تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label رمضان سے متعلق. Show all posts
Showing posts with label رمضان سے متعلق. Show all posts

Monday, June 22, 2015

٭جنت کو رمضان کیلئے پورا سال مزین کیا جاتا ہے


جنت کو رمضان کیلئے پورا سال مزین کیا جاتا ہے


إِنَّ الْجَنَّةَ تُزَخْرَفُ لِرَمَضَانَ مِنْ رَأْسِ الْحَوْلِ إِلَى حَوْلِ قَابِلٍ» . قَالَ: فَإِذَا كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ هَبَّتْ رِيحٌ تَحْتَ الْعَرْشِ مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ عَلَى الْحُورِ الْعِينِ فَيَقُلْنَ: يَا رَبِّ اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ أَزْوَاجًا تَقَرَّ بِهِمْ أَعْيُنُنَا وَتَقَرَّ أَعْيُنُهُمْ بِنَا . .
جنت کو رمضان کیلئے پورا سال مزین کیا جاتا ہے۔فرمایا: جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کے نیچے جنت کے پتوں سے ہوا چلتی ہوئی حورعین تک پہنچتی ہے تو وہ کہتی ہیں: رب جی! اپنے بندوں میں سے ہمارے شوہر بنادے، ہم ان سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور وہ ہم سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں۔“


ضعیف :  یہ ضعیف روایت ہے، کیونکہ؛
۱: اس کا راوی ولید بن ولید  مختلف فیه  ہے لیکن اس کا ضعیف ہونا راجح ہے۔
٭امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کو روایت کرنے میں عبد الرحمٰن بن ثابت بن ثوبان عمرو بن دینار سے متفرد ہیں، اور ابن ثوبان سے روایت لینے میں ولید بن ولید متفرد ہے اور وہ منکر الحدیث ہے۔ حافظ ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے حجت لینا جائز نہیں۔ (العلل المتناهیة ، کتاب الصیام: ۸۸۱)
٭ اس  حدیث کے بہت سے شواہد بھی ہیں جو سب کے سب  باطل ہیں۔   (مشکوٰۃ المصابیح بتحقیق زبیر علی زئی: ۱۹۶۷)

Wednesday, June 17, 2015

٭ روزہ افطار کرنے کی دعا


روزہ افطار کرنے کی دعا

معاذ بن زہرہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جب افطار کرتے تھے تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے ھے:
اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ.
” اے اللہ! تیرے  ہی لیے میں نے روزہ رکھا اور تیرے ہی دیے ہوئے سے افطار کیا۔“

ضعیف :  یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ؛
۱: اس کا راوی معاذ بن زہرہ مجہول ہے۔
۲: نیز سند مرسل  (ضعیف)ہے۔ کیونکہ تابعی ڈائریکٹ نبیٔ اکرم ﷺ سے روایت کررہا ہے۔

صحیح حدیث:ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، جب نبی ﷺ روزہ افطار کرتے تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ
”پیاس جاتی رہی، رگیں تر ہوگئیں اور ثواب لازم و ثابت ہوگیا، اگر اللہ نے چاہا۔“


