تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label دعا سے متعلق. Show all posts
Showing posts with label دعا سے متعلق. Show all posts

Monday, January 09, 2017

دعا عبادت کا مغز ہے حدیث صحیح ہے؟

دعا عبادت کا مغز ہے

ہمارے ہاں عام طور پر دعا کے فضائل میں ایک حدیث مشہور ہے کہ دعا عبادت کا مغز ہے لیکن یہ روایت اصول حدیث کی روشنی میں ضعیف ہے۔ اس حدیث کی تحقیق نیچے تصویر میں موجود ہے۔

جبکہ صحیح سند سے ایک حدیث دعا کے فضائل میں ملتی ہے جو کچھ اس طرح ہے:


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” دعا عبادت ہے، تمہارا رب فرماتا ہے : مجھ سے دعا کرو ، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ “ ( سورۃ غافر : ۶۰ )

(سنن ابی داود: 1479)

دعا عبادت کا مغز ہے حدیث صحیح ہے؟



Saturday, September 06, 2014

٭ نبی ﷺ کی قبرپر موجود درود پہنچانے والا فرشتہ

نبی ﷺ کی قبرپر موجود  درود پہنچانے والا فرشتہ
سیدنا عمار بن یاسر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
” إن اللہ وکل بقبري ملکا أعطاہ أسماع الخلائق، فلایصلّي علي أحدً إلیٰ یوم القیامۃ، إلّا بلغني باسمہ واسم أبیہ، ھذا فلان بن فلان، قد صلّٰی علیک“
” اللہ تعالیٰ میری قبر پر ایک فرشتہ مقر فرمائے گا جسے تمام مخلوقات کی آوازیں سننے کی صلاحیت عطا کی گئی ہوگی۔ روز قیامت تک جو شخص بھی مجھ پر درود پڑھے گا، وہ فرشتہ درود پڑھنے والے اور اس کے والد کا نام مجھ تک پہنچائے گا اور عرض کرے گا: اللہ کے رسول ! فلاں کے بیٹے فلاں نے آپ پر درود بھیجا ہے۔“
 (مسند البزّار:254/2، ح:1425، التاریخ الکبیر للبخاری:416/6، مسند الحارث: 962/2،ح:1063، الترغیب لابي القاسم التیمي:319/2، ح:1671)


سخت ضعیف: یہ روایت سخت ضعیف ہے، کیونکہ:
1: اس کا راوی عمران بن حمیری جعفی "مجہول الحال" ہے۔ سوائے ابن حبان رحمہ اللہ کے کسی نے اس کی توثیق نہیں کی۔
٭امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ منکر روایات بیان کرتا ہے۔" (التاریخ الکبیر:416/6)
٭علامہ ذہبی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں: "یہ مجہول راوی ہے۔" (میزان الاعتدال:236/3)
٭حافظ منذری رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ (القول البدیح للسخاوي: ص 119)
٭حافظ ہیثمی، حافظ ذہبی پر اعتماد کرتےہوئے فرماتے ہیں: "صاحبِ میزان الاعتدال (علامہ ذہبی رحمہ اللہ) کا کہنا ہے کہ یہ راوی مجہول ہے۔" (مجمع الزوائد:162/10)
٭علامہ عبد الرؤف مناوی، علامہ ہیثمی کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "میں اسے پہچان نہیں پایا۔" (فیض القدیر:612/2)
2:اس کا راوی نعیم بن ضمضم ضعیف ہے۔ اس کے بارے میں:
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ضعیف الحدیث راوی ہے۔ (المغني في الضعفاء:701/2)
٭علامہ ہیثمی لکھتے ہیں: "نعیم بن ضمضم ضعیف راوی ہے" (مجمع الزوائد: 162/10)
اس کے بارے میں ادنیٰ کلمہ توثیق بھی ثابت نہیں۔


