تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label نماز سے متعلق. Show all posts
Showing posts with label نماز سے متعلق. Show all posts

Friday, August 14, 2015

٭ مغرب اور عشاء کے درمیان بیس رکعات کی فضیلت


مَنْ صَلَّى بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ عِشْرِينَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ .
جس نے مغرب اور عشاء کے درمیان بیس رکعات پڑھیں اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائیں گے۔“


موضوع (من گھڑت):   یہ روایت  جھوٹی اور من گھڑت ہے۔
۱ :اس کا راوی  یعقوب بن ولید "کذاب" ہے۔امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ نے اسے کذاب کہا ہے۔(تقریب التہذیب: ۷۸۳۵)
٭علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔ (ضعیف الجامع: ۵۶۶۲)

٭ مغرب کے بعد چھ رکعات کی فضیلت

 مغرب کے بعد چھ رکعات نوافل کی فضیلت

مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيمَا بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ سَنَةً.
جس نے مغرب کے بعد چھ رکعات پڑھیں اور ان کے درمیان  میں کوئی بری بات  نہ کی  تو یہ رکعات  اس کے لئے بارہ سال کی عبادت کے برابر ہوں گی۔“
سخت ضعیف  :  یہ روایت سخت ضعیف ہے، کیونکہ؛
۱: اس کا راوی  عمر بن أبی خثعم "ضعیف" ہے۔ (تقریب التہذیب: ۴۹۲۸)
٭امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :  "میں نے محمد بن اسماعیل(امام بخاری رحمہ اللہ) سے سنا ہے کہ انہوں نے کہا عمر بن عبد اللہ بن ابی خثعم منکر الحدیث ہے۔"
٭ امام شوکانی رحمہ اللہ  فرماتے ہین اس کی کوئی اصل نہیں۔ (الفوائد المجموعة : ص ۴۳۷)
 ٭امام صغانی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ (موضوعات: ص ۵۰)
 حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ (تخریج الاحیاء : ۲۶۱/۸)
٭ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو سخت ضعیف کہا ہے۔(۴۶۹)

Monday, November 03, 2014

٭ ستر رکعتوں سے بہتر رکعتیں


ستر رکعتوں سے بہتر رکعتیں
 
رَكْعَتَانِ بِعِمامَةٍ خَيْرٌ مِنْ سَبْعِينَ رَكْعَةً بِلا عِمامَةٍ
"عمامہ باندھ کر پڑھی گئی دو رکعتیں، بلا عمامہ پڑھی گئی ستر رکعتوں سے بہتر ہیں"
(الدیلمی في "مسند الفردوس ": ۲/۲۶۵، رقم/۳۲۳۳)
 موضوع (من گھڑت):اس کی سند میں ایک راوی طارق بن عبد الرحمٰن ہے جسے علامہ مناوی رحمہ اللہ نے ضعیف ثابت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : "امام ذہبی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب الضعفاء میں ذکر کیا ہے اور  فرمایا ہے کہ :یہ غیر معروف ہے۔ اور امام نسائی فرماتے ہیں کہ: یہ قوی نہیں ہے۔" ( فيض القدير :۴/۴۹)
٭امام سخاوی رحمہ اللہ رحمہ اللہ نے اس روایت کے بارے میں فرمایا ہے کہ: "یہ حدیث ثابت نہیں ہوتی۔ یعنی صحیح نہیں ہے" (المقاصد الحسنة:ص۴۰۶)
٭علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس رویت کو موضوع قرار دیا ہے۔ (السلسلة الضعيفة : ۱۲۸، ۵۶۹۹)
٭ شیخ ابن باز رحمہ اللہ اس روایت کے بار ےمیں فرماتے ہیں: "اس کی کوئی اصل نہیں، یہ نبی کریمﷺ پر جھوٹی گھڑی گئی ہے"