کیا مرسل حدیث حجت ہے؟


٭ جمہور محدثین کے نزدیک تابعی کی مرسل روایت ہر لحاظ سے مردود ہے۔
۱: الامام، الفقیہ، ابو بکر احمد بن اسحاق بن ایوب بن یزید بن عبد الرحمٰن بن نوح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لو أن المرسل من الأخبار و المتصل سیان لما تکلف العلماء طلب الحدیث بالسماع ولما ارتحلوا فی جمعه مسموعا ولا التمسوا صحته ولکان أھل کل عصر إذا سمعوا حدیثا من عالمهم وهو یقال قال رسول اللہ ﷺ کذا و کذا لم یسألوه عن إسناده وقد روینا عن جماعة من التابعین وأتباع التابعین کانوا یسألون عن السنة ثم یقولون للتابعین هل من أثر وإذا ذکر الأثر قالواهل من قدوة وإنما یعنون بذلک الإسناد المتصل و لم یقتصروا علی قول الزهری و إبراهیم قال رسول اللہ ﷺ فکیف یقتصروا من مالک والنعمان إذا قالا رسول اللہ ﷺ.
”اگر مرسل اور متصل احادیث ایک جیسی (حجت) ہوتیں تو علمائے کرام طلبِ حدیث میں سماع کرنے کی زحمت نہ اٹھاتے، نہ ہی خود سنی ہوئی احادیث کو جمع کرنے کے لیے وہ سفر کرتے، نہ ہی وہ احادیث کی صحت کی تلاشی کے متلاشی ہوتے، نیز ہر دور کے لوگ جب اپنے عالم کو یہ کہتے سنتے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمایا، تو اس سے سند کے بارے میں سوال نہ کرتے، حالانکہ تابعین اور تبع تابعین کی ایک جماعت سے ہم نے روایت کیا ہے کہ وہ سنتِ نبوی کے بارے میں پوچھتےتھے، پھر تابعین سے کہتے کہ کیا کوئی اثر ہے؟ کیا کوئی قدوہ ہے؟ اس سے مراد متصل سند لیتے تھے۔ وہ (محمد بن مسلم) زہری رحمہ اللہ اور ابراہیم (نخعی رحمہ اللہ) کے اس قول پر اکتفا نہیں کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمایا ہے، امام مالک اور امام ابو حنیفہ اگر کہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمایا ہے تو ان کی بات پر کیسے اکتفا کیا جاسکتا ہے؟ .“ (الکفایة فی علم الروایة للخطیب: ۱۲۴۵، وسندہ صحیح)
۲:امام مسلم رحمہ اللہ "مرسل " کے بارے میں فرماتے ہیں:
والمرسل  فی اصل قولنا وقول اهل العلم بالاخبار لیس
بحجة.
”ہمارے (محدثین) کے اصل قول اور (دوسرے) علماء کے نزدیک مرسل روایت حجت نہیں ہے۔ ”(مقدمہ صحیح مسلم ج۱ ص۲۲ بعد ح۹۲ و فتح الملہم ج۱ ص۴۱۰)
۳:امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لا نحتج بالمراسیل، ولا بالأخبار الواهیة.
"ہم مرسل اور ضعیف روایات سے حجت نہیں لیتے۔" (کتاب التوحید لابن خزیمہ: ۱۳۷/۱)
۴: امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
و ھم لا یحتجون بالمراسیل.
"وہ (محدثین) مرسل روایات سے  دلیل نہیں لیتے۔" (نصب الرایة للزیلعی الحنفی: ۵۸/۱)
۵: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولسنا ولا إیّاک نثبت المرسل.
"نہ ہم مرسل کو صحیح سمجھتے ہیں، نہ آپ۔" (اختلاف الحدیث للشافعی: ۵۶۰)
۶:امام ابن ابی حاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سمعت أبی و أبا زرعة یقولان : لا یحتج بالمراسیل، ولا تقوم الحجّة إلّا بالأسانید الصّحاح المتّصلة، وکذا أقول أنا.
"میں نے اپنے والد (امام ابو حاتم رحمہ اللہ) اور امام ابو زرعہ رحمہ اللہ  سے سنا، وہ دونوں فرمارہے تھے کہ مرسل روایات سے حجت نہیں  لی جائے گی، حجت صرف صحیح اور متصل سندوں کے ساتھ قائم ہوسکتی ہے۔ میں بھی ایسا ہی کہتا ہوں۔" (کتاب المراسیل لابن حاتم: ۷)
۷:امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
والحدیث مرسل، لا تقوم به الحجّة.
"یہ حدیث مرسل ہے اور اس کے ساتھ حجت قائم نہیں ہوسکتی۔" (سنن الدارقطنی: ۳۹۸/۱)
۸:امام ابن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
المرسل من الحدیث ، لاتقوم به الحجّة.
"مرسل حدیث سے حجت قائم نہیں ہوتی۔" (الاوسط لابن المنذر: ۲۲۸/۱، ۲۷۱/۱)
جاری ہے۔۔۔۔۔