Tuesday, September 02, 2014

٭ مسجد کی طرف جاتے وقت دعا


مسجد کی طرف جاتے وقت دعا (وسیلہ کی دلیل)
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جو اپنے گھر سے نماز کے لیے نکلے اور یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالیٰ اپنے چہرے کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس  کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے ہیں:
”اللھم انّی أسألک بحق السّائلین علیک، وأسألک بحقّ ممشای ھذا“
”اے اللہ ! میں دعا کرنے والوں کا جو آپ پر حق ہے، اس کے طفیل اور میرے  اور میرے اس چلنے کے طفیل سوال کرتا ہوں۔“
 (سنن ابن ماجہ: 778)
سخت ضعیف: اس کی سند  سخت ترین" ضعیف" ہے،
(ا) اس کا راوی عطیہ بن سعد العوفی جمہور کے نزدیک "ضعیف " ہے، نیز "مدلس" بھی ہے۔
٭حاافظ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "جمہور کے نزدیک یہ راوی ضعیف ہے۔" (تھذیب الاسماء واللغات للنووی:48/1)
٭حافظ عراقی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "ضعفہ الجمھور" (طرح التثریب لابن العراقی: 42/3)
٭حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "ولأکثر علی تضعیفہ" (مجمع الزوائد:412/10)
٭حافظ ابن الملقن رحمہ اللہ اسے "ضعیف" قرار دے کر لکھتے ہیں: "جمہور اس کی تضعیف کرتے ہیں۔" (البدر المنیر لابن الملقن:463/7)
٭امام ہشیم بن بشیر اور امام سفیان ثوری رحمہ اللہ نے اسے "ضعیف" قرار دیا ہے۔ (الجرح التعدیل: 383/6)
٭امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ ضعیف حدیث والا ہے۔"، امام ابو زرعہ الرازی نے اسے "لیّن" کہا ہے اور امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ضعیف الحدیث ہے، اس کی حدیث (متابعات و شواہد میں) لکھی جائے گی۔" (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم:383/6)
٭امام بخاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "امام یحییٰ عطیہ پر کلام (جرح) کرتے تھے۔" (التاریخ الکبیر للامام البخاری:83/4)
٭امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ راوی ضعیف ہے، البتہ اس کی روایت (متابعات و شواہد) میں لکھی جائے گی۔" (الکامل لابن عدی: 369/5، وسندہ حسن)
٭ امام نسائی رحمہ اللہ نے "ضعیف"  کہا ہے۔ (میزان الاعتدال:80/3)
٭امام ساجی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "قابل حجت نہیں ہے۔" (تھذیب التھذیب: 202/7)
٭حافظ ابن حزم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "سخت ضعیف ہے۔" (المحلی لابن حزم:86/11)
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے "ضعیف" لکھا ہے۔ (میزان الاعتدال فی نقد الرجال للذہبی: 80/3)
٭حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ  بھی "ضعیف" قرار دیتے ہیں۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر: 89/6، بتحقیق المھدی)
لہٰذا امام عجلی، امام ابن سعد اور امام ترمذی رحمہم اللہ کا اسے "ثقہ" کہنا جمہور کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابل التفات ہے۔

Saturday, April 26, 2014

٭ وضو کے دوران ہر عضو پر دعائیں


من گھڑت  سند کے ساتھ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے  مروی ایک روایت میں ہے کہ:
 