٭ دس ہزار نیکیوں کے برابر ثواب

دس ہزار نیکیوں کے برابر ثواب
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ:
اَلصَّلوٰۃُ فِی العِمَامَةِ تَعدِلُ بِعَشَرَۃِ آلاَفِ حَسَنَة
"عمامہ باندھ کر نماز پڑھنا دس ہزار نیکیاں کرنے کے برابر ہے"
(ذیل الاحادیث الموضوعہ: ص۱۱۱ بحوالہ مسند الفردوس للدیلمی)
موضوع (من گھڑت) :
٭علامہ سیوطی نے اس روایت کو "ذیل الاحادیث الموضوعہ" میں نقل کیا ہے اور اس کی سند کے ایک راوی ابان کو "متہم" لکھا ہے۔
٭ابن عراق رحمہ اللہ نے  بھی"تنزیعه الشریعه"  (۲۵۷/۲) میں علامہ سیوطی کی متابعت کرتے ہوئے  اس  روایت کے راوی ابان کو متہم قرار دیا ہے۔
٭حافظ سخاوی رحمہ اللہ نے اس روایت کو "من گھڑت"  کہا ہے۔ (المقاصد الحسنة: ص۱۲۴)
٭ملا علی قاری نے  شیخ ضوفی مالکی کے حوالے سے لکھا ہے : "کہ یہ روایت باطل ہے۔" (موضوعات: ص۵۱)

Friday, October 24, 2014

٭ نمازِ غوثیہ

نمازِ غوثیہ

مصری قاری اور گمراہ صوفی ابو الحسن علی بن یوسف شطنوفی (۶۴۴- ۷۱۳ھ) شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کی طرف منسوب عبارت یوں ذکر کرتا ہے:
"من الستعان بي في کریة کشفت عنه، ومن ناداني باسمي في شدة فرجت عنه، ومن توسل بي إلی اللہ عزوجل في حاجة قضیت له، ومن صلّٰی رکعتین، یقرأُ في کل رکعة بعد الفاتحة سورۃ الإخلاص إحدٰی عشرۃ مرۃ، ثم یصلي علٰی رسول اللہ بعد السلام ویسلم علیه، ویذکرني، ثم یخطوا إلٰی جھة العراق إحدٰی عشرۃ خطوۃ، ویذکراسمي، ویذکر حاجته، فإنه تقضٰی بإذن اللہ"
جو شخص کسی مشکل میں مجھ سے مدد مانگے، اس کی مشکل دور کردی جائے گی۔ جو مصیبت میں مجھے میرا نام لے کر پکارے، اس کی مصیبت دور کردی جائے گی اور جو کسی حاجت میں اللہ تعالیٰ کو میرا وسیلہ دے کر دعا کرے گا، اس کی حاجت پوری کردی جائے گی۔ جو شخص دو رکعتیں اس طرح پڑھے گا کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص گیارہ مرتبہ پڑھے، پھر سلام پھیرنے کے بعد نبی اکرم ﷺ پر درود و سلام بھیجے اور مجھے یاد کرے، پھر عراق کی طرف گیارہ قدم چلے اور میرا نام لے کر اپنی ضرورت کو ذکر کرے، 
تو وہ ضروت پوری ہوجائے گی۔
(بھجة الأسرار ومعدون الأنوار، ص: ۱۰۲، فضل ذکر أصحابه وبشراھم، طبع مصر)

موضوع (من گھڑت) :یہ سفید جھوٹ ہے۔ جسے شیخ عبد القادر جیلانی سے منسوب کردیا گیا ہے۔
٭ اس  گھڑنتل کا راوی ابو المعالی عبد الرحیم بن مظفر ، جو کہ شطنوفی کا استاذ ہے، اس کے حالاتِ زندگی نہیں مل سکے۔ یہ کون ہے؟ کچھ معلوم نہیں۔
٭ نیز اس سند میں ابو القاسم بزاز کی واضح توثیق درکار ہے۔ نامعلوم افراد کی باتوں کی دین میں کیا حیثیت ہے؟

