تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label رافضیوں سے متعلق. Show all posts
Showing posts with label رافضیوں سے متعلق. Show all posts

Saturday, April 04, 2015

٭ ابو طالب کا ایمان


ابو طالب کا ایمان
 
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
فلما رأی حرص رسول اللہ ﷺ علیه قال :یا ابن أخي! والله، لو لا مخافة السبة علیك وعلی بني أبیک من بعدي، وأن تظن قریش أني إنما قلتھا جزعا من الموت لقلتھا، لا أقولھا إلا لإسرک بھا، قال: فلما تقارب من أبي طالب الموت قال: نظر العباس إلیه یحرک شفتیه، قال: فأصغی إلیه بأذنه، قال: فقال: یا ابن أخي ! واللہ، لقد قال أخي الکلمة التي أمرته أن یقولھا، قال: فقال رسول اللہ ﷺ : لم أسمع.
"جب ابو طالب نے اپنے( ایمان کے) بارے میں رسول اللہ ﷺ کی حرص دیکھی تو کہا: اے بھتیجے ! اللہ کی قسم، اگر مجھے اپنے بعد آپ اور آپ کے بھائیوں پر طعن و تشنیع کا خطرہ نہ ہوتا، نیز قریش یہ نہ سمجھتے کہ میں نے موت کے ڈر سے یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں کلمہ پڑھ لیتا۔ میں صرف آپ کو خوش کرنے کیلئے ایسا کروں گا۔ پھر جب ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو عباس نے ان کو ہونٹ ہلاتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے اپنا کان لگایا اور (رسول اللہ ﷺ سے ) کہا: اےبھتیجے ! یقیناً میرے بھائی نے وہ بات کہہ دی ہے جس کے کہنے  کا آپ نے اُنہیں حکم دیا تھا۔"
 (السیرۃ لابن ھشام: ۴۱۷/۱، ۴۱۸، المغازي لیونس بن بکیر: ص ۲۳۸، دلائل النبوۃ للبیھقي: ۳۴۶/۲)

سخت ضعیف:
 یہ روایت سخت"ضعیف" ہے ،کیونکہ:
٭ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "اس حدیث کی سند کا ایک راوی نا معلوم ہے۔ اس کے برعکس صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو طالب کفر کی حالت میں فوت ہوئے۔" (تاریخ ابن عساکر: ۳۳/۶۶)
٭حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: " ھٰذا إسنادمنقطع ۔۔۔۔"الخ ،  یہ سند منقطع ہے۔۔۔۔۔ (تاریخ الاسلام: ۱۵۱/۲)
٭حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إن في السند مبھما لا یعرف حاله، وھو قول عن بعض أھله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد........ و الخبر عندي ما صح لضعف في سندہ"
اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے، جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے، نیز یہ اُس کے بعض اہل کی بات ہے جو کہ نام اور حالات دونوں میں ابہام ہے۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا
ہے۔۔۔ میرے نزدیک یہ روایت سند کے ضعیف ہونے کی بنا پر صحیح نہیں۔ (البدایة و النھایة لابن کثیر: ۱۲۳/۳ ۔ ۱۲۵)
٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "بسند فیه لم یسم...... و ھذا الحدیث لو کان طریقه صحیحا لعارضه ھذا الحدیث الذی ھو أصح منه فضلا عن أنه لا یصح."
یہ روایت ایسی سند  کے ساتھ مروی ہے جس میں ایک راوی کا نام ہی بیان نہیں کیا گیا.... اس حدیث کی سند اگر صحیح بھی ہو تو یہ اپنے سے زیادہ صحیح حدیث کے معارض ہے۔ اس کا صحیح نہ ہونا مستزاد ہے۔ (فتح الباری لابن حجر: ۱۸۴/۷)
٭علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "في سند ھذا الحدیث مبھم لا یعرف حاله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد."
اس حدیث کی سند میں ایک مبہم راوی ہے جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے۔ نام اور حالات دونوں مجہول ہیں۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا ہے۔ (شرح ابي داؤد للعیني الحنفي: ۱۷۲/۶)