میں رسول اللہ ﷺ کے پاس داخل ہوا۔ آپ کے سامنے پانی کا برتن تھا۔ آپ نے فرمایا: "یا أنس ! ادن مني أعلمک مقدیر الوضوء" اے انس ، میرے قریب ہوجاؤ میں تمہیں وضو کی مقداریں (درجے یعنی دعائیں) سکھاؤں، میں آپ ﷺ کے قریب ہوگیا۔
آپ ﷺ نےجب  ہاتھ دھوئے تو فرمایا "بسم اللہ و الحمد اللہ۔۔۔" جب استنجا کیا تو فرمایا: "اللھم حصّن لی فرجی،۔۔۔" جب کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تو کہا "اللھم لقنی حجتی ولا۔۔۔۔" جب اپنا چہرہ دھویا تو فرمایا "اللھم بیض و جھي یوم۔۔۔" جب کہنیوں تک ہاتھ دھو لئے تو کہا "اللھم اعطنی کتابي۔۔۔" جب سر کا مسح کیا تو فرمایا "اللھم تغشنا برحمتک۔۔۔" جب اپنے دونوں پاؤں دھوئے تو کہا "اللھم ثبت قدمی ۔۔۔"
پھر نبی ﷺ نے فرمایا: "اے انس! اس ذات کی قسم ہے جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ جو آدمی بھی وضو کے دوران یہ دعائیں پڑھتا ہے تو اس کی انگلیوں سے جتنے قطرے گرتے ہیں ان کے بدلے اللہ تعالیٰ اتنے فرشتے پیدا کر دیتا ہے۔ ہر فرشتہ ستر زبانوں کے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کرتا رہتا ہے۔ اسے اس (بے شمار) تسبیح کا ثواب قیامت کے دن ملے گا ۔”
موضوع و من گھڑت:
یہ حدیث من گھڑت ہے جسے رسول اللہ ﷺ سے منسوب کردیا گیا ہے۔ فنِ حدیث کے ماہر علماء نے اس حدیث کا انکار کیا ہے۔
٭حافظ ابن حجر نے امام ابن الصلاح سے نقل کیا کہ "اس بارے میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہے" (التلخیص الحبیر:110/1)
٭امام نووی نے کہا: "اس کی کوئی اصل نہیں ہے" (المجموع شرح المھذب:489/1)
انہوں نے اپنی دوسری کتاب "الاذکار" (ص 57) میں فرمایا: "اعضائے وضو پر دعا کے بارے میں نبی ﷺ سے کوئی (ثابت و باسند) حدیث نہیں آئی ہے۔"
٭شیخ الاسلام ابن القیم نے"المنار المنیف" (ص 120) میں کہا: "اعضائے وضو پر ذکر (اور دعاؤں) والی تمام احادیث باطل ہیں۔ ان میں سے کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔"
٭ امام  ابن جوزی فرماتے ہیں : "یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں۔ " (العلل المتانھیۃ:339/1)
فائدہ: وضو کے بارے میں سنت یہ ہے کہ شروع میں "بسم اللہ" پڑھی جائے۔ (سنن النسائی، الطھارۃ باب التسمیہ عند الوضوء ح 78)
اور وضو کے اختتام پر نبی ﷺ سے ثابت شدہ ذکر: "أشھد أن لا إلہ إلا اللہ و حدہ لا شریک لہ، و اشھد ان محمداً عبدہ و رسولہ" پڑھیں۔ (صحیح مسلم، الطھارۃ باب الذکر المستحب عقب الوضوء ح 234)

Thursday, February 20, 2014

٭ آگ دیکھنے پر اللہ اکبر کہنا

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اذا رأیتم الحریق فکبّروا، فانّ التّکبیر یطفئۃ۔
 "جب تم آگ دیکھو تو تکبیر کہو، کیونکہ اللہ اکبر اس کو بجھا دیتا ہے۔"
(عمل الیوم اللیلۃ لابن السنی: 295-298، الدعاء للطبرانی:1266)
موضوع(من گھڑت): ٭ یہ موضوع روایت ہے، کیونکہ اس کی سند میں قاسم بن عبد اللہ بن عمر راوی "متروک" ہے، امام احمد نے اسے جھوٹا کہا ہے۔ (تقریب التہذیب:5468)
٭ طبرانی (الدعاء: 1266-1267) میں اس کی متابعت اس کے بھائی عبد الرحمٰن بن عبد اللہ بن عمر نے  کررکھی ہے، وہ بھی "کذاب" ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اسے "متروک" کہا ہے۔ (3922)
٭الکامل لابن عدی اور الدعوات الکبیر للبیہقی میں متابعتاً ابنِ لہیعہ کی روایت آتی ہے تو یہ ابن لہیعہ (ضعیف عند الجمہور) کی تدلیس ہے، جیسا کہ ابن ابی مریم کہتے ہیں:"اس حدیث کو ابن لہیعہ نے ہمارے ایک ساتھی زیاد بن یونس الحضرمی سے سنا، وہ قاسم بن عبد اللہ بن عمر سے بیان کرتا ہیں، ابن لہیعہ اسے مستحسن عمل خیال کرتےتھے، پھر انھوں نے کہا، اسے وہ عمر بن شعیب سے بیان کرتا ہے۔ " (الضعفاء الکبیر للعقیلی: 296/2)
ثابت ہوا کہ یہ متابعت اس سند کی ہے، جس میں قاسم بن عبد اللہ "کذاب" راوی موجود ہے۔

