تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label قادیانیوں کی مردود روایات. Show all posts
Showing posts with label قادیانیوں کی مردود روایات. Show all posts

Tuesday, November 25, 2014

٭ قادیانیوں کی مردود روایات


سیدنا ابوبکرؓ سب سے افضل ہیں  اگر امت میں کوئی نبی نہ ہو
 
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” ابو بکر افضل ھذہ الامة الا ان یکون نبی“ (کنوز الحقائق فی حدیث خیر الخلائق ص۴)
” کہ ابو بکر اس اُمت میں سب سے افضل ہے سوائے اس کے کہ امت میں سے  کوئی نبی ہو۔ یعنی اگر نبی ہو تو ابوبکرؓ اس سے افضل نہیں لہٰذا امکانِ نبوت فی خیرالامت ثابت ہے۔ (نیز دیکھو جامع الصغیر للسیوطی مصری حاشیہ ص۶)۔ “
(قادیانی پاکٹ بک ص۲۷۲)
موضوع (من گھڑت):  کنوزالحقائق میں یہ روایت بحوالہ فر (الفردوس للدیلمی) مذکور ہے، لیکن یہ روایت الفردوس للدیلمی (مطبوع) میں "إلا أن یکون نبي" کے اضافے کے ساتھ نہیں ملی بلکہ صرف "وأبوبکر أفضل ھذہ الأمة" تک موجود ہے۔ (دیکھئے ج۱ص۴۳۷ح۱۷۷۹)
اور دیلمی والی روایت بھی بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے، لہٰذا ثابت ہواکہ قادیانی کی پیش کردہ یہ روایت بھی بے سند یعنی موضوع ہے۔
تنبیہ: اس روایت کی اور بھی سندیں ہیں جو سب کی سب ضعیف ومردود ہیں۔
********

٭ قادیانیوں کی مردود روایات


اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ۔۔۔۔
 
” اوحی اللہ تعالیٰ اِلیٰ عیسیٰ انتقل من مکان اِلیٰ مکان لئلا تعرف فتؤذی“ (کنز العمال جلد ۲ص۳۴)
” اللہ تعالیٰ نے حضرت  عیسیٰ کی طرف وحی کی کہ اے عیسیٰ ! تو ایک  جگہ سے دوسری جگہ چلا جا، تا ایسا نہ ہو کہ تُو پہچانا جائے اور تجھے تکلیف دی جائے۔ “
(قادیانی پاکٹ بک ص۲۰۳۔ ۲۰۴)
ضعیف:  اس روایت کے بعد صاحب کنز العمال نے لکھا ہے:
"کر عن أبي ھریرۃ وفیه ھانئ بن المتوکل السکندراني، قال فی المغني: مجھول" اسے ابن عساکر نے (تاریخ دمشق میں) ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا اور اس سند میں ہانی بن متوکل الاسکندرانی ہے، اس کے بارے میں (ذہبی نے) المغنی میں فرمایا: مجہول ہے۔ (ج۳ص۱۵۸ح۵۹۵۵)
نیز دیکھئے تاریخ دمشق لابن عساکر (۱۸۸/۵۶۔ ۱۸۹) تاریخ بغداد للخطیب (۵۳۳/۴ت۱۱۳۴)
عبد الرحمٰن خادم قادیانی نے صاحبِ کتاب کی اس جرح کو چھپا کر ان لوگوں کی یاد تازہ کردی، جنھیں بندر اور خنزیر بنادیا گیا تھا۔
٭ہانی المتوکل کے بارے میں حافظ ابن حبان نے فرمایا: "فکثر المناکیر في روایته فلا یجوز الاحتجاج به حال" پس اس کی روایتیوں میں منکر روایتیوں کی کثرت ہوگئی لہٰذا کسی حال میں بھی اس سے حجت پکڑنا جائز نہیں۔ (المجروحین: ۹۷/۳)
٭حافظ ذہبی نے اسے المغنی فی الضعفاء میں ذکر کیا (۷۰۷/۲ ت ۶۷۲۵) اور ابن حبان کی جرح کی طرف اشارہ کیا۔
اس روایت کی باقی سند بھی مشکوک و مردود ہے۔
 ********

