تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label میلاد سے متعلق. Show all posts
Showing posts with label میلاد سے متعلق. Show all posts

Thursday, March 17, 2016

جشن میلاد النبی ﷺ پر جھنڈے لگانا



حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"وَرَأَيْتُ ثَلَاثَ أَعْلَامٍ مَضْرُوبَاتٍ: عَلَمٌ فِي الْمَشْرِقِ , وَعَلَمٌ فِي الْمَغْرِبِ , وَعَلَمٌ عَلَى ظَهْرِ الْكَعْبَةِ"
میں نے دیکھا کہ تین جھنڈے نصب کئے گئے، ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں، تیسرا کعبے کی چھت پر اور حضور اکرم ﷺ کی ولادت ہوگئی۔  (دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني : ج۱، ص۶۱۰ رقم ۵۵۵)


سخت ضعیف: یہ سخت ضعیف  (یاپھر موضوع)روایت ہے، کیونکہ؛

۱:  اس کا راوی یحییٰ بن عبد اللہ  البابلتی ضعیف ہے۔
٭ حافظ ابن حجر  رحمہ اللہ نے اس ضعیف قرار دیا ہے۔ (تقریب التہذیب: ۷۵۸۵) اور (تہذیب التہذیب: ج۱۱،ص۲۴۰ رقم: ۳۹۳)

۲: یحییٰ بن عبد اللہ کا استاد ابو بکر بن ابی مریم سخت ضعیف راوی ہے ۔
٭  اسے امام احمد ، ابوداود ، ابو حاتم ، ابو زرعۃ ، یحیی بن معین، دارقطنی ، النسائی رحمھم اللہ علیھم اجمعین اور اس کے علاوہ بھی کئی دیگر محدیثین نے ضعیف و مجروح قرار دیا ہے۔ (تقریب التہذیب: ۷۹۷۴) اور دیکھئے: (تہذیب التہذیب: ج۱۲،ص۲۸ رقم: ۱۳۹)


Zaeef Hadiths, Meelad un Nabi par Jandhay Lagany ki Riwayat ki Tahqeeq. Sheikh Ghulam Mustafa Zaheer Amanpuri


چند دیگر ضعیف اور موضوع روایات:




Friday, December 11, 2015

٭ ربیع الاول کے مہینے کی مبارک باد دینے والے پر جہنم حرام

ربیع الاول کے مہینے کی مبارک باد دینے والے پر جہنم حرام


کچھ لوگ ماہِ ربیع الاول کے آتے ہی ایک حدیث نشر کرنا شروع کر دیتے ہیں:
"جو بھی اس فضیلت والے ماہ کی مبارک باد سب سے پہلےدے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی۔ "

موضوع (من گھڑت): یہ جھوٹی اور من گھڑت روایت ہے۔
اس روایت کی  سند حدیث کی کتابوں میں نہیں ملی، اور خود ساختہ اور من گھڑت ہونے کی علامات اس حدیث پر بالکل واضح ہیں، اس لئے اس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ آپ کے بارے میں جھوٹ باندھنے کے زمرے میں آتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:"جس شخص نے میری طرف منسوب کوئی حدیث بیان کی، اور وہ خدشہ بھی رکھتا تھا یہ جھوٹ ہے، تو بیان کرنے والا بھی دو جھوٹوں میں سے ایک ہے) مسلم نے اسے اپنی صحیح مسلم کے مقدمہ میں بیان کیا ہے۔

امامنووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
"اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے کی سنگینی بیان کی گئی ہے، اور جس شخص کو اپنے ظنِ غالب کے مطابق کوئی حدیث جھوٹی لگی لیکن پھر بھی وہ آگے بیان کر دے تو وہ بھی جھوٹا ہوگا، جھوٹا کیوں نہ ہو؟! وہ ایسی بات کہہ رہا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی" انتہی (شرح صحيح مسلم : ۱/۶۵)
اور اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے کہ ماہِ ربیع الاول کی جس شخص نے مبارکباد دی تو صرف اسی عمل سے اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی، یہ بات حد سے تجاوز، اور مبالغہ آرائی پر مشتمل ہے، جو کہ اس حدیث کے باطل اور خود ساختہ ہونے کی علامت ہے۔

چنانچہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"خود ساختہ احادیث میں اندھا پن ، بے ڈھب الفاظ، اور حد سے زیادہ تجاوز ہوتا ہے، جو ببانگ دہل ان احادیث کے خود ساختہ ہونے کا اعلان کرتا ہے، کہ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر خود گھڑی گئی ہے" انتہی (المنار المنيف : ص۵۰)

Monday, February 03, 2014

٭میلاد ِ نبی ﷺ پر خاص تارے کا طلوع



میلاد ِ نبی ﷺ پر خاص تارے کا طلوع
حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
میں سات برس کا تھا ایک دن پچھلی رات کو وہ سخت آواز آئی کہ ایسی جلد پہنچتی آواز میں نے کبھی نہ سنی تھی کیا دیکھتا ہوں کہ مدینے کے ایک بلند ٹیلے پر ایک یہودی ہاتھ میں آگ  کا شعلہ لئے چیخ رہا ہے لوگ اس کی آواز پر جمع ہوئے وہ بولا : یہ احمد کے ستارے نے طلوع کیا ، یہ ستارہ کسی نبی ہی کی پیدائش پر طلوع کرتا ہے اور اب انبیاء میں سوائے احمد کے کوئی باقی نہیں۔ (دلائل النبوۃ لابی نعیم ، الفصل الخامس ، و الخصائص الکبری بحوالہ ابی نعیم باب اخبار الاخیار)

موضوع (من گھڑت) : حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب یہ روایت ابونعیم کی کتاب  دلائل النبوة ( ص: 75) پر موجو ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی  " واقدی   (محمد بن عمر بن واقد الأسلمی)‘‘  ہے ، جو کہ  کذاب  متروک (جھوٹا) راوی ہے۔