تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label یوم عاشوراء سے متعلق. Show all posts
Showing posts with label یوم عاشوراء سے متعلق. Show all posts

Tuesday, November 04, 2014

٭ یومِ عاشوراء کو سرمہ لگانا


یومِ عاشوراء کو سرمہ لگانا
من اکتحل بالاثمد يوم عاشوراء لم تدمع عينه أبدا
" جس نے یوم عاشوراء کو سرمہ لگایا، اس کوکبھی آنکھ کا درد لاحق نہیں ہوگا"
موضوع (من گھڑت):٭ابن قیم  رحمہ اللہ نے المنار میں کہا ہے کہ سرمہ اور عطر لگانے والی احادیث کذابین کی اختراع ہیں۔
٭امام سخاوی رحمہ اللہ نے المقاصد الحسنة میں حاکم اور بیہقی کے اَقوال نقل کئے ہیں۔ حاکم نے کہا کہ یہ حدیث منکر بلکہ موضوع ہے۔
٭ابن جوزی رحمہ اللہ نے اسی سند کے ساتھ 'موضوعات' میں اس کا ذکر کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یومِ عاشوراء کو سرمہ لگانانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں بلکہ یہ بدعت ہے جس کو قاتلین حسین نے رواج دیا ہے۔
٭ملا علی قاری  رحمہ اللہ نے بھی الأسرار المرفوعة میں اسی رائے کی موافقت کی ہے اور سیوطی رحمہ اللہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس کی ایک اور سند بھی نقل کی ہے جو ضعف پر مبنی ہے۔
٭ امام شوکانی رحمہ اللہ نے الفوائد المجموعة میں حاکم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حاکم کہتے ہیں کہ ابن عباس سے شروع ہونے والی اس حدیث کی سند میں جبیر ہے اور میں جبیر کے معاملے میں براء ت کا اظہار کرتا ہوں۔

فائدہ:یومِ عاشوراء کو قسما قسم کے کھانے پکا کر کھنا اور اپنے اہل و عیال وغیرہ کو کھلانا، حلوہ تقسیم کرنا یا اس دن سرمہ ڈالنا وغیرہ، ان کا موں میں سے کوئی کام نہ تو نبی ﷺ سے ثابت ہے اور نہ سلف صالحین سے اور نہ ہی کسی مستند عالم نے اسے جائز قراردیاہے اور اس کے استحباب و فضیلت کے بارے میں جو کچھ مروی ہے وہ تمام ضعیف وناقابل حجت ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"اس سلسلے میں نہ نبی ﷺ سے کوئی صحیح حدیث وارد ہے اور نہ کسی صحابی سے، نہ اسے ائمہ مسلمین بشمول ائمہ اربعہ وغیرہم نے مستحب گردانا ہے اور نہ کسی مستند کتاب میں اس کا تذکرہ منقول ہے۔ نبی ﷺ، صحابہ اور تابعین سے کوئی روایت نہیں، نہ صحیح ، نہ ضعیف ، نہ کتب صحاح میں اس کا ذکر ہے اور نہ کتب سنن میں اور خیر القرون میں سے بھی ایسی کوئی روایت معلوم نہیں۔" (مجموع الفتاویٰ: ۲۹۹/۲۵)
حافظ ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "اور ان (موضوع احادیث) میں سے عاشوراء کے دن سرمہ ڈالنا، زیب وزینت، وسیع خرچ کرنا اور (مخصوص) نمازیں پڑھنا وغیرہ فضیلتوں میں سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے، صرف روزوں کی فضیلت ثابت ہے، ان کے علاوہ سب کچھ باطل ہے۔" (المنار المنیف: ص۱۱۱)

٭ یومِ عاشوراء کواہل و عیال پر فراخی کرنا



youm e ashura k Din Ghar Walo Par Kharch Karna, جو شخص عاشوراء کے دن اپنے اہل وعیال پر (کھانے میں) کشادگی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر پورے سال کشادگی کرے گا