ابو طالب کے  بارے میں صحیح روایات:

٭ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بیان کرتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا (ابو طالب) سے کہا: آپ لا اٰلہ الا اللہ کہہ دیں۔ میں قیامت کے روز اس کلمے کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔ اُنہوں نے جواب دیا:  اگر مجھے قریش طعنہ نہ دیتے کہ موت کی گھبراہٹ نے اسے آمادہ کردیا ہے تو میں یہ کلمہ پڑھ کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کردیتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی: ﴿یقینا جسے آپ چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، البتہ جسے اللہ چاہے ہدایت عطا فرمادیتا ہے۔ القصص: ۵۶﴾  " 
(صحیح مسلم: ۲۵)
٭ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: "اے اللہ کے رسول ! کیا آپ نے جو ابو طالب کو کوئی فائدہ دیا ۔ وہ تو آپ کا دفاع کیا کرتے تھے اور آپ کے لیے دوسروں سے غصے ہوجایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ! (میں نے انہیں فائدہ پہنچایا ہے) وہ اب بالائی طبقے میں ہیں۔ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے نچلے حصے میں ہوتے۔" (صحیح البخاری:۳۸۸۳، صحیح مسلم: ۲۰۹)

٭سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "انہوں نے نبیٔ  اکرم ﷺ کو سنا۔ آپ کے پاس آپ کے چچا (ابو طالب) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: شاید کہ اُن کو میری سفارش قیامت کے دن فائدہ دے اور اُن کو جہنم کے بالائی طبقے میں رکھا جائے جہاں عذاب صر ف ٹخنوں تک ہو اور جس سے (صرف) اُن کا دماغ کھولے گا۔" (صحیح البخاری: ۳۸۸۵، صحیح مسلم: ۲۱۰)

٭سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جہنمیوں میں سے سب سے ہلکے عذاب والے شخص ابو طالب ہوں گے۔ وہ آگ کے دو جوتے پہنے ہوں گے جن کی وجہ سے اُن کا دماغ کھول رہا ہوگا۔" (صحیح مسلم: ۲۱۲)

٭خلیفہ راشد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنه بیان کرتے ہیں: "جب میرے والد فوت ہوئے تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: آپ کے چچا فوت ہوگئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جاکر دفنا دیں۔ میں نے عرض کی: یقینا وہ مشرک ہونے کی حالت میں فوت ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جائیں اور انہیں دفنا دیں، لیکن جب تک میرے پاس واپس نہ آئیں کوئی نیا کام نہ کریں۔ میں نے ایسا کیا، پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے غسل کرنے کا حکم فرمایا۔" (مسند الطیالسی: ص ۱۹،ح۱۲۰ وسندہ حسن متصل)
ایک روایت کے الفاظ ہیں: "سیدنا علی رضی اللہ نے عرض کی: آپ کے  گمراہ چچا فوت ہوگئے ہیں۔ ان کو کون دفنائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جائیں اور اپنے والد کو دفنا دیں۔" (مسند الامام احمد: ۹۷/۱، سنن ابی داؤد: ۳۲۱۴، سنن النسائی: ۱۹۰، ۲۰۰۸، واللفظ له، و سندہ حسن)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (کما في الاصابة لابن حجر: ۱۱۴/۷) اور امام ابن جارود رحمہما اللہ (۵۵۰) نے "صحیح" قرار دیا ہے۔
یہ حدیث نص قطعی ہے کہ ابو طالب مسلمان نہیں تھے۔ اس پر نبیٔ اکرم ﷺ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ تک نہیں پڑھی۔