Monday, June 15, 2015

٭ رمضان میں قیدیوں کو رہا کرنا


 رمضان میں قیدیوں کو رہا کرنا

 ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ أَطْلَقَ كُلَّ أَسِيرٍ، وَأَعْطَى كُلَّ سَائِلٍ.
" جب ماہ رمضان آتا تو رسول اللہ ﷺ ہر قیدی کو آزاد فرمادیتے اور ہر سائل کو عطا کیا۔"
(شعب الإیمان للبیهقي: ۳۶۲۹/۳۳۵۷)


سخت ضعیف :  یہ روایت سخت ضعیف ہے، کیونکہ؛
٭اس کا راوی أبوبکر  الهذلي"متروک"ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح بتحقیق زبیر علی زئی: ۱۹۶۶)
٭ علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو "سخت ضعیف" قرار دیا ہے۔ (مشکوٰۃ  المصابیح بتحقیق الألبانی: ۱۹۶۶)

Saturday, July 05, 2014

٭ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا

 رمضان کا پہلا  ، دوسرا اور تیسرا عشرہ

سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے شعبان کے آخری روز ہمیں خظاب کرتے ہوئے فرمایا:
أيها الناس قد أظلكم شهر عظيم، شهر مبارك، شهر فيه ليلة خير من ألف شهر، جعل الله صيامه فريضة، وقيام ليله تطوعا، من تقرب فيه بخصلة من الخير، كان كمن أدى فريضة فيما سواه، ومن أدى فيه فريضة كان كمن أدى سبعين فريضة فيما سواه، وهو شهر الصبر، والصبر ثوابه الجنة، وشهر المواساة، وشهر يزداد فيه رزق المؤمن، من فطر فيه صائما كان مغفرة لذنوبه وعتق رقبته من النار، وكان له مثل أجره من غير أن ينتقص من أجره شيء» ، قالوا: ليس كلنا نجد ما يفطر الصائم، فقال: يعطي الله هذا الثواب من فطر صائما على تمرة، أو شربة ماء، أو مذقة لبن،
وهو شهر أوله رحمة، وأوسطه مغفرة، وآخره عتق من النار،
من خفف عن مملوكه غفر الله له، وأعتقه من النار، واستكثروا فيه من أربع خصال: خصلتين ترضون بهما ربكم، وخصلتين لا غنى بكم عنهما، فأما الخصلتان اللتان ترضون بهما ربكم: فشهادة أن لا إله إلا الله، وتستغفرونه، وأما اللتان لا غنى بكم عنهما: فتسألون الله الجنة، وتعوذون به من النار، ومن أشبع فيه صائما سقاه الله من حوضي شربة لا يظمأ حتى يدخلالجنة.
" لوگو تم پر عظيم الشان مہينہ سايہ فگن ہو رہا ہے، يہ بابركت مہينہ ہے، اس ميں ايك ايسى رات ہے جو ايك ہزار مہينوں سے بہتر ہے، اللہ سبحانہ و تعالى نے اس كے روزے فرض كيے ہيں، اور اس مہينے كى راتوں كا قيام نفلى ہے، جس نے بھى اس مہينہ ميں كوئى خير و بھلائى كا كام سرانجام دے كر قرب حاصل كيا تو وہ ايسے ہى ہے جيسے كسى نے اس مہينہ كے علاوہ كوئى فرض ادا كيا، اور جس نے اس مہينہ ميں كوئى فرض سرانجام ديا تو وہ ايسے ہى ہے جيسے كسى نے اس مہينہ كے علاوہ ستر فرض ادا كيے، يہ صبر كا مہينہ ہے، اور صبر كا ثواب جنت ہے، يہ خير خواہى كا مہينہ ہے.
اس ماہ مبارك ميں مومن كا رزق زيادہ ہو جاتا ہے، اور جس كسى نے بھى اس مہينہ ميں روزے دار كا روزہ افطار كرايا اس كے گناہ معاف كر ديے جاتے ہيں، اور اس كى گردن جہنم سے آزاد كر دى جاتى ہے، اور اسے بھى روزے دار جتنا اجروثواب حاصل ہوتا ہے اور كسى كے ثواب ميں كمى نہيں ہوتى.