Sunday, February 09, 2014

٭ آدم علیہ السلام نے محمد ﷺ کا وسیلہ پکڑا



آدم علیہ السلام نے محمد ﷺ کا وسیلہ پکڑا

جب آدم علیہ السلام نے گناہ کا ارتکاب کیا تو کہا اے پروردگار ! میں محمد ﷺ کے حق کا واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتا ہوں مجھے معاف فرما دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے آدم (علیہ السلام) ! تو نے محمد(ﷺ) کو کیسے جانا، میں نے تو اسے ابھی پیدا بھی نہیں کیا ؟ آدم علیہ السلام نے کہا پروردگار ! جب تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے بنایا اور میرے اندر اپنی روح پھونکی تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ عرش کے پایوں پر لکھا ہوا ہے "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" مجھے معلوم ہوگیا کہ تو نے اپنے نام کے ساتھ جس کا اضافہ کیا ہے وہ مخلوق میں تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے آدم (علیہ السلام) ! تو نے سچ کہا ہے۔ یقیناً مخلوق میں مجھے وہ سب سے زیادہ محبوب ہے لہٰذا تو مجھے اس کا واسطہ دے کر پکار، بلاشبہ میں  نےتمہیں معاف کردیا ہے اور اگر محمد (ﷺ) نہ ہوتا تو تجھے پیدا ہی نہ کرتا۔


موضوع: امام ابن تیمیہ  اور البانی رحمہم اللہ نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔ (الأ حادیث و الأثار الذی تکلم علیھا شیخ الاسلام ابن تیمیۃ: ص، 19) ، (السلسلۃ الضعیفۃ : 25)
تنبیہ : طاہر القادری صاحب نے اس روایت کو بحوالہ المستدرک للحاکم ( ۲؍ ۶۱۵) نقل کر کے لکھا ہے:

"اس حدیث پاک کو جن علماء اور ائمہ و حفاظ حدیث نے اپنی کتب میں نقل کر کے صحیح قرار دیا ہے، ان میں سے بعض یہ ہیں:

"  ( البیہقي في الدلائل، ۵:۴۸۹) ، (    ابو نعیم فی الحلیۃ ، ۹: ۵۳) ، ( التاریخ الکبیر ، ۷: ۳۷۴) ، ( المعجم الصغیر للطبراني، ۲: ۸۲) ، (الہیثمي في مجمع الزوائد، ۸: ۱۵۳) ، (ابن عدي في الکامل ، ۴: ۱۵۸۵) ، ( الدر المنثور، ۱: ۶۰) ، (الآجري في الشریعۃ ۴۴۲۔ ۴۲۵) ،  (فتاوٰی ابن تیمیہ ، ۲: ۱۵۰ ) ‘‘
حوالہ :  ( عقیدہ  توحید اور حقیقت ِشرک، ص ۲۶۶، اشاعت ہفتم ،جون ۲۰۰۵)

اس عبارت میں طاہر القادری صاحب نے نو(۹) مذکورہ کتابوں اور علماء کے بارے میں نو (۹) عدد غلط بیانیاں کی ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

1۔امام بیہقی نے اس روایت کو صحیح نہیں کہا، بلکہ فرمایا: "اس سند کے ساتھ عبدالرحمن بن زید بن اسلم منفرد ہوا، اور وہ ضعیف ہے۔ "( واللہ اعلم ) ( دلائل النبوۃ :۵؍ ۴۸۹ ،طبع دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان ) امام بیہقی نے توراوی کو ضعیف قرار دیا ہے اور قادری صاحب کہہ رہے ہیں کہ اُنہوں نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ۔ سبحان اللہ!

2۔حافظ ابو نعیم الاصبہانی کی کتاب حلیۃ الأولیاء ( ۹؍ ۵۳) میں یہ روایت نہیں ملی اور نہ اسے ابو نعیم کا صحیح قرار دینا ثابت ہے۔

3۔التاریخ الکبیرسے مراد اگر امام بخاری کی کتاب التاریخ الکبیرہے تو یہ روایت وہاں نہیں ملی اور نہ امام بخاری سے اسے صحیح قرار دینا ثابت ہے۔اگر التاریخ الکبیرسے مراد کوئی دوسری کتاب ہے تو اس کی صراحت کیوں نہیں کی گئی بلکہ یہ تو صریح تدلیس ہے۔

4۔المعجم الصغیر للطبراني (۲؍ ۸۲، ۸۳ ح ۱۰۰۵، بترقیمی) میں یہ روایت موجود ہے لیکن امام طبرانی نے اسے صحیح قرار نہیں دیا بلکہ فرمایا:یہ (سیدنا) عمرؓسے صرف اسی اسناد (سند ) کے ساتھ مروی ہے، احمد بن سعید نے اس کے ساتھ تفرد کیا ہے۔

