تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Monday, February 03, 2014

٭میلاد ِ نبی ﷺ پر خاص تارے کا طلوع



میلاد ِ نبی ﷺ پر خاص تارے کا طلوع
حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
میں سات برس کا تھا ایک دن پچھلی رات کو وہ سخت آواز آئی کہ ایسی جلد پہنچتی آواز میں نے کبھی نہ سنی تھی کیا دیکھتا ہوں کہ مدینے کے ایک بلند ٹیلے پر ایک یہودی ہاتھ میں آگ  کا شعلہ لئے چیخ رہا ہے لوگ اس کی آواز پر جمع ہوئے وہ بولا : یہ احمد کے ستارے نے طلوع کیا ، یہ ستارہ کسی نبی ہی کی پیدائش پر طلوع کرتا ہے اور اب انبیاء میں سوائے احمد کے کوئی باقی نہیں۔ (دلائل النبوۃ لابی نعیم ، الفصل الخامس ، و الخصائص الکبری بحوالہ ابی نعیم باب اخبار الاخیار)

موضوع (من گھڑت) : حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب یہ روایت ابونعیم کی کتاب  دلائل النبوة ( ص: 75) پر موجو ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی  " واقدی   (محمد بن عمر بن واقد الأسلمی)‘‘  ہے ، جو کہ  کذاب  متروک (جھوٹا) راوی ہے۔
حافظ الہیثمی (مجمع الزوائد : 255/3) اور ابن الملقن  (البدر المنیر : 324/5)  فرماتے ہیں : جمہور محدثین نے اسے ضعیف کہا ہے۔   اس کے علاوہ امام شافعی  نے (الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 20 وسندہ صحیح) ،  امام إسحاق بن راہویہ نے   (الجرح والتعديل لابن أبی حاتم: 8/ 20 وسندہ صحیح) ،   امام نسائی نے (أسئلۃ  للنسائی فی الرجال المطبوع فی رسائل فی علوم الحديث ص: 76) ، امام ذہبی  نے  (سير أعلام النبلاء للذهبی: 9/ 469) ،   امام عقيلی نے (الضعفاء الكبير للعقيلی: 4/ 108 ، شیخ العقیلی لم اعرفہ وباقی الرجال ثقات ، ومن طریق العقلیلی اخرجہ الخطیب فی تاريخ : 14/ 52 و ابن عساکر فی تاريخ دمشق 54/ 452 و ذکرہ المزی فی تهذيب الكمال: 26/ 187) ، علامہ البانی نے (سلسلة الأحاديث الضعيفۃ والموضوعۃ :  4/ 13) میں اس پر شدید جرح کی ہے۔
واقدی کے علاوہ اس سند میں ’’ابن ابی سبرہ‘‘ نامی راوی ہے یہ بھی کذاب اور حدیث گھڑنے والا ہے۔
امام أحمد بن حنبل رحمہ الله نے کہا:یہ جھوٹ بولتا تھا اور حدیث گھڑتا تھا (العلل ومعرفۃ الرجال 1/ 510) امام ابن عدی رحمہ الله نے کہا: یہ ان لوگوں میں سے تھا جو حدیث گھڑتے تھے۔(الكامل فی الضعفاء: 7/ 297) اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے محدثین نے اس پر جرح کی ہے دیکھئے عام کتب رجال۔ خلاصہ کلام یہ روایت سند میں دو کذاب کے ہونے سبب موضوع اور من گھڑت ہے۔

No comments:

تبصرہ کیجئے