تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label رسالتِ مآب ﷺ سے متعلق. Show all posts
Showing posts with label رسالتِ مآب ﷺ سے متعلق. Show all posts

Wednesday, February 14, 2024

٭ کیا نبی کریم ﷺ کا سایہ مبارک نہیں تھا ؟

کیا نبی کریم ﷺ کا سایہ مبارک نہیں تھا ؟ - Kya Nabi ka Saya Nhi Tha

نبی کریم ﷺ کا سایہ نہیں تھا!


ایک روایت میں آتا ہے کہ:

أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم لم یکن یُریٰ له ظلّ فی شمس ولا قمر
”نبی کریم ﷺ کا سایہ نہ سورج کی روشنی میں نظر آتا تھا نہ چاند کی چاندنی میں“

(الخصائص الکبریٰ للسّیوطی: 71/1)

٭ نبی ﷺ کےسائے کےمنکرین کے عقلی دلائل کا جائزہ


Kya Hamare Nabi ka Saya Tha?

رسول اللہ ﷺ کا سایہ نہیں تھا

رسول اللہ ﷺ کا سایہ نہ تو سورج کی دھوپ میں نظر آتا تھا اور نہ ہی چاند کی چاندی میں۔

Tuesday, January 27, 2015

٭ کائنات کی تخلیق کا مقصد


کائنات کی تخلیق کا مقصد
 
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے:
أَتَانِي جِبٗرِيلُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ!  لَوٗلَاكَ لَمَا خُلِقَتِ الٗجَنَّةُ ، وَلَوٗلَاكَ مَا خُلِقَتِ النَّارُ
” میرے پاس جبریل آئے اور کہنے لگے: اے محمد (ﷺ) ! اگر آپ نہ ہوتے تو جنت اور دوزخ کو پیدا نہ کیا جاتا۔“
(مسند دیلمی، سلسلة الأحاديث الضعيفة  للألبانی: ۴۵۰/۱)
موضوع (من گھڑت): یہ جھوٹی روایت ہے، کیونکہ:
۱: عبید اللہ بن موسی قرشی راوی کے حالات نہیں مل سکے۔
۲: فضیل بن جعفر بن سلیمان راوی کی توثیق اور حالات نامعلوم نہیں ہوئے۔
۳:عبد الصمد بن علی بن عبد اللہ راوی کی بھی توثیق نہیں ملی۔
٭اس کے بارے میں امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدیثه غیر محفوظ ، ولا یعرف إلّا به .  "اس کی حدیث غیر محفوظ ہے اور وہ اسی روایت کے ساتھ معروف ہے۔" (الضعفاء الکبیر للعقیلی: ۸۴/۳)
معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ان تینوں میں سے کسی ایک کی کارستانی ہے۔

کائنات کی تخلیق کس لیے ہوئی؟:اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ عبادتِ الہٰی کیلئے، جیسا کہ فرمانِ الہٰی ہے: 
﴿ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
    میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔(سورة الذاريات:۵۶)
معلوم ہوا کہ نظامِ کائنات کو خالقِ کائنات نے اپنے ہی لیے پیدا کیا ہے۔
لیکن گمرا صوفیوں نے اس قرآنی بیان کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت روایت مشہور کر رکھی ہے کہ کائنات کی تخلیق رسولِ اکرم ﷺ کے لیے، آپ کے طفیل اور آپ کے صدقے ہوئی۔ اگر آپ نہ ہوتے تو کائنات تخلیق نہ ہوتی۔ یہ نظریہ قرآنِ کریم کے بھی خلاف ہے اور اس سلسلے میں بیان کردہ روایات بھی جھوٹی ، جعلی اور ضعیف ہیں۔

Sunday, December 07, 2014

٭قبر نبی ﷺ کو مدد کیلئے پکارنا


نامعلوم شخص کا نبیﷺ اور سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی قبر سے مدد مانگنا
 
