا ہے اور اس کے فرشتے دعائیں کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے
 جو جمعہ کے روز پگڑی باندھتے ہیں
(طبرانی۔ عن ابی الدرداء رضی اللہ عنہ)
موضوع (من گھڑت) :اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن مدرک ہے،  جسے امام یحیٰ بن معین رحمہ اللہ نے "کذاب"، امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ، امام نسائی رحمہ اللہ اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے "متروک"، امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللہ، امام یعقوب بن سفیان جوزجانی رحمہ اللہ، امام صالح بن محمد جزرہ اور امام ابنِ عدی رحمہمااللہ وغیرہم نے "ضعیف"  کہا ہے۔
٭ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ایوب بن مدرک نے امام مکحول سے ایک من گھڑت نسخہ روایت کیا ہے، ان کو دیکھا نہیں۔" (لسان المیزان لابن حجر: ۴۸۸/۱)
٭ابن الجوزی نے بھی اس روایت کو موضوعات میں ذکر کیا او رلکھا کہ اس کی کوئی اصل نہیں۔ نیز اس کے بیان کرنے میں ایوب متفرد ہے، جس کے متعلق ازدی لکھتے ہیں کہ یہ روایت اس کی خود ساختہ ہے۔ دیکھئے فیض القدیر:2؍270

Friday, February 07, 2014

٭ عمامہ پہن کر نماز پڑھنے کی فضیلت

 عمامہ پہن کر نماز پڑھنے کی فضیلت

 ابن عمر رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
عمامہ باندھ کر پڑھی گئی ایک نماز بغیر عمامہ کے پڑھی گئی پچیس (25) نمازوں کے برابر ہوتی ہے۔
 اور عمامہ باندھ کر ایک نمازِ جمعہ بغیر عمامہ پڑھی گئی جمعہ کی ستر (70) نمازوں کے برابر ہے۔ 
بے شک فرشتے عمامہ باندھ کر جمعہ میں حاضر ہوتے ہیں اور غروب آفتاب تک دستار و عمامہ والوں کے لئے رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔"
(امام سیوطی نے اس روایت کو تاریخ ابن عساکر اور الفردوس دیلمی کی طرف منسوب کیا ہے)
موضوع (من گھڑت) :
٭امام
سیوطی نے اسے "ذیل الاحادیث الموضوعہ" کے صفحہ 110 پر نقل کیا ہے۔ اور اس کے موضوع اور من گھڑت ہونے کے حکم کو برقرار رکھا ہے۔
٭"تنزیعہ الشریعۃ" میں ابنِ عراق نے بھی ان کی متابعت کی ہے۔
٭"
فتح القدیر شرح الجامع الصغیر" میں علامہ مناوی نے لکھا ہے کہ حافظ ابن حجر نے اس حدیث کو موضوع یعنی من گھڑت قرار دیا ہے۔
٭علامہ
سخاوی نے بھی  "المقاصد صفحہ 124" پر حافظ ابن حجر کا یہ فیصلہ نقل کیا ہے اور اسے پسند کیا ہے۔
٭حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: "یہ روایت جعلی و من گھڑت ہے" (لسان المیزان : 244/3)
٭علامہ
ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ و الموضوعۃ (ج1 ص 158-160)" میں اس روایت پر کلام کیا ہے۔