٭سیدنا اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا انتہائی واضح بیان ملاحظہ ہو: "عقیل اور طالب دونوں ابو طالب کے وارث بنے تھے، لیکن (ابو طالب کے بیٹے) سیدنا جعفر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے اُن کی وراثت سے کچھ بھی نہیں لیا کیونکہ وہ دونوں مسلمان تھے جبکہ عقیل اور طالب دونوں کافر تھے۔ " (صحیح البخاری: ۱۵۸۸، صحیح مسلم: ۱۶۱۴ مختصراً)
یہ روایت بھی بیّن دلیل ہے کہ ابو طالب کفر کی حالت میں فوت ہوگئے تھے۔ اسی لیے عقیل اور طالب کے برعکس سیدنا جعفر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما  اُن کے وارث  نہیں نے کیونکہ نبیٔ اکرم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "نہ مسلمان کافر کا وارث بن سکتا ہے نہ کافر مسلمان کا۔" (صحیح البخاری: ۶۷۶۴، صحیح مسلم: ۱۶۱۴)
 ابو طالب کے ایمان لائے بغیر فوت ہونے پر رسول اللہ ﷺ کو بہت صدمہ  ہوا تھا۔  وہ یقیناً پوری زندگی اسلام دوست رہے۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے وہ ہمیشہ اپنے دل میں ایک نرم گوشہ رکھتے رہے لیکن اللہ کی مرضی کہ وہ اسلام کی دولت سے سرفراز نہ ہو پائے۔ اس لیے ہم اُن کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھنے کے باوجود دُعاگو نہیں ہوسکتے۔
٭حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ ابو طالب کے کفر پر فوت ہونے کا ذکر نے کے بعد لکھتے ہیں: "اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں مشرکین کے لیے استغفار کرنے سے منع  نہ فرمایا ہوتا تو ہم ابو طالب کیلئے استغفار کرتے اور اُن کیلئے رحم کی دُعا بھی کرتے!" (سیرۃ الرسول لابن کثیر: ۱۳۲/۲)

Saturday, January 24, 2015

٭سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کے اماموں کی مثال

سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور  ان کی اولاد کے اماموں کی مثال
 
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
 فمثلک ومثل الأئمة من ولدک بعدي، مثل سفینة نوح علیہ السلام، من رکبھا نجا، ومن تخلف عنھا غرق، ومثلکم مثل النجوم،کلما غاب نجم طلع نجم، إلیٰ یوم القیامة
"(اے علی !) میرے بعد تیری اور تیری اولاد کے اماموں کی مثال کشتیٔ نوح کی مانند ہے کہ جو اس میں سوار ہوگیا وہ نجات پاگیا اور جو اس میں سوار ہونے سے رہ گیا وہ غرق ہوگیا۔ تیری مثال ستاروں کی مانند ہے، ایک ستارہ غروب ہوتا ہے تو دوسرا طلوع ہوجاتا ہے۔ قیامت تک ایسا ہی رہے گا۔“
(المنقبة لابن شاذان: ۱۸)

موضوع (من گھڑت): یہ روایت جھوٹ کا پلندہ ہے، کیونکہ:
۱:اس کا راوی سعد بن طریف اسکانی خفاف  "متروک" اور رافضی تھا۔
٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: متروک، ورماہ ابن حبان بالوضع، وکان رافضیا
"یہ متروک راوی ہے، امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کو جھوتی حدیثیں گھڑنے والا قرار دیا ہے۔ یہ رافضی بھی تھا۔" (تقریب التھذیب: ۲۲۴۱)
۲: صاحب ِکتاب   محمد بن احمد بن علی بن حسین بن شاذان دجال اور کذاب ہے۔ اس کے بارے میں:
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اخطب خوارزم نے اس شاذان دجال کی سند سے سیدنا علی رضی اللہ کے مناقب میں بہت سی جھوٹی، باطل اور ناقابل یقین روایتیں بیان کی ہیں۔"(میزان الاعتدال: ۴۶۷/۳)
٭نیز اس کی بیان کردہ ایک روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: ھذا کذب "یہ جھوٹ ہے۔" (میزان الاعتدال: ۴۶۷/۳)