جس کتاب میں یہ روایت مذکور ہے، اہل علم نے شطنوفی کی اس کتاب کے بارے میں بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، بلکہ اسے خرافات کا مجموعہ قرار دیا ہے، جیسا کہ:
1: حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "شیخ نور الدین شطنوفی نے شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کی سیرت اور حالات کے بارے میں تین جلدوں پر مشتمل ایک کتاب لکھی ہے، جس میں اس نے اچھی ، بری ،صحیح، کمزور اور جھوٹی ہر طرح کی باتیں ذکر کی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ اس نے ایسے راویوں سے حکایات نقل کیں جو ہرگز سچے نہیں تھے۔" (تاریخ الإسلام: ۲۵۲/۱۲)
2: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "کمال جعفر نے کہا ہے کہ شطنوفی نے اس کتاب میں منکر اور عجیب و غریب حکایات ذکر کی ہیں۔ اہلِ علم نے اسکی بہت سی حکایات اور بہت سی سندوں پر طعن کیا ہے۔" (الدررالکامنة: ۱۴۱/۳)
3:حافظ ابن رجب رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "مقری ابو الحسن شطنوفی فی مصری نے شیخ عبد القادر رحمہ اللہ کے فضائل و مناقب میں تین جلدوں پر مشتمل کتاب لکھی ہے اور اس میں ہر جھوٹی سچی بات لکھ ماری ہے۔ کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہوتا ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو ( بغیر تحقیق) آگے بیان کر دے۔ میں نے اس کتاب کا کچھ حصہ دیکھا ہے۔ مجھے اس میں سے کسی بھی بات پر اعتماد کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ میں اس سے صرف وہ  مشہور ومعروف چیزیں نقل کروں گا جو اس کتاب کے علاوہ دوسری کتب میں مذکور ہوں گی۔ اس کتاب میں مجہول راویوں کی کثرت ہے۔ اس میں بے تکی باتوں کی بھر مار ہے، نیزز یہ جھوٹ طوفان، بلند بانگ دعووں اور باطل باتوں سے اٹی پڑی ہے۔ شیخ عبد القادر رحمہ اللہ کی طرف اس کتاب کی نسبت جائز ہی نہیں۔ پھر میں نے کمال جعفر ادفوی کی یہ بات پڑھی ہے کہ اس کتاب میں جو کچھ مذکور ہے، یہ خود شطنوفی کی گھڑنت ہے۔" (ذیل طبقات الحنابلة : ۱۹۵/۲، ۱۹۴)