ابو اسحاق قرشی کہتے ہیں:
ان عندنا رجل بالمدینة، إذ راٰی منکرًا لا یمکنه أن یغیرہ، أتی القبر، فقال:
أیا قبرالنبي وصاحبیه۔۔۔۔۔۔۔ ألا یا غوثنا، لو تعلمونا
"  مدینہ میں ہمارے قریب ایک آدمی رہتا تھا۔ جب وہ کسی ایسی برائی کو دیکھتا جس کو ختم کرنے کی اس میں طاقت نہ ہوتی تو نبی اکرم ﷺ کی قبر مبارک پر حاضر ہوتا اور کہتا:
اے نبی اکرم ﷺ اور آپ کے دو ساتھیوں (سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) کی قبر! اگر آپ ہمیں جانتے ہیں تو ہماری مدد کیجیے!"
(شعب الإیمان للبیھقي: ۳۸۷۹)
ضعیف : اس کی سند ضعیف ہے:
۱: اس کا راوی ابو اسحاق قرشی کون ہے؟ اس کا تعین درکار ہے۔
٭نیز اس کی توثیق بھی مطلوب ہے۔

Friday, December 05, 2014

٭ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا نبی ﷺ کی قبر پر آنسو بہانا


سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا نبی ﷺ کی قبر پر آنسو بہانا
 
محمد بن منکدر بیان کرتے ہیں:
رأیت جابرًا رضی اللہ  عنه، وھو یبکي عند قبر رسول اللہ ﷺ ، وھو یقول: ھٰھنا تسکب العبرات، سمعت رسول اللہ ﷺ یقول: "مابین قبري ومنبري روضة من ریاض الجنة "
" میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ کی قبر مبارک کے پاس روتے دیکھا۔ وہ فرمارہے تھے: آنسو بہانے کی جگہ یہی ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: میری قبر اور میرے منبر کے درمیان والی جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے "
(شعب الإیمان للبیھقي: ۳۸۶۶)

سخت ضعیف : اس روایت کی سند سخت ترین  "ضعیف" ہے، کیونکہ:
۱: امام بیہقی رحمہ اللہ کا  استاذ محمد بن حسین ابو عبد الرحمٰن سلمی "ضعیف" ہے۔
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "محدثین کرام نے اس پر جرح کی ہے، یہ اچھا شخص نہیں تھا۔" (میزان الاعتدال: ۵۲۳/۳)
٭انہوں نے اسے "ضعیف" بھی کہا ہے۔ (تذکرۃ الحفاظ: ۱۶۶/۳)
٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس پر جرح کی ہے۔ (الإصابة في تمییز الصحابة: ۲۵۲/۲)
٭محمد بن یوسف قطان نیشاپوری فرماتے ہیں: "یہ قابل اعتبار شخص نہیں تھا۔۔۔ یہ صوفیوں کے لیے روایات گھڑتا تھا۔" (تریخ بغداد للخطیب: ۲۴۷/۲، وسندہ صحیح)
۲: اس کے مرکزی راوی محمد بن یونس بن موسیٰ کُدَیمی کے بارے میں:
٭امام ابن عدی رحمہ اللہ نے فرمایا: "اس پر حدیث گھڑنے اور چوری کرنے کا الزام ہے" (الکامل في ضعفاء الرجال: ۲۹۲/۶)
٭امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ شخص ثقہ راویوں سے منسوب کرکے خود حدیث گھڑلیتا تھا۔ شاید اس نے ایک ہزار سے زائد احادیث گھڑی ہیں۔" (کتاب المجروحین: ۳۱۳/۲)
٭امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے "متروک" قرار دیا ہے۔ (سؤالات الحاکم: ۱۷۳)
ایک مقام پر فرماتے ہیں: "کدیمی پر حدیث گھڑنے کا الزام تھا۔" (سؤالات السھمي: ۷۴)
٭امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ کے سامنے اس کی ایک روایت  پیش کی گئی تو انہوں نے فرمایا: "یہ سچے شخص کی بیان کردہ حدیث نہیں۔" (الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم:۱۲۲/۸)
٭حافظ ذہبی  رحمہ اللہ نے فرمایا: "یہ ایک متروک راوی ہے" (میزان الاعتدال:۷۴/۴، ت:۸۳۵۳)
٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اسے "ضعیف"  قرار دیا ہے۔ (تقریب التہذیب: ۶۴۱۹)