یومِ عاشوراء کواہل و عیال پر فراخی کرنا

 
 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ:
مَن وَسَّعَ عَلَی عَیَالِهِ یَومَ عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللہُ عَلَیهِ سَائِرَ سَنَتِهِ
" جو شخص عاشوراء کے دن اپنے اہل وعیال پر (کھانے میں) کشادگی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر پورے سال کشادگی کرے گا۔"
 ضعیف: اس حدیث کو امام بیہقی نے کئی سندوں سے روایت کیا ہے اور اس حدیث کی استنادی حیثیت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :" یعنی یہ تمام سندیں اگرچہ ضعیف (کمزور) ہیں لیکن ایک دوسرے کو ملانے سے قوی ہو جاتی ہے۔"
٭امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا  ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔ (کما فی المنار المنیف لابن القیم : ص۱۱۱)
٭امام شوکانی، علامہ طاہر پٹنی اور علامہ ابن عراق رحمہم اللہ نے فرمایا ہے کہ اس میں سلیمان راوی مجہول ہے۔ (الفوائد المجموعة: ص۹۸، تذکرۃ الموضوعات: ص۱۱۸، تنزیعه الشریعة: ۱۸۸/۲)
٭امام سخاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کی تمام اسناد ضعیف ہیں۔ (المقاصد الحسنة: ص۶۷۴)
٭شیخ البانی نے اس حدیث کو ’’ضعیف‘‘ کہا ہے اور اس کی وارد تمام سندوں کے بارے میں کہا ہے کہ : "یعنی اس کی تمام سندیں واہی (کمزور) ہیں اور بعض سندیں ضعف کے اعتبار سے شدید ہیں (الضعیفۃ: ۶۸۲۴)

فائدہ:یومِ عاشوراء کو قسما قسم کے کھانے پکا کر کھنا اور اپنے اہل و عیال وغیرہ کو کھلانا، حلوہ تقسیم کرنا یا اس دن سرمہ ڈالنا وغیرہ، ان کا موں میں سے کوئی کام نہ تو نبی ﷺ سے ثابت ہے اور نہ سلف صالحین سے اور نہ ہی کسی مستند عالم نے اسے جائز قراردیاہے اور اس کے استحباب و فضیلت کے بارے میں جو کچھ مروی ہے وہ تمام ضعیف وناقابل حجت ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
"اس سلسلے میں نہ نبی ﷺ سے کوئی صحیح حدیث وارد ہے اور نہ کسی صحابی سے، نہ اسے ائمہ مسلمین بشمول ائمہ اربعہ وغیرہم نے مستحب گردانا ہے اور نہ کسی مستند کتاب میں اس کا تذکرہ منقول ہے۔ نبی ﷺ، صحابہ اور تابعین سے کوئی روایت نہیں، نہ صحیح ، نہ ضعیف ، نہ کتب صحاح میں اس کا ذکر ہے اور نہ کتب سنن میں اور خیر القرون میں سے بھی ایسی کوئی روایت معلوم نہیں۔"
حافظ ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
"اور ان (موضوع احادیث) میں سے عاشوراء کے دن سرمہ ڈالنا، زیب وزینت، وسیع خرچ کرنا اور (مخصوص) نمازیں پڑھنا وغیرہ فضیلتوں میں سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے، صرف روزوں کی فضیلت ثابت ہے، ان کے علاوہ سب کچھ باطل ہے۔" 

Monday, November 03, 2014

٭ دسویں محرم سے متعلق چند بے سند، موضوع و من گھڑت باتیں


یومِ عاشوراء (دسویں محرم )سے متعلق عوام میں مشہور  چند بے سند، 
موضوع و من گھڑت باتیں

٭مسند فردوس اور دیلمی کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ذکر کی جاتی ہے:
"انہوں نے کہا کہ تمام انسانوں کے سردار رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور رومیوں کے سردار حضرت صہیب رومی ہیں اور ایرانیوں کے سردار حضرت سلمان فارسی ہیں اور حبشیوں کے سردار حضرت بلال ہیں ، پہاڑوں کا سردار طورِ سینا ہے ، درختوں کا سردار سدرة المنتہیٰ ہے ،مہینوں کا سردار ماہِ محرم ہے ، دنوں کا سردار جمعہ ہے اور تمام کلاموں کا سردار قرآن کریم ہے ۔قرآن کریم کا خلاصہ سورئہ بقرہ ہے اور سورئہ بقرہ کا مغز آیت الکرسی ہے ۔ آیت الکرسی میں پانچ خصوصی کلمے ہیں او رہر کلمے میں پچاس برکتیں ہیں۔"
یہ روایت موضوع ،من گھڑت اور بے سند ہے ۔ کیونکہ دوسری روایاتِ صحیحہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کے سردار اور رمضان مہینوں کا سردار ہے۔