٭ قادیانیوں کی مردود روایات


اگر نبی کریم ﷺ مبعوث نہ ہوتے
 
 نبی کریم ﷺ سے روایت کیا جاتا ہے کہ:
” لو لم أبعث فیکم لبعث عمر بن الخطاب“
” اگر میں تمہارے درمیان مبعوث نہ ہوتا تو عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) مبعوث ہوتے۔ “
(فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل: ۴۲۸/۱ح۶۷۶)
ضعیف: اس کی سند میں محمد بن عبید الکوفی مجروح ہے:
٭ "له مناکیر" اس  کی منکر روایتیں ہیں۔ (دیکھئے لسان المیزان : ۲۷۶/۵، دوسرا نسخہ: ۳۳۰/۶)
٭ اس کی سند میں "رجل " مجہول ہے۔

دوسری سند: الکامل لابن عدی (۱۰۱۴/۳، دوسرا نسخہ: ۸/۴)
٭اس میں رشدین بن سعد جمہور کے نزدیک ضعیف راوی ہے۔
٭ابن لھیعہ مدلس ہیں۔
٭ اور محمد بن عبد اللہ بن سعید الغزی کا تعین مطلوب ہے۔
٭ نیز یہ روایت مقلوب ہے جیسا کہ ابن عدی نے صراحت کی ہے اور مقلوب ضعیف کی قسم ہے۔

تیسری سند: عن بلال رضي اللہ عنه، الکامل (۱۰۷۱/۳، دوسرا نسخہ: ۱۷۵/۴) الموضوعات لابن الجوزی (۳۲۰/۱ح۵۹۴) تاریخ دمشق لابن عساکر (۱۱۶/۴۴) اللالی المصنوعۃ للسیوطی (۳۰۲/۱)
اس روایت کی سند میں :
٭ زکریا بن یحییٰ الوقار کذاب ہے
٭اور ابو بکر بن عبد اللہ بن ابی مریم الغسانی ضعیف ہے۔
٭ نیز ابن عدی نے اسے غیر محفوظ اور مقلوب قرار دیا ہے۔

چوتھی سند: الکامل لابن عدی (۱۵۱۱/۴، دوسرا نسخہ: ۳۲۴/۵)
اس سند میں تین وجۂ ضعف ہیں:
۱: ابوقتادہ عبد اللہ بن واقد الحرانی متروک مدلس تھا۔ (دیکھئے تقریب التہذیب: ۴۰۹۰)
۲:مصعب بن سعد ابو خیثمہ المصیصی ضعیف عند الجمہور و مدلس تھا، بلکہ ابن عدی نے فرمایا: "یحدث عن الثقات بالمناکیر و یصحف"
یعنی ثقہ راویوں سے منکر روایتیں بیان کرتا تھا اور  تصحیف (روایتیں پڑھنے میں غلطی) کرتا تھا۔
۳:عمر بن الحسن بن نصر الحلبی کی توثیق بھی مطلوب ہے.

پانچویں سند: حدیث ابی بکر وابی ہریرہ رضی اللہ عنہما (مسند الفردوس للدیلمی: ۴۱۷/۳ح۵۱۶۷، ابن الجوزی فی الموضوعات: ۳۲۰/۱ح۵۹۵، تاریخ دمشق لابن عساکر: ۱۱۴/۴۴، وقال: "غریب" اللآلی المصنوعہ: ۳۰۲/۱)
٭ اس کی سند میں اسحاق بن نجیح الملطی کذاب ہے اور دوسری علتیں بھی ہیں۔
٭ایک اور سند میں بھی عبد اللہ بن واقد الحرانی متروک ہے۔ دیکھئے اللآلی المصنوعہ(۳۰۲/۱ ) والفوائد المجموعۃ (للجرح علی کلام السیوطی ص۳۳۷)
٭حافظ عراقی نے تخریج الاحیاء میں فرمایا: "وھو منکر" (۱۶۱/۳)
خلاصۃ التحقیق: یہ روایت اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف ومردود ہے۔
نیز دیکھئے: طبقات الشافعیہ للسبکی (۵۰۹/۳) اور موسوعۃ الاحادیث والآثار الضعیفۃ والمضوعۃ (۳۶۸/۸- ۳۶۹ ح۲۱۰۷۶، ۲۱۰۷۷)