فائدہ:٭ نافع تابعی رحمہ اللہ اپنے استاذ، صحابیٔ جلیل کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
"إن ابن عمر کان یکرہ مس قبر النبي صل اللہ علیہ وسلم"
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم ﷺ کی قبر مبارک کو چھونا مکروہ سمجھتے تھے۔
(جزء محمد بن عاصم الثقفي:ص۱۰۶ح۲۷، سیر أعلام النبلاء للذھبي: ۳۷۸/۱۲، وسندہ صحیح)
٭ابو حامد محمد بن محمد طوسی المعروف بہ علامہ غزالی قبروں کو چھونے اور ان کو بوسہ دینے کے بارے میں فرماتے ہیں:
"إنه عادۃ النصارٰی والیھود"
ایسا کرنا یہود و نصاریٰ کی عادت ہے۔
(إحیاء علوم الدین: ۲۴۴/۱)

٭ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کا قبر نبی ﷺ پر چہرہ رکھنا


سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کا قبر نبی ﷺ پر چہرہ رکھنا
 
داود بن ابی صالح حجازی کا بیان ہے:
 "أقبل مروان یوماً، فوجد رجلا واضعا وجھه علی القبر، فقل: أتدري ما تصنع؟ فاقبل علیه، فإذا ھو أبو ایوب، فقال: نعم، جئت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولم  آت الحجر، سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: "لا تبکو علی الدین إذا ولیه اھله، ولکن ابکوا  علیه إذا ولیه غیر أھلهٖ "
ایک دن مروان آیاتو اس نے دیکھا کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی قبر مبارک پر اپناچہرہ رکھے ہوئے تھا۔ مروان نے کہا: تمہیں معلوم ہے کہ کیا کررہے ہو؟ اس شخص نے مروان کی طرف چہرہ موڑا تو وہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے فرمایا: ہاں، مجھے خوب معلوم ہے، میں آج حجر اسود کے پاس نہیں گیا، بلکہ رسولِ اکرم ﷺ کے پاس آیا ہوں۔ میں آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جب دین کا والی کوئی دین دار شخص بن جائے تو اس پر نہ رونا۔اس پر اس وقت رونا جب اس کے والی نااہل لوگ بن جائیں (مسند الإمام أحمد: ۴۲۲/۵، المستدرک علی الصحیحین للحاکم: ۵۱۵/۴)
 
ضعیف: اس روایت کی سند "ضعیف" ہے۔
۱ :اس کے راوی داؤد بن صالح حجازی کے بارے میں:
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "لا یعرف" یہ مجہول راوی ہے۔ (میزان الاعتدال:۹/۲)
٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں : "مقبول"  یہ مجہول الحال شخص ہے۔ (تقریب التہذیب: ۱۷۹۲)
لہٰذا مام حاکم رحمہ اللہ کا اس کی بیان کردہ اس روایت کی سند کو "صحیح" کہنا اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ کا ان کی موافقت کرنا صحیح نہیں۔
دین کی باتیں ثقہ لوگوں سے قبول کی جائیں گی نہ کہ مجہول الحال اور لاپتہ افراد سے۔