(1) بعض لوگ کہتے ہیں کہ دسویں محرم کے دن سرمہ لگانے سے سال بھر آنکھیں نہیں
دکھتیں، دسویں محرم کے نہانے سے سال بھر بیماری نہیں آتی ، دسویں محرم کو اپنے بال بچوں پر فراخی کرنے والے کواللہ سال بھر وسعت وفراخی دیتا ہے۔ اس دن کی نماز افضل وبرتر ہے ۔دسویں محرم حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تھی۔حضرت نوح کی کشتی اسی دن کو ہِ جودی پر ٹھہری ۔ اسی دن حضرت ابراہیم کو آتش نمرود سے نجات ملی ۔ اسی دن حضرت اسمٰعیل کے ذبح کے وقت آسمان سے دنبہ آیا اور فدیہ بنا ۔ اسی دن حضرت یوسف ، حضرت یعقوب کو دوبارہ ملے ۔ یہ ساری روایات موضوع بے سروپا اور خو دساختہ ہیں۔
(2) حضرت مجد الدین لغوی صاحب القاموس نے حاکم کے حوالے سے لکھا ہے کہ دسویں محرم کو روزے کے سوا دیگر تمام کام مثلاً دسویں تاریخ کی فضیلت کا عقیدہ رکھنا، اس دن جی کھول کر خرچ کرنا،خضاب ، تیل یا سرمہ لگانا اور خصوصی کھانا یا کھچڑا پکانا ثابت شدہ نہیں او ر اس سلسلے میں مروی تمام احادیث موضوع ، خود ساختہ او ربہتان طرازی کے مترادف ہیں۔
(3) ایک حدیث حضرت ابن عباس کی طرف منسوب کر کے اس طرح روایت کی جاتی ہے :
۱... جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا اس کے لیے اللہ نے ساٹھ سال کی عبادت لکھ دی جس میں نماز، روزے بھی شامل ہیں۔
۲... جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا، اسے اللہ نے دس ہزار فرشتوں کی عبادت کا ثواب دیا۔
۳... جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا، اسے اللہ نے ہزار حاجیوں اور عمرہ کرنے والوں کا ثواب دیا۔
۴...جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا، اسے اللہ دس ہزار شہیدوں کا ثواب دیتا ہے۔
۵... جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا، اسے اللہ تعالیٰ سات آسمانوں جتنا ثواب دیتا ہے۔
۶...جس نے دسویں محرم کو کسی بھوکے کو کھانا کھلایا گویا اس نے پوری امت ِمحمدیہ کے فقیروں کو کھانا کھلایا ۔
۷...جس نے دسویں محرم کو کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اس کے ہر بال کے عوض ہاتھ پھیرنے والے کو جنت میں بلند مراتب دیئے جائیں گے ۔
۸...دسویں محرم کو ہی اللہ نے زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کیا۔
۹... دسویں محرم کو ہی اللہ نے جبریل ،فرشتوں، حضرت آدم اور ابراہیم علیہم السلام کو پیداکیا۔
۱۰... دسویں محرم ہی کو اللہ نے لوح وقلم پیدا کیے۔
۱۱...دسویں محرم کو ہی حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا اور آگ ان پر ٹھنڈی ہوگئی۔
۱۲... دسویں محرم کے دن ہی حضرت اسماعیل کو اللہ کے رستے میں قربان کیا گیا اور اللہ نے دنبے کی شکل میں ان کا فدیہ دیا۔
۱۳... اسی تاریخ کوفرعون کو اللہ نے دریائے نیل میں غرق کیا۔
۱۴... اسی تاریخ کو اللہ نے حضرت اِدریس  کو بلند درجات دیئے۔
۱۵...اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی۔
۱۶...دسویں محرم کو ہی حضرت داود کی بھول چوک معاف کی گئی۔
۱۷... دسویں محرم کو ہی اللہ تعالی عرشِ معلی پر بیٹھا۔
۱۸... دسویں محرم کو ہی قیامت آئے گی۔
یہ تمام مذکورہ احادیث موضوع ، خود ساختہ، بے سند اور افترا پردازی کے مترادف ہیں ۔ علامہ ابن جوزی نے بھی ان کو 'موضوعا ت' میں درج کیا ہے۔
(4) اسی طرح کچھ احادیث اس طرح بیان کی جاتی ہیں کہ محرم کی دسویں تاریخ کا روزہ رکھو کیونکہ
۱... یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے حضرت آدم کی توبہ قبول کی۔
۲...یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے حضرت ادریس  کو بلند درجات عطا فرمائے۔
