تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label متفرق فضائل. Show all posts
Showing posts with label متفرق فضائل. Show all posts

Monday, August 17, 2015

٭ گلاب کی تخلیق نبی ﷺ کے پسینے سے


گلاب کی تخلیق نبی ﷺ کے پسینے سے

إِنَّ الْوَرْدَ خُلِقَ مِنْ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یقیناً گلاب کا پھول نبی کریم ﷺ کے پسینے سے پیدا کیا گیا ہے۔“

 
موضوع (من گھڑت): یہ جھوٹی اور من گھڑت روایت ہے۔
٭ امام نووی رحمہ اللہ نے اس روایت کو غیر صحیح کہا ہے، جبکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے موضوع کہا ہے۔ (کما فی کشف الخفاء: ۲۵۸/۱، المقاصد الحسنة: ص۲۱۶)
٭علامہ احمد العامری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں۔ (الحد الحثیث: ص ۲۵۲)

Wednesday, October 29, 2014

٭ سورہ یسین قرآن کا دل ہے؟ سورہ یاسین کی فضیلت احادیث کی روشنی میں


قرآن کا دل سورۂ یسین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ يس وَمَنْ قَرَأَ يس كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ
ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورۂ یسین ہے۔ جوسورہ یاسین ایک مرتبہ پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس مرتبہ قرآن پڑھنے کا اجر لکھتا ہے۔

ضعیف: امام ترمذی اس روایت کو بیان کرنے کے بعد اس کے راوی ہارون ابو محمد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:

وهارون أبومحمد شيخ مجهول‏.‏
۱: لہٰذا یہ روایت ہارون مذکور کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
۲: اس کے راوی قتادہ مدلس ہیں اور سماع کی تصریح نہیں ملی۔
٭ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو من گھڑت قرار دیا ہے۔ (المنتخب من علل الخلال،ص:۱۱۷)
٭ محدث البانی رحمہ اللہ نے اسے موضوع قرار دیا ہے۔ (السلسلة الضعیفة:ج۱ص۲۰۲ح۱۶۹)
٭امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے اس روایت کو موضوع قرار دے کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس حدیث کا راوی: مقاتل بن سلیمان "کذاب" ہے۔ (علل الحدیث ج۲ ص۵۶، ۵۵ح۱۶۵۲) جبکہ سنن ترمذی و سنن دارمی (ج۲ص۴۵۶ح۳۴۱۹) تاریخ بغداد (ج۴ص۱۶۷) میں مقاتل بن حیان (صدوق) ہے۔ واللہ اعلم

سورہ یاسین کی فضیلت احادیث کی روشنی میں

سیدنا ابن عباس (رضی اللہ عنہما) نے فرمایا:

جو شخص صبح کے وقت یٰسین پڑھے تو اسے شام تک آسانی عطا ہوگی۔ اور جو شخص رات کے وقت یٰسین پڑھے تو اسے صبح تک آسانی عطا ہوگی۔ (یعنی اس کے دن و رات آرام و راحت سے گزریں گے)
(سنن الدارمی: 1/ 457 ح 3422 ، دوسرا نسخہ: 3462 وسندہ حسن)
٭ اس روایت کی تحقیق پڑھنے کیلئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 1 صفحہ 496 اور 497) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

اس میں توکوئ شک وشبہ نہیں کہ سورہ  یس ایک عظيم سورۃ ہے۔ جس میں بہت ہی مؤثر قسم کے قصص اور اثربالغ رکھنے والی عبرتیں پائ جاتی ہیں، سورۃ یس میں آخرت کی دعوت جس موثر انداز میں دی گئی ہے، اس کے باعث اسے سمجھ کر بار بار پڑھنا چاہیے۔ اس سے واقعی دل پر بڑا اثر ہوتا ہے لیکن سورہ یاسین  قرآن مجید کا دل کہنا صحیح ثابت نہیں ہے۔