Monday, November 24, 2014

٭ حدیثِ طیر/ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور پرندے کاگوشت


حدیثِ طیر
 
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے:
إن النبي صلی اللہ علیہ وسلم کان عندہ طائر، فقال: "اللھم ائتني بأحب خلقک إلیک یأکل معي من ھذا الطیر" فجاء أبوبکر، فردہ، وجاء عمر، فردہ، وجاء علي، فأذن له
” نبی کریمﷺ کے پاس ایک (پکا ہوا) پرندہ تھا۔ آپ ﷺ نے دعا کی: اے اللہ! اپنے اس بندے کو بھیج دے، جو تجھے تیری مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے، وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، لیکن آپﷺ نے انہیں واپس بھیج دیا۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو انہیں بھی بھیج دیا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے، تو آپ ﷺ نے ان کو اجازت دے دی۔ “
(السنن الکبریٰ للنسائی: ۱۰۷/۵، ح۸۳۹۸، خصائص علي بن أبي طالب للنسائي:۱۰)
 
ضعیف: یہ "ضعیف" اور "منکر" روایت ہے، کیونکہ:
۱: اس کا راوی مسہر بن عبد الملک کمزور راوی ہے۔ (تقریب التھذیب لابن حجر: ۶۶۶۷)
٭اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "فیه بعض النظر" اس پر بعض محدثین نے کلام کی ہے۔ (التاریخ الصغیر: ۲۵۰/۲)
٭امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "والمسھر غیر ماذکرت، ولیس بالکثیر" مسہر نے اس کے علاوہ بھی روایات بیان کی ہیں، مگر یہ کثیر الروایہ نہیں ہے۔ (الکامل في الضعفاء الرجال:
۴۵۸/۶)
٭امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے "الثاقت" (۱۹۷/۹) میں ذکر کرکے لکھا ہے: "یخطیٔ ویھم" یہ روای غلطیوں اور اوہام کا شکار تھا۔
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے "لین" (کمزور راوی) کہا ہے۔ (المقتنٰی في سرد الکنٰی: ۵۴۱۹)
نیز انہوں نے اسے "لیس بالقوی" (قوی نہیں ہے) بھی کہا ہے۔ (المغني في الضعفاء: ۶۵۸/۲)
 واضح طور  اسے صرف حسن بن حماد نصیبی نے ثقہ کہا ہے۔ (مسند أبي یعلٰی: ۴۰۵۲، الکامل في الضعفاء الرجال لابن عدي: ۴۵۷/۶ وسندہ صحیح)
 تنبیہ: اس روایت کی بہت ساری سندیں ہیں، وہ ساری کی ساری "ضعیف، موضوع و من گھڑت" ہیں۔ صرف سیدنا انس رضی اللہ والی روایت کی ۳۴ کے قریب سندیں ہیں۔
٭حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "فھٰذہٖ طرق متعددۃ عن أنس بن مالک، وکل منھا فیه ضعف ومقال‮" سیدنا انس بن مالک  رضی اللہ عنہ  سے مروی حدیث کی یہ مختلف سندیں ہیں۔  ان میں سے ہر ایک میں ضعف و مقال ہے۔ (البدایة والنھایة: ۳۵۳/۷)
٭امام حاکم رحمہ اللہ نے جب اس روایت کے دفاع میں یہ کہا کہ: "وقد رواہ عن أنس أکثر من ثلاثین نفسا" اس روایت کو سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے تیس سے زائد راویوں نے بیان  کیا ہے۔
تو ان کے ردّ وجواب میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے کیا خوب کہا: "فصلھم بثقة یصح الإسناد إلیه" ان میں سے کوئی ایک ثقہ راوی ایسا بتادیں، جس تک صحیح سند پہنچ رہی ہو۔ (البدایة والنھایة  لابن کثیر: ۳۵۱/۷)
متن کا اضطراب: اس حدیث کی تمام  سندیں    باطل ومردود ہیں  ہی ساتھ ساتھ اس کے متن میں بھی اضطراب واختلاف پایا جاتا ہے:
۱:پہلا اختلاف یہ ہے کہ یہ کون سا پرندہ تھا؟ مسند ابویعلیٰ اور ابن عدی کی روایت میں حجل، ابن عساکر کی روایت میں حباریٰ، ابن المغازلی کی روایت میں یعاقیب اور ابن المغازلی ہی کی ایک  روایت میں نحامہ جبکہ ابن عساکر کی ایک روایت میں دجاجۃ کا ذکر ہے۔
۲: پرندے کی تعداد میں بھی اختلاف ہے۔ بعض روایات میں اطیار بعض میں طوائر اور بعض میں نحامات کا ذکر ہے۔
۳:اس میں بھی اختلاف ہے کہ پرندہ کس نے ہدیہ کیا تھا؟ عقیلی اور طبرانی کی روایت میں سیدہ ام ایمن  رضی اللہ عنہا کا ذکر ہے، ابن عساکر  اور ابن المغآزلی کی روایت میں انصار کی ایک عورت کا ذکر ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا انصاریہ نہیں تھیں۔