********

٭ قادیانیوں کی مردود روایات


نبی ﷺ سے پہلے  اور بعد والےنبی
امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے فرمایا:
حدثنا أبو أسامة عن مجالد قال: أخبرنا عامر قال :
”قال رجل عند المغیرة بن شعبة: صلی اللہ علی محمد خاتم الأنبیاء لا نبي بعدہ، قال المغیرہ:
 حسبک إذا قلت خاتم الأنبیاء فإنا کنا نحدث أن عیسی خارج فإن ھو خرج فقد کان قبله وبعدہ“

” عامر (الشعبی رحمہ اللہ) سے روایت ہے کہ مغیرہ بن شعبہ (رضی اللہ عنہ) کے پاس ایک آدمی نے کہا: محمد خاتم الانبیاء (ﷺ) پر درود ہو، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ مغیرہ نے کہا: جب تو نے خاتم الانبیاء کہہ دیا تو تیرے لئے یہی کافی ہے کیونکہ ہمیں بتایا جاتا تھا کہ عیسیٰ () خروج فرمائیں گے، پس جب وہ خروج فرمائیں گے تو وہ آپ سے پہلے کے نبی ہیں اور بعد والے نبی بھی ہیں۔ “
(مصنف ابن ابی شیبہ: ۱۱۰/۹ح۲۶۶۴۵)

ضعیف: اس روایت کا راوی مجالد بن سعید الہمدانی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف تھا۔
 ٭حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "مجالد بن سعید جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔" (مجمع الزوائد: ۴۱۶/۹)
٭ حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔" (فیض القدیر للمناوی: ۱۳/۶، ح : ۸۲۴۷)
اس ضعیف ومردو روایت سے بھی قادیانیوں کا رد ہوتا ہے کیونکہ اس میں بنی اسرائیل والے سیدنا عیسیٰ بن مریم  کی صراحت کے ساتھ  دوبارہ خروج کا تذکرہ ہے۔
********


٭ قادیانیوں کی مردود روایات


خاتم النبیین نہ کہو
امام ابن ابی شیبہ نے فرمایا:
حدثنا حسین بن محمد قال: حدثنا جریر بن حازم عن عائشة قالت:
” قولوا خاتم النبیین ولا تقولوا لانبي بعدہ“

” سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ “
(مصنف ابن ابی شیبہ: ۱۱۰/۹ح۲۶۶۴۴)
ضعیف: یہ روایت سخت منقطع ہونے کی وجہ ضعیف و مردود ہے۔
۱:سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ۵۷ھ میں فوت ہوئیں۔ (تقریب التہذیب: ۸۶۳۳)
۲: اور جریر بن حازم ۱۷۰ھ میں فوت ہوئے۔ (تقریب التہذیب: ۹۱۱)
 یعنی ۱۱۳ سال بعد، اور کسی دلیل سے جریر بن حازم رحمہ اللہ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے دور میں پیدا ہونا بھی ثابت نہیں۔
********