Saturday, September 06, 2014

٭ نبی ﷺ کی قبرپر موجود درود پہنچانے والا فرشتہ

نبی ﷺ کی قبرپر موجود  درود پہنچانے والا فرشتہ
سیدنا عمار بن یاسر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
” إن اللہ وکل بقبري ملکا أعطاہ أسماع الخلائق، فلایصلّي علي أحدً إلیٰ یوم القیامۃ، إلّا بلغني باسمہ واسم أبیہ، ھذا فلان بن فلان، قد صلّٰی علیک“
” اللہ تعالیٰ میری قبر پر ایک فرشتہ مقر فرمائے گا جسے تمام مخلوقات کی آوازیں سننے کی صلاحیت عطا کی گئی ہوگی۔ روز قیامت تک جو شخص بھی مجھ پر درود پڑھے گا، وہ فرشتہ درود پڑھنے والے اور اس کے والد کا نام مجھ تک پہنچائے گا اور عرض کرے گا: اللہ کے رسول ! فلاں کے بیٹے فلاں نے آپ پر درود بھیجا ہے۔“
 (مسند البزّار:254/2، ح:1425، التاریخ الکبیر للبخاری:416/6، مسند الحارث: 962/2،ح:1063، الترغیب لابي القاسم التیمي:319/2، ح:1671)


سخت ضعیف: یہ روایت سخت ضعیف ہے، کیونکہ:
1: اس کا راوی عمران بن حمیری جعفی "مجہول الحال" ہے۔ سوائے ابن حبان رحمہ اللہ کے کسی نے اس کی توثیق نہیں کی۔
٭امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ منکر روایات بیان کرتا ہے۔" (التاریخ الکبیر:416/6)
٭علامہ ذہبی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں: "یہ مجہول راوی ہے۔" (میزان الاعتدال:236/3)
٭حافظ منذری رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ (القول البدیح للسخاوي: ص 119)
٭حافظ ہیثمی، حافظ ذہبی پر اعتماد کرتےہوئے فرماتے ہیں: "صاحبِ میزان الاعتدال (علامہ ذہبی رحمہ اللہ) کا کہنا ہے کہ یہ راوی مجہول ہے۔" (مجمع الزوائد:162/10)
٭علامہ عبد الرؤف مناوی، علامہ ہیثمی کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "میں اسے پہچان نہیں پایا۔" (فیض القدیر:612/2)
2:اس کا راوی نعیم بن ضمضم ضعیف ہے۔ اس کے بارے میں:
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ضعیف الحدیث راوی ہے۔ (المغني في الضعفاء:701/2)
٭علامہ ہیثمی لکھتے ہیں: "نعیم بن ضمضم ضعیف راوی ہے" (مجمع الزوائد: 162/10)
اس کے بارے میں ادنیٰ کلمہ توثیق بھی ثابت نہیں۔


Wednesday, August 27, 2014

٭ نبی اکرمﷺ کی قبر مبارک کی زیارت کی فضیلت

نبی اکرمﷺ کی قبر مبارک کی زیارت کی فضیلت
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
من زارني في مماتي، کان کمن زارني في حیاتي، ومن زارني حتی ینتھي إلی قبري، کنت لہ شھیدًا یوم القیامۃ، أو قال: شفیعاً
"جو میری موت کے بعد میری زیارت کرے گا، اس نے گویا زندگی میں میری زیارت کی اور جو شخص میری زیارت کو آئے حتی کہ میری قبر تک پہنچ جائے، اس کے لیے میں روزِ قیامت گواہی دوں گا، یا فرمایا: سفارش کروں گا۔"
(الضعفاء الکبیر للعقیلی:457/3)

