تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label تلاوت سے متعلق. Show all posts
Showing posts with label تلاوت سے متعلق. Show all posts

Tuesday, October 28, 2014

٭ قبرستان میں سورۂ یٰس کی تلاوت کرنا

قبرستان میں سورۂ یٰس کی تلاوت کرنا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَن دَخَلَ المَقَابِرَفَقَرَأَ سُورَۃَ یَس خَفَّفَ اللہُ عَنھُم وَکَانَ لَھُم بِعَدَدِ مَن فِیھَا حَسَنَات‬
جو کوئی قبرستان میں داخل ہو اور سورۂ یٰس  تلاوت کرے تو ان قبرستان والوں سے اللہ تعالیٰ
عذاب میں تخفیف فرماتا ہے اور پڑھنے والے  کومُردوں کی تعداد کے مطابق نیکیاں ملیں گی۔
(شرح الصدور للسیوطی: ص ۴۰۴)
موضوع (من گھڑت) :یہ روایت جھوٹ کا پلندہ ہے۔ محدث البانی رحمہ اللہ نے اس کی یہ سند ذکر کی  ہے:
"أخرجه الثّعلبیّ فی تفسیرہ (۱۶۱/۳/ ۲) من طریق محمد بن أحمد الرّیاحی، حدّثنا أبی، حدّثنا أیّوب بن مدرک عن أبی عبیدۃ عن الحسن عن أنس بن مالک ۔ ۔ ۔ ۔" (السسلسة  الضعیفة: ۱۲۴۶)
1: اس کاراوی ایوب بن مدرک کو امام یحیٰ بن معین رحمہ اللہ نے "کذاب"، امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ، امام نسائی رحمہ اللہ اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے "متروک"، امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللہ، امام یعقوب بن سفیان جوزجانی رحمہ اللہ، امام صالح بن محمد جزرہ اور امام ابنِ عدی رحمہمااللہ وغیرہم نے "ضعیف"  کہا ہے۔
٭ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ایوب بن مدرک نے امام مکحول سے ایک من گھڑت نسخہ روایت کیا ہے، ان کو دیکھا نہیں۔" (لسان المیزان لابن حجر: ۴۸۸/۱)
اس کے حق میں ادنیٰ کلمہ توثیق ثابت  نہیں۔
2: احمد بن ابی العوام الریاحی اور عبیدہ کی توثیق مطلوب ہے۔
3:امام حسن بصری رحمہ اللہ" مدلس" ہیں اور  "عن " سے روایت کررہے ہیں۔ سماع کی تصریح نہیں ہے۔
 ٭محدث البانی رحمہ اللہ نے  اس روایت کو من  گھڑت کہا ہے۔ (السلسلة الضعیفة: ۱۲۴۶)

Friday, February 07, 2014

٭ قرآن ِکریم پکڑ کر امامت کروانے کی ممانعت



قرآن ِکریم پکڑ کر امامت کروانے کی ممانعت
"سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں قرآنِ کریم ہاتھ میں پکڑ کر امامت کرانے سے منع فرمایا۔" (کتاب المصاحف : 772)
سخت ضعیف: اس روایت کی سند سخت ضعیف ہے ، کیونکہ :
(ا) اس کی سند میں نہشل بن سعید راوی "متروک" اور "کذاب" ہے۔ (تقریب التھذیب: 7197 ، میزان الاعتدال : 275/4)
(ب) اس کے راوی ضحاک بن مزاحم کا سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔(تفسیر ابن کثیر : 236/5 ،  التلخیص

Wednesday, February 05, 2014

٭ قبرستان میں گیارہ دفعہ سورہ اخلاص پڑھنا



قبرستان میں گیارہ دفعہ سورہ اخلاص پڑھنا
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص قبرستان پر گزرا ، پھر گیارہ مرتبہ "قل ھو اللہ أحد" پڑھ کر اس کا ثواب مردوں کو پہنچا دیا تو اس کو ان مردوں کی تعداد کے برابر ثواب عطا کیا جائے گا۔ (کنز العمال: 42596 بحوالہ الرافعی عن علی)
موضوع (من گھڑت) : عبدالکریم بن محمد الرافعی القزدینی کی کتاب "التدوین فی ذکر أھل العلم بقزوین" میں یہ روایت درج ذیل سند و متن سے مذکور ہے : " داود بن سلیمان الغازی أنبا علی بن موسی الرضا عن أبیہ موسی بن جعفر عن أبیہ جعفر بن محمد عن أبیہ محمد بن علی عن أبیہ علی بن الحسین عن أبیہ الحسین بن علی عن أبیہ علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ۔"
اس سند میں داود بن سلیمان الغازی القزوینی الجرجانی ہے، جس کے بارے میں حافظ ذہبی نے فرمایا: اور ہر حال میں وہ شیخ کذاب ہے ، اس نے (علی) الرضا سے موضوع (جھوٹا) نسخہ بیان کیا ہے۔ (میزان الاعتدال : 2608/2) ، حافظ ابن حجر نے حافظ ذہبی کا یہی کلام معمولی اختلاف کے ساتھ بغیر کسی رد کے نقل کیا ہے۔ ( لسان المیزان  : ج 2 ص 417 ، دوسرا نسخہ : 13/3) ، ابن عراق الکنانی نے بھی اسے کذابین میں شما رکیا ہے۔ (تنزیعہ الشریعۃ : 58/1)  ۔ سخاوی نے کہا: اور مذکور سند کے ساتھ اس نے موضوع نسخہ بیان کیا ہے۔ (المقاصد الحسنۃ :ص 154 رقم 321) ، محمد طاہر پٹنی نے لکھا ہے : داود بن سلیمان الجرجانی کذاب (تذکرۃ الموضوعات : ص 254)