تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label جہاد سے متعلق. Show all posts
Showing posts with label جہاد سے متعلق. Show all posts

Friday, February 07, 2014

٭ مجاہد کا اعزاز



مجاہد کا اعزاز
نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ : بے شک اللہ تعالیٰ مجاہد کی تلوار ، اس کے نیزے اور اسلحے پر فرشتوں کے سامنے فخر فرماتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے پر فرشتوں کے سامنے فخر فرماتے ہیں تو پھر اسے کبھی عذاب میں مبتلا نہیں فرماتا۔ (ابن عساکر)
موضوع (من گھڑت) : یہ روایت  الاربعون فی الحث علی الجہاد لابن عساکر:34 پر  موجود ہے۔ اس روایت کی سند میں عبد العزیز بن عبد الرحمن البالسی کذاب راوی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے عبد اللہ بن احمد سے کہا : اس کی حدیثیں کاٹ دو ، یہ جھوٹیں ہیں۔ (کتاب الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم : 388/5 و سندہ صحیح)

Wednesday, February 05, 2014

٭جہاد اصغرسےجہاد اکبر (جہاد بالنفس)کی طرف واپسی



جہاد اصغرسےجہاد اکبر  (جہاد بالنفس)کی طرف واپسی
رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مجاہدین آئے تو آپ نے انھیں فرمایا: تم خیر سے لوٹے ہو، جہاد اصغر سے جہاد  اکبر کی طرف واپس آئے ہو۔ کہا گیا کہ جہاد اکبر کیا ہے؟ فرمایا: بندے کا اپنی خواہش سے جہاد کرنا۔ (کتاب الزھد الکبیر ص 165 حدیث: 373)
ضعیف: امام بیہقی نے فرمایا: اس کی سند کمزور ہے۔(کتاب الزھد الکبیر ص 165 حدیث: 373) اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابی سلیم  جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ۔ حافظ ہیثمی نے اسے مدلس کہا ہے (مجمع الزوائد 83/1 باب فی مثل المؤمن) حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: وہ سچا ہے، آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہوا اور اس کی حدیث میں (اختلاط سے پہلے اور بعد کا) فرق نہ ہوسکا لہٰذا وہ متروک قرار دیا گیا (تقریب التہذیب:5685) اسی طر ح تاریخ بغداد میں ایک روایت ہے کہ تم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آگئے ہو۔ اس کا ایک راوی یحییٰ بن العلاء سخت مجروح راوی ہے۔
امام نسائی نے کہا: متروک الحدیث (کتاب الضعفاء والمتروکین للنسائی: 267) حافظ ابن حجر نے کہا: "رمی بالوضع" (تقریب التہذیب97/4 ، رقم: 7618) یعنی محدثین نے اسے وضع ِ حدیث کا مرتکب قرار دیا ہے۔ یحییٰ کا استاد لیث بن  ابی سلیم ضعیف و مدلس ہے۔ جیسا کہ اوپر گزرچکا ہے۔ لہٰذا یہ روایت باطل ہے

Wednesday, January 29, 2014

٭ اللہ کے راستے میں پہرہ دینے والی آنکھ

https://www.facebook.com/photo.php?fbid=253141988186180&l=80493c89f7
اللہ کے راستے میں پہرہ دینے والی آنکھ
(سیدنا) ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن ہر آنکھ روئے گی سوائے اس آنکھ کے جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچی رہی اور وہ آنکھ جو اللہ کے راستے میں بیدار رہی اور وہ آنکھ جس سے اللہ کے خوف کی وجہ سے مکھی کے سر جتنا آنسو نکلا۔ (حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصبہانی: 163/3)
سخت ضعیف:یہ روایت سخت ضعیف ہے۔
٭ اس روایت کی سند میں داود بن عطاء اور عمر بن صہبان دونوں ضعیف ہیں۔ (دیکھئے تقریب التہذیب : 1972 ، 5531)، بلکہ اسماء الرجال کی کتابوں میں درج شدہ گواہیوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں راوی سخت مجروح اور متروک ہیں۔
٭ اس روایت کے سخت ضعیف و مدود شواہد مسند البزار(کشف الاستار:1659)اور مستدرک الحاکم: (82/4) و غیرہما میں موجود ہیں، لیکن ان کی کوئی حیثیت نہیں۔
صحیح حدیث: سیدنا ابو ریحانہ شمعون بن زید الازدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "جس آنکھ نے اللہ کے راستے میں شب بیداری کی تو وہ (جہنم کی) آگ پر حرام ہے۔"  سنن النسائی: 3119 ، وسندہ حسن و صححہ الحاکم: 83/2