سخت ضعیف
:  اس کی سند سخت "ضعیف "اور "منکر" ہے۔
1:اس کا راوی فضالہ بن سعید بن زمیل ماربی "ضعیف" ہے۔ کسی  نے اسے "ثقہ" نہیں کہا۔ البتہ  اس کے بارے میں
٭امام
عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کی حدیث شاذ ہے اور اس سے یہی ایک روایت مشہور ہے۔“ (الضعفاء الکبیر : 457/3)
٭حافظ ابو نعیم فرماتے ہیں: "اس نے منکر روایات بیان کی ہیں۔ یہ ناقابل التفات ہے" (لسان المیزان لابن حجر: 436/4)
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے "وَاہ "(یعنی ضعیف) کہا ہے۔ (المغني فی الضعفاء:510/2)
٭حافظ ابن حجر (التلخیص الحبیر: 267/2) اور حافظ ابن ملقن (البدر المنیر: 255/3) میں اسے ضعیف کہا ہے۔
روایت سے متعلق علماء کی آراء:
٭ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ خود ساختہ روایت ہے۔" (میزان الاعتدال: 349/3، ت: 6709)
٭امام عقیلی رحمہ اللہ نے اسے "غیر محفوظ" قرار دیا ہے۔ (الضعفاء الکبیر : 457/3)

٭ چالیس حدیثیں حفظ کرنا


چالیس حدیثیں حفظ کرنا
و عن أبی الدرداء قال: سئل رسول اللہ ﷺ: ما حدّ العلم الذي إذا بلغہ الرجل کان فقیھاً؟ فقال رسول اللہ ﷺ: ((من حفظ علیٰ أمتي أربعین حدیثاً في أمر دینھا بعثہ اللہ فقیھاً و کنتُ لہ یوم القیامۃ شافعاً و شھیدًا))
سیدنا ابو الدرداء (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: علم کی وہ کون سی حد ہے جس پر پہنچ کر آدمی فقیہ بن جاتا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص میری امت کے لئے دینی امور میں چالیس حدیثیں حفظ کرے، اللہ اسے فقیہ مبعوث فرمائے گا (یعنی قیامت کے دن بطورِ فقیہ اُٹھائے گا) اور قیامت کے دن اس کے لئے شفاعت کرنے والا اور  گواہ ہوں گا۔"
(بیہقی شعب الایمان: 1726، دوسرا نسخہ: 1597)
موضوع (من گھڑت) :اس کی سند موضوع ہے۔
1: اس کا راوی عبدالملک بن ہارون بن عنترہ کذاب (جھوٹا) تھا۔
٭امام یحییٰ بن معین نے فرمایا: "کذاب ہے۔" (تاریخ ابن معین،  راویۃ الدوری: 1516)
٭ حافظ ابن حبان نے کہا: "وہ حدیثیں گھڑنے والوں میں سے تھا" (کتاب المجروحین: 133/2، دوسرا نسخہ: 115/2)
٭حاکم نیشا پوری نے گواہی دی: "اس نے اپنے باپ سے موضوع حدیثیں بیان کیں" (المدخل الی الصحیح: ص 170ت129)
یہ روایت بھی (اس تک بشرطِ صحت) اُس نے اپنے باپ سے بیان کی، لہٰذا یہ سند موضوع ہے۔
2: امام بیہقی سے لے کر عبد الملک بن ہارون تک سند بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس میں عبد اللہ بن نعمان البصری اور عمرو بن محمد صاحبِ یعلی بن الاشدق وغیرہما مجہول راوی ہیں۔

ائمہ و محدثین کی آراء:
٭ امام بیہقی نے فرمایا: یہ متن لوگوں کے درمیان مشہور ہے اور اس کی کوئی سند صحیح نہیں ہے۔ (شعب الایمان: 1727، دوسرا نسخہ: 1598)
٭ ابن الملقن نے کہا: اگرچہ اس کی سندیں متعدد ہیں، لیکن حفاظِ حدیث کا اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ (البر المنیر ج 7 ص 278)
٭حافظ ابن عبد البر نے فرمایا: "اور اس حدیث کی ساری سندیں ضعیف ہیں" (جامع بیان العلم و فضلہ:95/1 تھت ح 156)
تنبیہ: چونکہ بعض علمائے سابقین نے اربعین وغیرہ  اعداد پر کتابیں لکھی ہیں، لہٰذا اقتدائے سلف کی وجہ سے ایسا کرنا جائز ہے اور یہ جواز من باب الاجتہاد ہے۔ واللہ اعلم (حافظ  زبیر علی زئی رحمہ اللہ)