۳...یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے حضرت ابراہیم کو آتش نمرود سے نجات دی۔
۴... یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے حضرت نوح کو کشتی پر سے اتارا۔
۵... یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے حضرت موسی پر تورات نازل کی ۔
۶... یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے اسمٰعیل  کو ذبح کرنے کی بجائے دنبے کا فدیہ دیا تھا۔
۷... اس دن اللہ نے حضرت یوسف  کو جیل سے چھٹکارا دلایا تھا۔
۸... اسی دن اللہ نے حضرت یعقوب  کو ان کی قوتِ بینائی واپس کی تھی۔
۹... اس دن اللہ نے حضرت ایوب سے مصیبتیں اور پریشانیاں دور کی تھیں۔
۱۰... اسی دن اللہ نے حضرت یونس  کو مچھلی کے پیٹ سے نکالا تھا۔
۱۱... اسی دن اللہ نے دریاکو چیر کر بنی اسرائیل کے لیے راستہ بنایا تھا۔
۱۲... اسی دن حضرت موسی نے دریائے نیل عبور کیا تھا۔
۱۳...اسی دن حضرت یونس کی قوم کو توبہ کرنے کی توفیق ہوئی تھی۔
۱۴... اسی دن حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف کیے گئے۔
۱۵... اور جو اس دن روزہ رکھے گا، اس کے لیے چالیس سال کے گناہوں کاکفارہ ہو جائیگا ۔
یہ ساری احادیث موضوع ، خود ساختہ ، گھڑی ہوئی او رناقابل اعتبار ہیں۔
(5) کچھ احادیث اس طرح بیان کی جاتی ہیں کہ
۱... سب سے پہلا دن دسویں محرم ہے جس میں اللہ نے دسویں محرم کا دن پیداکیا۔
۲... سب سے پہلا دن دسویں محرم ہے جس میں اللہ نے آسمان سے بارش برسائی۔
۳... جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا، اس نے گویا زمانے کا روزہ رکھا۔
۴... جس نے دسویں محرم کو شب بیداری کی تو اس نے گویا ساتوں آسمانوں کی مخلوق کے برابر اللہ کی عبادت کی ۔
۵...اس دن تمام انبیاء اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا۔
۶... جس نے دسویں محرم کو چار رکعات اس ترتیب سے پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورة الفاتحہ ایک دفعہ ، سورة اخلاص پچاس دفعہ پڑھی تو اللہ نے اس کے ماضی ومستقبل کے پچاس پچاس سال کے گناہ معاف کر دیئے اور ملاءِ اعلی میں اس کے لیے ایک ہزار نوری منبر بنا دیئے۔
۷... جس نے دسویں محرم کو ایک گھونٹ شربت پلایا تو اس نے گویا اللہ کی ایک لمحے کے لیے بھی نافرمانی نہیں کی۔
۸... دسویں محرم کو جس نے اہل بیت کے مسکینوں کو پیٹ بھر کر کھلایا تو وہ پل صراط سے بجلی کی چمک کی طرح گزر جائے گا۔
۹... دسویں محرم کو جس نے کچھ بھی خیرات کی تو گویا اس نے سال بھر اپنے در سے کسی سائل کو واپس نہیں کیا۔
۱۰... دسویں محرم کو جس نے غسل کیا تو وہ مرضِ موت کے سوا کبھی بیمار نہ ہو گا۔
۱۱... دسویں محرم کو جس نے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا تو گویا اس نے دنیا جہاں کے تمام یتیموں کے ساتھ بھلائی کی ۔
۱۲...دسویں محرم کو جس نے بیمار کی تیماداری کی تو گویا اس نے تمام اولادِ آدم کی تیمار داری کی ۔
یہ ساری روایات اور احادیث موضوع، خود ساختہ اور بعض لوگوں کی اپنی طرف سے تراشی ہوئی ہیں۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ
"ان میں بعض روایات کے سلسلہ رواة میں بعض صحیح اور ثقہ راویوں کا نام بھی ملتا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ احادیث بنانے والوں نے احادیث گھڑ کر ان کو ثقہ راویوں کے نام منسوب کر دیا ہے تا کہ کچھ لوگ غلط فہمی میں ان کی صحت پر یقین کر لیں۔لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کہ دسویں محرم کے دن سوائے روزہ رکھنے کے اورکوئی کام مسنون نہیں اور دسویں محرم کی فضیلت میں یہ سب روایات خو د ساختہ ہیں...ماسوائے ان روایات کے جو مستند ذرائع سے ثابت ہیں" ٭٭