محدثین کرام اور حدیث طیر:
جمہور محدثین کرام رحمہم اللہ نے اس روایت کو "ضعیف" کہا ہے:
۱: امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وھذا الباب ؛ الروایة لین و ضعیف، ولانعلم فیه شیئاً ثابتاً"
اس بارے میں منقول تمام روایات میں کمزوری اور ضعف ہے، ہمارے علم کے مطابق اس سلسلے میں کچھ بھی ثابت نہیں۔ (الضعفاء الکبیر: ۴۶/۱)
٭نیز فرماتے ہیں: "طرق ھٰذا الحدیث؛ فیھا لین" اس حدیث کی سندوں میں کمزوری ہے۔ (الضعفاء الکبیر: ۱۸۹/۴)
۲:امام بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "روی عن أنس من وجوہ، وکل من رواہ عنه؛ فلیس بالقوي" اس روایت کو سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کئی سندوں کے ساتھ روایت کیا گیا ہے، البتہ  سیدنا انس رضی  اللہ عنہ سے اسے بیان کرنے والے راویوں میں سے کوئی بھی قوی نہیں۔ (مسند البزار: ۷۸۴۸)
۳:امام خلیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "حدیثِ طیر کو کسی ایک بھی ثقہ راوی نے بیان نہیں کیا۔ اسے صرف ضعیف راوی بیان کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمام محدثین نے اسے ردّ کیا  ہے۔" (الإرشاد في معرفة علماء الحدیث: ۴۲۰/۱)
۴:حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ، حافظ محمد بن طاہر مقدسی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں: "کل طرقهٖ، أي حدیث الطیر، باطلة معلولة" حدیث طیر کی تمام سندیں باطل اور معلول ہیں۔ (العلل المتناھیة: ۲۲۳/۱)
۵: حافظ محمد بن ناصر سلامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ روایت من گھڑت ہے، کیونکہ اس کو ضعیف کوفی راویوں نے مشہور اور مجہول راویوں کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ وغیرہ  سے بیان کیا ہے۔" (المنتظم لابن الجوزي: ۲۷۵/۷)
۶:خود حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس کی سولہ سندوں میں سے ہر ایک کی علت بیان کی اور فرمایا: "ابن مردویہ نے اس کو تقریباً بیس سندوں سے ذکر کیا ہے، مگر وہ تمام کی تمام سخت  ضعیف ہیں اور ان میں خرابی موجود ہے۔" (العلل المتناھیة: ۲۳۳/۱)
۷: حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:" وله طرق؛ کلھا ضعیفة" اس کی کئی سندیں ہیں لیکن سب کی سب ضعیف ہیں۔ (تخریج أحادیث الإحیاء: ص۸۵۵)
۸:شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إن حدیث الطائر من المکذوبات الموضوعات عند أھل العلم والمعرفة بحقائق النقل” حدیثِ طیر محققین علماء اور اہل فن محدثین کے نزدیک من گھڑت اور جھوٹی ہے۔ (منھاج السنة: ۹۹/۴، وفي نسخة: ۳۷۱/۷)
۹:حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس حدیث پر لوگوں نے متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ اس کی بہت سی سندیں ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک میں خرابی ہے" (البدایة والنھایة: ۳۵۱/۷، ۳۵۲)
نیز مذکورہ روایت کی بعض سندوں کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگرچہ اس حدیث کے طرق بکثرت ہیں، مگر دل میں اس کی صحت محل نظر ہے۔"(البدایة والنھایة: ۳۵۱/۷، ۳۵۴)
۱۰:علامہ دمیری رحمہ اللہ کہتے ہیں: "حدیثِ طیر کو امام طبرانی، ابو یعلیٰ اور بزار رحمہم اللہ نے متعدد سندوں سے بیان کیا ہے، لیکن وہ تمام ضعیف ہیں۔" (حیاۃ الحیوان: ۲۴۰/۲)
۱۱:علامہ شوکانی رحمہ اللہ، امام حاکم رحمہ اللہ کی تصحیح کے بارے میں فرماتے ہیں: "واعترض علیه کثیر من أھل العلم" اکثراہل علم نے امام حاکم رحمہ اللہ کے اسے صحیح کہنے پر اعتراض کیاہے۔ (الفوائد المجموعة: ص۳۸۲)
۱۲:علامہ محمد بن یعقوب فیروزآبادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "له طرق کثیرۃ، کلھا ضعیفة" اس کی بہت سی سندیں ہیں، مگر وہ تمام کی تمام ضعیف ہیں۔ (الفوائد المجموعة للشوکاني:ص۳۸۲)
۱۳:اس کو" ضعیف " ثابت کرنے کے لیے علامہ ابوبکربرقانی رحمہ اللہ نے ایک ضخیم کتاب لکھی ہے۔ (البدایة والنھایة لابن کثیر: ۳۵۴/۷)