Monday, March 10, 2014

٭ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شیعہ


حضرت علی کے شیعہ
و عن جابر بن عبد اللہ قال کنا عند النبی ﷺ فاقبل علی فقال النبی ﷺ و الذی نفسی بیدہ ان ھٰذا و شیعتہ ھم الفائزون یوم القیامۃ و نزلت انّ الذین آمنوا (الایۃ) فکان اصحاب النبی ﷺ اذا  اقبل علی قالوا جاء خیر البریہ۔
جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ حضرت علی تشریف لائے آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضئہ قدرت میں میری جان ہے کہ  یہ (علی) اور ان کے شیعہ ہی قیامت کے دن رستگاری حاصل کرنے والے  ہیں اس وقت یہ آیت نازل ہوئی انّ الذین امنوا۔ اس کے بعد جب بھی کسی بزم میں حضرت علی  تشریف لاتے تو صحابہ کہتے خیر البریہ "بہترین خلائق" آگئے۔ (تفسیر درِّ منثور ج 6 ص 379 طبع مصر نور الابصار ص 78 طبع مصر و تذکرۃ الخواص ص 31 و ینابیع المودۃ ص 214 و صواعقِ محرقہ ص 159 و فرائد السمطین ج 1 ص 31 و غیرہا)

موضوع(من گھڑت): یہ ساری کتابیں (در منثور، نور الابصار، تذکرۃ الخواص، ینابع المودۃ، صواعق محرقہ اور فرائد السمطین وغیرہا) بے سند کتابیں ہیں لہٰذا سخت ناقابلِ اعتماد ہیں اور ان کا کوئی حوالہ بھی اہل سنت کے خلاف پیش کرنا جائز نہیں۔
درمنثور میں (379/6) میں یہ روایت بحوالہ ابن عساکر مذکور ہے اور ابن عساکر کی تاریخ دمشق (243/45) میں اس کی سند موجود ہے لیکن کئی وجہ سے موضوع ہے:
٭اس کا راوی ابو عقدہ چور تھا اور گندا آدمی تھا۔(الکامل لابن عدی:ج1 ص 209 و سندہ صحیح),
امام دارقطنی نے فرمایا: وہ گندا آدمی تھا۔ (تاریخ بغداد ج 5 ص 22 و سندہ صحیح لسان المیزان ج 1 ص 264ت817)
٭ ابن عقدہ کا استاد محمد بن احمد بن الحسن القطوانی مجہول ہے۔
٭قطوانی کا استاد ابراہیم بن الس الانصاری مجہول ہے۔
٭انصاری کا استاد ابراہیم بن جعفر بن عبد اللہ بن محمد بن مسلمہ بھی مجہول ہے۔
خلاصۃ التحقیق یہ ہے کہ یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے، لہٰذا بغیر جرح کے اس کا بیان کرنا حلال نہیں۔