صحابہ كرام نے عرض كيا: ہم ميں سے ہر ايك كے پاس تو روزہ افطار كرانے كے ليے كچھ نہيں ہوتا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
اللہ تعالى يہ اجروثواب ہر اس شخص كو ديتا ہے جس نے بھى كسى كا روزہ كھجور يا پانى كے گھونٹ يا دودھ كے ساتھ افطار كرايا،
 اس ماہ كا ابتدائى حصہ رحمت ہے، اور درميانى حصہ بخشش اور آخرى حصہ جہنم سے آزادى كا باعث ہے
جس كسى نے بھى اپنى لونڈى اور غلام سے تخفيف كى اللہ تعالى اسے بخش ديتا اور اسے جہنم سےآزاد كر ديتا ہے، اس ماہ مبارك ميں چار كام زيادہ سے زيادہ كيا كرو: دو كے ساتھ تو تم اپنے پروردگار كو راضى كروگے، اور دو خصلتيں ايسى ہيں جن سے تم بےپرواہ نہيں ہو سكتے:جن دو خصلتوں سے تم اپنے پروردگار كو راضى كر سكتے ہو وہ يہ ہيں: اس بات كى گواہى دينا كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں، اور اس سے بخشش طلب كرنا.
اور جن دو خصلتوں كے بغير تمہيں كوئى چارہ نہيں: جنت كا سوال كرنا، اور جہنم سے پناہ مانگنا.جس نے بھى اس ماہ مبارك ميں كسى روزے دار كو پيٹ بھر كر كھلايا اللہ سبحانہ و تعالى اسے ميرے حوض كا پانى پلائيگا وہ جنت ميں داخل ہونے تك پياس محسوس نہيں كريگا " ( صحيح ابن خزيمة:  ۱۹۱/۳ح۱۸۸۷)
ضعیف:  امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اس حدیث پر جو باب قائم کیا ہے وہ کچھ یوں ہے:” اگر يہ حديث صحيح ہو تو فضائل رمضان كے بارہ ميں باب“
۱: اس  کا راوی علی بن زید بن جدعان  ”ضعیف“ہے۔(تقریب التہذیب: ۴۷۳۴)
٭جمہور محدثین کرام نے  اسے ضعیف کہا ہے۔ (زوائد ابن ماجہ:۲۲۸)
٭امام نسائی اور حافظ ابن حجر رحمہما اللہ نے اسے ”ضعیف“ کہا ہے، امام احمد رحمہ اللہ نے اسے”لیس بشئ“ اور امام ابو زرعة اور امام ابو حاتم رحمہمااللہ نے اسے ”لیس بقوی“ کہا ہے۔ دیکھئے: (العلل لابن ابی حاتم: ۲۵۱/۱، الکامل لابن عدی: ۳۳۳/۶، تقریب التہذیب: ۴۳/۲، الجرح والتعدیل: ۲۴۹/۶)
٭امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے کہا :”یہ حدیث منکر ہے ۔“ (العلل لابن ابی حاتم :١/٢٤٩)
٭ علامہ سیوطی نے اسے الدر المنثور میں ذکر کرکے کہا ہے کہ: "اسے عقیلی نے روایت کیا اور اسے ضعیف کہا ہے۔"
٭علامہ عینی حنفی  رحمہ اللہ نے عمدۃ القاری (۲۰/۹) میں اس پر "منکر" کا حکم لگایا ہے۔
٭شیخ البانی رحمہ اللہ نے کہا :”منکر“ (سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة  :٨٧١)
٭شیخ ابو اسحا ق الحوینی مصری حفظہ اللہ نے کہا :”یہ حدیث باطل ہے۔“ (النافلۃ فی الاحادیث الضعیفہ والباطلۃ۔١/٢٩١)
تنبیہ:ابن عدي (۱۱۵۷/۳) اور العقیلي  (۱۶۲/۲) میں اس کا ایک ”سخت ضعیف“ شاہد بھی ہے۔
۱: اس کی سند میں سلام بن سلیمان بن سوار ”منکر الحدیث“ اور سلمة بن الصلت ”غیر معروف“ راوی ہے۔
٭امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لأصل له. ”اس کی کوئی اصل نہیں