5۔حافظ ہیثمی نے اس روایت کو صحیح قرار نہیں دیا، بلکہ لکھا ہے: ’’ اسے طبرانی نے الأوسط اورالصغیرمیں روایت کیا اور اس میں ایسے راوی ہیں جنھیں میں نہیں جانتا ۔‘‘ ( مجمع الزوائد: ۸؍ ۲۵۳)

6۔ابن عدی کی کتاب الکامل کے محولہ صفحے بلکہ ساری کتاب میں یہ روایت نہیں ملی۔

7۔درّمنثور(۱؍ ۵۸، دوسرا نسخہ ۱؍ ۱۳۱) میں یہ روایت بحوالہ المعجم الصغیر للطبراني، حاکم،الدلائل لأبي نعیم، الدلائل للبیہقي اور ابن عساکر موجود ہے، لیکن اسے صحیح قرار نہیں دیا گیا۔

8۔الآجري نے اسے صحیح قرار نہیں دیا۔ (الشریعہ: ص ۴۲۷، ۴۲۸ ح ۹۵۶، دوسرا نسخہ :۳؍ ۱۴۱۵)

9۔حافظ ابن تیمیہ ؒ نے اس روایت کو بحوالہ ابو نعیم في دلائل النبوۃ نقل توکیا ہے مگر صحیح قرار نہیں دیا،بلکہ عرش کے بارے میں صحیح اَحادیث کی تفسیر کے طور پر نقل کیا۔  (دیکھئے: مجموع فتاویٰ : ۲؍ ۱۵۰، ۱۵۱)بلکہ ابن تیمیہؒ نے بذاتِ خود اس روایت پر جرح کی ، فرمایا: ’’اس حدیث کی روایت پر حاکم پر انکار کیا گیا ہے،کیونکہ اُنہوں نے خود (اپنی)کتاب المدخل میں کہا:  عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے اپنے باپ سے موضوع حدیثیں روایت کیں۔۔۔( قاعدۃ جلیلۃ في التوسل والوسیلۃ ص ۸۵، مجموع فتاویٰ ج۱ص ۲۵۴۔ ۲۵۵)

قادری صاحب کی نو( ۹) غلط بیانیوں کے تذکرے کے بعد عرض ہے کہ مستدرک الحاکم وغیرہ کی روایتِ مذکورہ موضوع ہے۔  اسے حافظ ذہبی نے موضوع کہا اور باطل خبر قرار دیا۔ حافظ ابن حجر نے ’خبرًا باطلا‘ والی جرح نقل کر کے کوئی تردید نہیں کی یعنی حافظ ابن حجر کے نزدیک بھی یہ روایت باطل ہے۔ (دیکھئے: لسان المیزان :۳؍ ۳۶۰، دوسرا نسخہ :۴؍ ۱۶۲)

٭۔اگر کوئی کہے کہ حاکم نے اسے صحیح الإسناد کہا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تصحیح کئی وجہ سے غلط ہے۔مثلاً:

1۔خود حاکم نے اس روایت کے ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم کے بارے میں فرمایا:

"اُس نے اپنے باپ سے موضوع حدیثیں بیاں کیں ۔" ( المدخل إلی الصحیح ص ۱۵۴ت ۹۷)

گویا وہ اپنی شدید جرح بھول گئے تھے۔

2۔حاکم کی یہ جرح جمہور علماء مثلاً حافظ ذہبی وغیرہ کی جرح سے معارض ہے۔

3۔حاکم اپنی کتاب المستدرک میں متساہل تھے۔

4۔اس کی سند میں عبداللہ بن مسلم راوی ہے، جس کے بارے میں حافظ ابن حجرؒ نے فرمایا کہ اس کا عبداللہ بن مسلم بن رشید ہونا میرے نزدیک بعید نہیں ہے۔ ( لسان المیزان ۳؍ ۳۶۰)

اس ابن رشید کے بارے میں حافظ ابن حبان نے فرمایا:"یضع" وہ ( حدیثیں) گھڑتا تھا۔ ( المجروحین:۲؍ ۴۴، لسان المیزان:۳؍ ۳۵۹)