Thursday, February 20, 2014

٭ آگ دیکھنے پر اللہ اکبر کہنا

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اذا رأیتم الحریق فکبّروا، فانّ التّکبیر یطفئۃ۔
 "جب تم آگ دیکھو تو تکبیر کہو، کیونکہ اللہ اکبر اس کو بجھا دیتا ہے۔"
(عمل الیوم اللیلۃ لابن السنی: 295-298، الدعاء للطبرانی:1266)
موضوع(من گھڑت): ٭ یہ موضوع روایت ہے، کیونکہ اس کی سند میں قاسم بن عبد اللہ بن عمر راوی "متروک" ہے، امام احمد نے اسے جھوٹا کہا ہے۔ (تقریب التہذیب:5468)
٭ طبرانی (الدعاء: 1266-1267) میں اس کی متابعت اس کے بھائی عبد الرحمٰن بن عبد اللہ بن عمر نے  کررکھی ہے، وہ بھی "کذاب" ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اسے "متروک" کہا ہے۔ (3922)
٭الکامل لابن عدی اور الدعوات الکبیر للبیہقی میں متابعتاً ابنِ لہیعہ کی روایت آتی ہے تو یہ ابن لہیعہ (ضعیف عند الجمہور) کی تدلیس ہے، جیسا کہ ابن ابی مریم کہتے ہیں:"اس حدیث کو ابن لہیعہ نے ہمارے ایک ساتھی زیاد بن یونس الحضرمی سے سنا، وہ قاسم بن عبد اللہ بن عمر سے بیان کرتا ہیں، ابن لہیعہ اسے مستحسن عمل خیال کرتےتھے، پھر انھوں نے کہا، اسے وہ عمر بن شعیب سے بیان کرتا ہے۔ " (الضعفاء الکبیر للعقیلی: 296/2)
ثابت ہوا کہ یہ متابعت اس سند کی ہے، جس میں قاسم بن عبد اللہ "کذاب" راوی موجود ہے۔

Tuesday, February 18, 2014

٭ حضرت علی ؓ غفار، ستار، قاضی الحاجات

حضرت علی ؓ غفار، ستار، قاضی الحاجات (الامن و العلی از احمد رضا: ص 222-223)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
بے شک اللہ عزوجل سے شرم آتی ہے کہ کسی کا گناہ میری صفتِ مغفرت سے بڑھ جائے ۔ وہ گناہ کرے اور میری مغفرت اس کی بخشش میں تنگی کرے کہ میں نہ بخش سکوں یا کسی کی جہالت میرے علم سے زائد ہوجائے کہ وہ جہل سے پیش آئے اور میں حلم سے کام نہ لے سکوں یا کسی عیب ، کسی شرم کی بات کو میرا پردہ نہ چھپائے یا کسی حاجت مندی کو میرا کرم بند نہ فرمائے۔ (تاریخ بغداد للخطیب: 381/1 ، تاریخ ابن عساکر : 517/42)
موضوع (من گھڑت): یہ روایت جھوٹ کا پلندا ہے۔
1: اس کا راوی ہیثم بن عدی بالاتفاق "کذاب" ، "متروک الحدیث" اور "مدلس" ہے۔
٭امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: "یہ ثقہ نہیں تھا۔ جھوٹ بولتا تھا۔" (تاریخ یحییٰ بن معین: 1768)
٭امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ متروک الحدیث راوی ہے۔ اس کا درجہ واقدی (کذاب راوی) والا درجہ ہے۔" (الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم:85/9)
٭امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ متروک الحدیث راوی ہے۔" (الضعفاء و المتروکون للنسائی: 637)
٭امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ کچھ بھی نہیں تھا۔" (تاریخ ابی زرعۃ: 431/3)
٭امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "محدثین نے اس کی روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔" (کتاب الضعفاء للبخاری: 399)
اس کے علاوہ اس پر بہت سی جروح ہیں۔ ایک بھی توثیق ثابت نہیں۔
2: اس روایت کا دوسرا راوی مجالد بن سعید جمہور محدثین کرام کے نزدیک "ضعیف" اور "سییی ء الحفظ" ہے۔
٭حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "مجالد بن سعید جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔" (مجمع الزوائد للھیثمی: 66/6، 347/7، 32/5، 98/9)
٭ حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔" (فیض القدیر للمناوی: 13/6، ح : 8247)
٭ علامہ عینی حنفی لکھتے ہیں: "اسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔" (عمدۃ القاری: تحت حدیث: 934)