تواس طرح اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور اسی طرح اس کی سب کی سب متابعات بھی ضعیف ہیں جس پرمحدثين نے منکر کا حکم لگایا ہے ، اورایسے ہی اس میں ایسی عبارت پائ جاتی ہے جس کے ثبوت میں نظر ہے مثلا :
اسے
تین حصوں میں تقسیم کرنا کہ پہلاعشرہ رحمت اوردوسرا مغفرت اورتیسرا آگ سے آزادی کا ہے ، اس کی کوئ دلیل نہیں ملتی بلکہ اللہ تعالی کا فضل وکرم وسیع ہے اوررمضان مکمل طور پر مغفرت کا ہے اورہر رات اللہ تعالی جہنم سے آزادی دیتے ہیں اوراسی طرح عید الفطر کے وقت بھی جیسا کہ احاديث صحیحہ سے اس کا ثبوت ملتا ہے ۔
اوراسی طرح حدیث میں یہ بھی ہے کہ :
(جس نے بھی اس مہینے میں نیکی کی وہ ایسے ہے جس طرح عام دونوں میں فریضہ ادا کیا جائے ) ۔
تواس کی کوئ دلیل نہیں بلکہ نفل تونفل ہی رہتا ہے اورفرض فرض ہی ہے چاہے رمضان ہو یا رمضان کے علاوہ کوئ اور مہینہ ۔
اورحدیث میں یہ عبارت بھی ہے کہ :
(اور جس نے رمضان میں فرض ادا کیا گویا کہ اس نے رمضان کے علاوہ ستر فرض ادا کیے ) ۔
تواس تحدید میں بھی خلاف ہے کیونکہ رمضان اورمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں نیکی دس سے لیکر سات سو تک ہے تو اس لیے روزے کے علاوہ کسی چيز کی تخصیص نہیں کیونکہ روزے کا اجر بہت زیادہ جس میں مقدار کی تحدید نہیں کی گئ جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے کہ : ابوھریرہ رضی اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اللہ تعالی فرماتا ہے ( روزے کےعلاوہ ہرعمل ابن آدم کے لیے ہے اس لیے کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دونگا ) صحیح بخاری و صحیح مسلم ۔
تو ضعیف احادیث سے بچنا ضروری ہے اوریہ بھی ضروری ہے کہ اسے بیان کرنے سے قبل حدیث کا درجہ معلوم کرلینا چاہیۓ ، اوررمضان المبارک کی فضيلت میں احادیث کی چھان پھٹک کرکے صحیح احادیث لینی چاہیں ۔
اللہ تعالی سب کو توفیق عطا فرمائے اور روزے اورراتوں کا قیام اورسب اعمال صالحہ قبول فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین ۔
واللہ تعالی اعلم .

ملاحظہ کیجئے فضائل رمضان میں ضعیف حدیث سے متعلق مزید معلو مات