Thursday, October 23, 2014

٭ ایک درہم کے برابرنجاست میں نماز پڑھنا


ایک درہم کے برابرنجاست میں نماز پڑھنا

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تُعَادُ الصَّلَاۃُ مِن قَدَرِ الدِّرھَمِ مِنَ الدَّمِ"
            خون کی ایک درہم مقدار سے نماز دہرائی جائے گی۔
(سنن الدارقطني: ۴۰۱/۱، الکامل في الضعفاء الرجال لابن عدي: ۱۳۸/۳، ت:۶۶۰، 
السنن الکبریٰ للبیھقی:۴۰۴/۲، الضعفاء الکبیر للعقیلي: ۵۶۱/۲)
موضوع (من گھڑت) :یہ جھوٹی روایت ہے، اس کو گھڑنے کی کاروائی رَوح بن غُطَیف جزری نامی راوی نے کی ہے۔ اس کے بارے میں:
1:امام بخاری رحمہ اللہ نے "منکر الحدیث" کا حکم لگایا ہے۔ (التاریخ الکبیر: ۳۰۸/۳)
2:امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ قوی نہیں، بلکہ اس کی حدیث سخت منکر ہوتی ہے" (الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم: ۴۹۵/۳)
3: امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "متروک ہے" (الضعفاء والمتروکون: ۱۹۰)
4: امام دارقطنی رحمہ اللہ  نےبھی "متروک الحدیث" کہا ہے۔ (سنن دارقطنی: ۴۰۱/۱)
5: امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ ثقہ راویوں کی طرف منسوب کرکے بناوٹی اھادیث بیان کرتا تھا۔ اس کی حدیث  کو لکھنا اور اس سے روایت کرنا جائز ہی  نہیں" (کتاب المجروحین: ۲۹۸/۱)
اس پر اور بھی جروح ثابت ہیں، لیکن اس کے بارے میں ادنیٰ کلمۂ توثیق بھی ثابت نہیں۔
اس روایت کی دوسری سند:
(تاریخ بغداد للخطیب:۳۰۰/۹، الموضوعات لابن الجوزي: ۷۵/۲، نصب الرایة للزیلعي:۲۱۲/۱) بھی جھوٹی ہے۔
اس میں نوح بن ابو مریم نامی راوی ہے جو  باتفاقِ محدثین "ضعیف"، "متروک" اور کذاب ہے۔ اس میں امام زہری رحمہ اللہ کی "تدلیس" بھی موجود ہے۔ نیز اس کے راویوں ابو محمد صالح بن محمد بن نصر بن محمد عیسٰی، قاسم بن عباد ترمذی، ابو عامر اور یزید ہاشمی کے حالات بھی نہیں ملے۔
اس روایت کے بارے میں محدثینِ کرام کی آراء:
٭امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے بالکل ثابت نہیں" (الضعفاء الصغیر: ۴۵/۱، ت:۱۱۸)
نیز فرماتے ہیں: "یہ حدیث جھوٹی ہے" (الضعفاء الکبیر للعقیلي: ۵۶/۲، وسندہ صحیح)
٭امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس سند کے ساتھ یہ منکر روایت ہے" (الکامل في الضعفاء الرجال: ۱۳۸/۳)
٭امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ جھوٹی روایت ہے، اس کے جھوٹا ہونے میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں۔ نہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا فرمایا ہے، نہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ نے  اسے آپ سے روایت کیا ہے، نہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے اسے ذکر کیا ہے، نہ امام زہری رحمہ اللہ نے ایسا کہا۔ یہ اہل کوفہ کی طرف سے اسلام میں ایجاد کی گئی ایک بدعت ہے۔ ہر خلافِ سنت بات کو ترک کردیا جائے گا اور اس کے کہنے والے کو بھی چھوڑ دیا جائے گا۔" (المجروحین: ۲۹۹/۱)
٭امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "بلاشبہ یہ حدیث ثابت نہیں۔" (معرفة السنن والآثار: ۳۵۵/۲، ح:۴۹۱۰)
٭علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اسے "موضوعات" (من گھڑت روایات) میں ذکر کیا ہے۔ (الموضوعات: ۷۵/۲)
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے "وَاہ" (کمزور) قرار دیا ہے (تنقیح التحقیق: ۱۲۹/۱)
٭حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ من گھڑت حدیث ہے۔ محدثین کرام کے نزدیک یہ بے بنیاد ہے۔" (شرح صحیح مسلم: ۹۷/۱)
 تنبیہ: نجاستِ غلیظہ مثلاً دمِ مسفوح (ذبح کے وقت بہنے والا خون)، شراب، پیشاب، پاخانہ، حیض کا خون، کتے کا پاخانہ، درندوں کا پاخانہ   وغیرہ وغیرہ اگر جسم یا کپڑے پر لگا ہو، چاہے  ایک درہم (ہتھیلی بھر) سے کم ہو یا ایک درہم سے زیادہ،  اسے صاف کیئے بغیر نماز پڑھنا جائز نہیں۔

Monday, March 03, 2014

٭ عورت سجدے میں اپنا پیٹ رانوں سے ملائے (2)