Thursday, October 23, 2014

٭ قبر نبی ﷺ سے اذان کی آواز


قبر نبی ﷺ سے اذان کی آواز

روایت نمبر ۱:
امام ابن سعد رحمہ اللہ  نقل کرتے ہیں:
"أخبرنا محمد بن عمر، قال: حدثني طلحة بن محمد بن سعید، عن أبیه، قال: کان سعید بن المسیب أیام الحرة في المسجد، ۔۔۔۔، قال: فکنت أذا حانت الصلاة أسمع أذانا یخرج من قبل القبر، حتّٰی  أمن الناس"
امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ سانحہ حرہ کے دنوں میں مسجد نبوی ہی میں مقیم تھے۔۔۔۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب بھی اذان کا وقت ہوتا، میں قبر نبوی سے اذان کی آواز سنتا۔ جب تک امن نہ ہوگیا، یہ معاملہ جاری رہا
(الطبقات الکبریٰ: ۱۳۲/۵)
موضوع (من گھڑت) :یہ من گھڑٹ قصہ ہے، کیونکہ اس کی سند میں:
1: محمد بن عمر واقدی جمہور محدثین کرام کے نزدیک "ضعیف" اور "متروک" ہے۔
2: دوسرا راوی طلحہ بن محمد بن سعید "مجہول" ہے۔
٭اس کے بارے میں امام ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "میں اسے نہیں جانتا۔" (الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم: ۴۸۶/۴)
3:تیسرے راوی محمد بن سعید بن مسیب کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے "مقبول" (مجہول الحال) قرار دیا ہے۔ (تقریب التھذیب: 5913)
تنبیہ: امام ابن حبان رحمہ اللہ نےاسے اپنی کتاب  "الثقات"  (۴۲۱/۷) میں ذکر کیا ہے، کسی معتبر امام نے اس کی توثیق نہیں کی۔

روایت نمبر ۲:
سعید بن عبد العزیز تنوخی رحمہ اللہ (م: ۹۰ھ) بیان کرتے ہیں:
سانحۂ  حرہ  کے دوران تین دن تک مسجدِ نبوی میں اذان و اقامت نہیں ہوئی تھی۔ ان دنوں امام سعید بن مسیب مسجد نبوی ہی میں مقیم تھے۔ انہیں نماز کا وقت نبی اکرم ﷺکی قبر  مبارک سے سنائی دینے والی آواز ہی سے ہوتا تھا
(مسند الدارمي: ۴۴/۱)
ضعیف: اس  کی سند "انقطاع" کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ سانحۂ حرہ کو بیان کرنے والے راوی سعید بن عبد العزیز تنوخی رحمہ اللہ کی پیدائش سے بہت پہلے رونما ہوچکا تھا۔ پھر سعید بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ حرہ کا واقعہ 63 ہجری میں رونما ہوا جبکہ سعید بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی پیدائش 90 ہجری کو ہوئی اور امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ 94 ہجری میں فوت ہوئے۔
پھر امام سعید بن مسیب مدینہ منورہ میں فوت ہوئے، جبکہ سعید بن عبد العزیز رحمہ اللہ شام میں پیدا ہوئے۔ اب کیسے ممکن ہے کہ سعید بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے یہ روایت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے خود سنی ہو؟ انہیں کس شخص نے یہ بات بیان کی، معلوم نہیں۔ لہٰذا یہ روایت "انقطاع" کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔

روایت نمبر ۳:
الطبقات الکبری لابن سعد (۱۳۱/۵)، تاریخ ابن ابی خیثمہ (۲۰۱۱) ، دلائل النبوۃ لابی نعیم الاصبہانی (۵۱۰) اور مثیر العزم الساکن لابن الجوزی (۴۷۶) میں موجود روایت کی سند ضعیف ہے۔
ضعیف:  کیونکہ اس کا راوی عبد الحمید بن سلیمان مدنی جمہور محدثین کرام کے نزدیک" ضعیف" ہے۔ اس کے بارے میں:
٭امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ فضول راوی ہے" (تاریخ ابن معین بروایة العباس الدوري: ۱۶۰/۳)
٭امام علی بن مدینی رحمہ اللہ اسے "ضعیف" قرار دیا ہے۔ (سؤالات ابن أبي شیبة لعلي المدیني : ۱۱۷)
٭ امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس کی بیان کردہ حدیث ضعیف ہوتی ہے" (الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم: ۱۴/۶)
٭امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ بالکل بھی محفوظ نہیں" (الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم: ۱۴/۶)
٭امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے (کتاب الضعفاء والمتروکین: ۳۵۱) میں ذکر فرمایا ہے۔
٭امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی اسے "ضعیف" قرار دیا ہے۔ (کتاب الضعفاء والمتروکین: ۳۹۷)
٭امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ کسی کام کا نہیں" (الثقات: ۵۹۲۷)
٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اسے "ضعیف" ہی قرار دیا ہے۔ (تقریب التھذیب: ۳۷۶۴)

 
روایت نمبر ۴:
حافظ ابو عبد اللہ ، محمد بن محمود ، ابن نجار رحمہ اللہ (۵۷۸- ۶۴۳ھ) نقل کرتے ہیں:
"أنبأنا ذاکر بن کامل بن أبي غالب الخفاف، فیما أذن لي في روایة عنہ، قال: کتب إلي أبو علي الحداد، عن أبي نعیم الأصبھاني، قال: أنبانا جعفر بن محمد بن نصیر: أخبرنا أبو یزید المخزومي: أخبرنا الزبیر بن بکار: حثنا محمد بن الحسن (بن زبالة): حدثني غیر واحد منھم، عن عبد العزیز بن أبي حازم، عن عمر بن محمد، أنه لما کان أیام الحرة ترک الأذان في مسجد رسول اللہ ﷺ ثلاثة أیام، وخرج الناس إلی الحرة، وجلس سعید بن المسیب في مسجد رسول اللہ ﷺ، قال: فاستو حشت، فدنوت من قبر النبيﷺ ، فلما حضرت الصلاۃ، سمعت الأذان في قبر النبي "
(الدرّہ الثمینة في أخبار المدینة ، ص: ۱۵۹)

 موضوع (من گھڑت) :یہ روایت سفید جھوٹ ہے، اس کا راوی محمد بن حسن بن زبالہ مخزومی "کذاب” اور جھوٹی حدیثیں گھڑنے کا شیدائی تھا۔
٭ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ قابل اعتماد نہیں تھا، حدیثوں کا سرقہ کرتا تھا، جھوٹا اور فضول شخص تھا۔" (تاریخ ابن معین بروایة العباس الدوری: ۵۱۰/۲، ۵۱۱)
٭امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس کی بیان کردہ حدیث کمزور، ضعیف اور منکر ہوتی ہے۔ اس کے پاس عجیب و غریب قسم کی روایات ہیں البتہ یہ متروک الحدیث نہیں۔" (الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم: ۲۲۸/۷)
٭امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "محدثین نے اس کی روایات چھوڑ دی ہیں۔" (کتاب الضعفاء والمتروکین: ۵۳۵)
٭امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس کی بیان کردہ حدیث کمزور ہوتی ہے" (الجرح والتعدیل: ۲۲۸/۷)
٭امام داقطنی رحمہ اللہ نے بھی اسے" متروک" قراردیا ہے۔ (سؤالات البرقاني للدارقطني: ۴۲۷)
٭امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ حدیثوں کا سرقہ کرتا تھا اور ثقہ راویوں سے بغیر تدلیس کے وہ روایت بیان کرتا تھا، جو اس نے ان سے سنی نہیں ہوتی تھیں" (المجروحین: ۲۷۵/۲)
٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "محدثین کے نزدیک یہ شخص جھوٹا تھا" (تقریب التھذیب: ۸۵۱۵)
نیز فرماتے ہیں: "اس کے ضعیف ہونے پر سب محدثین کا اتفاق ہے" (فتح الباری: ۲۹۸/۱۱)