٭ قادیانیوں کی مردود روایات

ابراہیم بن محمدﷺ سچے نبی ہوتے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّ
” اور اگر (ابراہیم بن محمد رسول اللہ ﷺ) زندہ رہتے تو صدیق نبی ہوتے۔ “
 (سنن ابن ماجہ: ۱۵۱۱)
سخت ضعیف: یہ روایت دو وجہ سے مردود ہے:
۱: اس کا بنیادی راوی ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان الواسطی جمہور کے نزدیک سخت مجروح ہے۔ اس کےبارے میں:
٭امام ترمذی نے فرمایا: "منکر الحدیث" (سنن ترمذی: ۱۰۲۶)
٭امام نسائی نے فرمایا: "متروک الحدیث" (کتاب الضعفاء والمتروکین: ۱۱)
٭امام شعبہ نے فرمایا: "کذب واللہ ! " اللہ کی قسم! اس نے جھوٹ بولا ہے۔ (العلل للامام احمد: ۴۶۲، وسندہ صحیح)
جمہور محدثین کی جرح کے مقابلے میں یزید بن ہارون وغیرہ بعض علماء کا ابو شیبہ کی تعریف کرنا جمہور کے مقابلے میں ہونے کی وجہ سے مردود ہے، لہٰذا عبد الرحمٰن خادم قادیانی کا اپنی کتاب "پاکٹ بک" (ص۲۶۹- ۲۷۰) میں اس راوی کا دفاع کرنا اصولِ حدیث اور اسماءالرجال کی رُو سے غلط ہے۔
۲:حکم بن عتیبہ مدلس ہیں اور یہ روایت عن سے ہے، اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ یہ حدیث حکم بن عتیبہ نےمقسم سے سنی تھی۔
********



Monday, August 25, 2014

٭ عیسٰی علیہ السلام ہی مہدی علیہ السلام ہیں


حضرت عیسیٰ  ہی مہدی ہیں
لاَ الْمَهْدِيُّ إِلاَّ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ
"عیسٰی  کے علاوہ کوئی مہدی نہیں۔"
(سنن ابن ماجہ: 4039، حلیۃ الأولیاء لابي نعیم: 161/9، المستدرک علی الصحیحین للحاکم: 441/4،
 جامع بیان العلم و فضلہ لابن عبد البرّ: 155/1، تاریخ بغداد للخطیب: 221/4)
 
ضعیف: اس روایت کی سند درج ذیل ہے:حدثنا یونس بن عبد الاعلی، حدثنا محمد بن ادریس الشافعی، حدثني محمد بن خالد الجندي، عن أبان بن صالح، عن الحسن ، عن أنس بن مالک
یہ روایت تین وجہ سے ضعیف ہے:
1: اس کا راوی محمد بن خالد الجندی "مجہول" ہے۔ (تقریب التھذیب لابن حجر: 5849)
٭ اس کو امام حاکم رحمہ اللہ (تاریخ ابن عساکر: 517/47) اور امام بیہقی رحمہ اللہ (بیان خطأ للبیہقی: 299) نے "مجہول " کہا ہے۔ جبکہ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اسے "متروک" کہا ہے۔ (التمھید لابن عبد البر: 39/23)
2:اس کی سند میں امام حسن بصری رحمہ اللہ "مدلس" ہیں۔ انہوں نے سماع کی تصریح نہیں کی۔
3:ابان صالح نے حسن  بصری سے نہیں سنا، لہٰذا یہ سند منقطع بھی ہے۔
 
اس حدیث سے متعلق ائمہ محدثین کا فیصلہ:
٭
علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد امام نسائی رحمہ اللہ کا یہ قول ذکر کرتے ہیں: "یہ حدیث منکر ہے۔" (العلل المتانھیة لابن الجوزي: 862/2،ح: 1447)
٭امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  "اگر یہ حدیث  اس سند کے ساتھ منکر ہے تو اس کی ذمہ داری محمد بن خالد پر پڑتی ہے۔  " (بیان خطأ للبیہقي: 299) 
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ حدیث منکر ہے۔" (میزان الاعتدال للذھبي: 535/3) 
٭علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ حدیث صحیح نہیں۔" (تفسیر القرطبي: 122/8) 
٭ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ روایت ضعیف ہے۔" (منھاج السنة النبویّة لابن تیمیة : 211/4)   ٭علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ حدیث ثابت نہیں۔۔۔۔۔" (المنار المنیف لابن القیم: 148) 
٭علامہ صنعانی رحمہ اللہ نے اسے "موضوع" (من گھڑت) قرار دیا ہے۔ (الفوائد المجموعة للشوکاني: ص 510)