عورت سجدے میں اپنا پیٹ رانوں سے ملائے
رسول اللہ ﷺ دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم سجد ہ کرو تو اپنے جسم کے بعض حصوں کو زمین سے چمٹا دو اس لئے کہ اس میں عورت مرد کی مانند نہیں ہے۔ (بیہقی :223/2 ، اعلاء السنن:19/3)
منقطع (ضعیف):  امام بیہقی نے روایت مذکورہ کو امام ابو داود کی کتاب المراسیل (ح 87) سے نقل کرنے سے پہلے اسے "حدیث منقطع" یعنی منقطع حدیث لکھا ہے۔ (السنن الکبریٰ: 223/2)
منقطع حدیث کے بارے میں اصول حدیث کی ایک جدید کتاب میں لکھا ہے: "علماء کا اتفاق ہے کہ منقطع روایت ضعیف ہوتی ہے، یہ اس لئے کہ اس کا محذوف راوی مجہول ہوتا ہے۔" (تیسیر مصطلح الحدیث: ص 78 ، المنقطع)
تنبیہ: مراسیل لابی داود صحاح ستہ کی کتاب نہیں بلکہ صحاح ستہ کی کتاب سنن ابی داود کے مصنف امام ابی داود رحمہ اللہ کی تصنیف ہے، کتاب المراسیل لابی داود (ح 33) میں آیا ہے کہ طاؤس (تابعی) فرماتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ نماز میں سینے پر ہاتھ باندھتے تھے۔" (ص 89)
آلِ تقلید کو اس منقطع حدیث سے چڑ ہے۔ یہ لوگ اس حدیث پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں پھر اہل حدیث کے خلاف کتاب المراسیل کی منقطع روایت سے استدلال کر رہے ہیں ! سبحان اللہ !

٭ عورت سجدے میں اپنا پیٹ رانوں سے ملائے


عورت سجدے میں اپنا پیٹ رانوں سے ملائے
"جب عورت نماز میں بیٹھے تو دائیں ران بائیں ران پر رکھے اور جب سجدہ (کرے) تو اپنا پیٹ اپنی رانوں سے ملا ئے جو زیادہ ستر کی حالت ہے اللہ تعالیٰ اسے دیکھ کر فرماتے ہیں اے (فرشتوں) گواہ ہوجاؤ  میں نے عورت کے (؟) بخش دیا۔ " (بیہقی:223/2)
موضوع (من گھڑت): ہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے کیونکہ:
٭اس روایت کے ایک راوی ابو مطیع بن عبد اللہ البلخی کے بارے میں السنن الکبریٰ للبیہقی کے اسی صفحے پر لکھا ہوا ہے کہ ”(امام) ابو احمد (بن عدی) نے فرمایا: ابو مطیع کا اپنی حدیثوں میں ضعیف ہونا واضح ہے۔۔۔ الخ “، اسے امام یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف قرار دیا۔ اس پر جمہور محدثین کی جرح کے لئے لسان المیزان (334/2-336) پڑھ لیں۔
٭اس روایت کے دوسری راوی محمد بن القاسم البلخی کا ذکر حلال نہیں ہے۔ دیکھئے لسان المیزان (347/5 ت 7997)
٭اس کے تیسرے راوی عبید بن محمد السرخی کے حالات نامعلوم ہیں۔
٭ خود امام بیہقی نے اس حدیث کو اور دوسر ایک حدیث کو " حدیثان ضعیفان لا یحتج بأمثالھا" قرار دیا ہے۔ (السنن الکبریٰ: 222/2)
تنبیہ: یہ روایت کنز العمال (549/7 ح 20203) میں بحوالہ بیہقی و ابن عدی (الکامل: 501/2) منقول ہے۔(کنز العمال میں لکھا ہوا ہے کہ: عدق و ضعفہ عن ابن عمر) بعض الناس نے کان کو اُلٹی طرف سے پکڑتے ہوئے اسے بحوالہ کنز العمال نقل کیا ہے۔