صحیح حدیث کی مخالفت:حدیث ِطیر "ضعیف " ہونے کے ساتھ ساتھ اس متفق علیہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہے، ملاحظہ فرمائیں:
٭سیدنا عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
"میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: لوگوں میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ، پھر میں نے پوچھا: مردوں میں سے کون ہے؟ فرمایا: ان  کے والد (سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ)۔ میں نے عرض کیا: اس کے بعد۔ آپ ﷺ نے فرمایا: عمر۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے کئی آدمیوں کو شمار کیا۔ میں اس ڈر سے خاموش ہوگیا کہ  آپ ﷺ مجھے سب سے آخر میں ذکر کریں گے۔  " (صحیح البخاری: ۴۳۵۸، صحیح مسلم: ۲۳۸۴)

الحاصل:
اس میں کوئی شک نہیں کہ سیدنا علی بن ابو طالب  رضی اللہ عنہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو محبوب رکھتے تھے اور اللہ و رسول کو ہاں بھی محبوب تھے۔ (صحیح البخاری: ۴۲۱۰، صحیح مسلم:۲۴۰۶)
البتہ یہ کہنا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کو بالعموم سب سے زیادہ محبوب تھے ، صحیح نہیں، بلکہ حقائق کا چہرہ مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
نبی کریم ﷺ مردوں میں سب سے زیادہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو محبوب رکھتے تھے، تب ہی تو آپ رضی اللہ عنہ کو پہلا خلیفہ منتخب کیا گیا۔ اس حقیقت کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی اعتراف تھا کہ امت کے سب سے بہتر فرد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ سیدنا علی رضی  اللہ عنہ سے یہ قطعاً ثابت نہیں کہ انہوں نے خود  کو نبی کریم ﷺ کا سب سے محبوب خیال کرکے اپنے آپ کو خلافت کا اول حقدار قراردیا ہو۔
دیگر صحابہ کرام بھی یہی سمجھتے تھے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔ اس حوالے سے دلائل کا ذکر طوالت کا باعث ہوگا۔
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ جملہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت ہمارے ایمان کا جزوِلازم ہے۔ دلائل کے ذریعے صحابہ کرام کے فضائل میں باہمی تقابل کسی کی تنقیص کا سبب نہیں بنتا۔  ہم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی محبت کرتے ہیں اور سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے بھی۔
********




Sunday, September 21, 2014

٭ باغِ فدک


باغِ  فَدَک
 سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منسوب روایت ہے کہ:
(( لَمَّا نَزَلَت ھٰذِہِ الآیَةُ :"  وَآتِ ذَا القُربٰی حَقَّہُ " (بنی إسرائیل17: 26) دَعَا رَسُولُ ﷺ فَاطِمَةَ فَأَ عطَاھَا فَدَکَ ))
جب یہ فرمان باری تعالیٰ نازل ہوا کہ "اپنے عزیز و اقارب کو ان کا حق دیجئے"، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر باغِ فدک دے دیا۔“
 (مسند البزّار(کشف الأستار): 2223)
موضوع (من گھڑت) :یہ روایت من گھڑت ہے کیونکہ:
اس کے راوی عطیہ عوفی کو  جمہور محدثینِ کرام نے "ضعیف "قرار دیا ہے۔
(تھذیب الأسماء واللغات للنوي:48/1، طرح التثریب لابن العراقي: 42/3، مجمع الزوائد للھیثمي: 412/1، البدرالمنیر لابن الملقن: 463/7، عمدۃ القاري للعیني: 250/6)
اس کو امام یحییٰ بن سعید قطان، امام احمد بن حنبل، امام یحییٰ بن معین، امام ابو حاتم رازی، امام ابو زرعہ رازی، امام نسائی، امام ابن عدی، امام دارقطنی، امام ابن حبان اور علامہ جوزجانی رحمہم اللہ وغیرہ نے "ضعیف" قرار دیا ہے۔
 اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہوگیا تھا، جیساکہ :
٭حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "عطیہ عوفی کے ضعیف ہونے پر محدثین کرام نے اتفاق کرلیا ہے۔" (الموضوعات: 386/1)
٭نیز حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کرام کا اجماع ہے۔" (المغنی في الضعفاء: 62/2)
٭حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ باتفاقِ محدثین ضعیف ہے۔" (البدر المنیر: 313/5)
عطیہ عوفی تدلیس کی بُری قِسم میں بُری طرح ملوث تھا۔
٭ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ کمزور حافظے والا تھا اور بُری تدلیس کے ساتھ مشہور تھا۔" (طبقات المدلّسین، ص: 50)
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ زیر بحث روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: "یہ روایت باطل ہے، اگر واقعی ایسا ہوتا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس چیز کا مطالبہ کرنے نہ آتیں جو پہلے سے ان کے پاس موجود اور ان کی ملکیت میں تھی۔" (میزان الاعتدال: 135/3)
٭حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اگر اس روایت کی سند صحیح بھی ہو تو اس میں اشکال ہے، کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور فدک تو سات ہجری میں خیبر کے ساتھ فتح ہوا۔ کیسے اس آیت کو اس واقعہ کے ساتھ ملایا جاسکتا ہے۔" (تفسیر ابن کثیر:69/5م بتحقیق الدکتور سلامۃ)
تنبیہ: عطیہ عوفی اپنے استاذ ابو سعید محمد بن السائب الکلبی (کذاب) سے روایت کرتے ہوئے "عن  أبي سعید" یا "حدثني أبو سعید" کہہ کر روایت کرتے ہوئے یہ دھوکا دیتا تھا کہ وہ سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے  یہ روایت بیان کررہا ہے۔ یہ(والی) تدلیس حرام اور بہت بڑا فراڈ ہے۔ یاد رہے کہ عطیہ عوفی اگر عن ابی سعید کے ساتھ الخدری کی صراحت بھی کردے تو اس سے الکلبی ہی مراد ہے، سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ مراد نہیں ہیں۔
تفصیل کے لیے دیکھئے کتاب المجروحین لابن حبان (176/2)

 صحیح حدیث:   متواتر حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"ہماری میراث نہیں ہوتی۔ ہم (انبیاء) جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔" (صحیح البخاری:6727، صحیح مسلم: 1761، عن أبي ھریرۃ)