تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label ماہِ رجب سے متعلق. Show all posts
Showing posts with label ماہِ رجب سے متعلق. Show all posts

Tuesday, May 19, 2015

٭ ماہِ رجب کی وجہ تسمیہ


اس روایت کو ٹیکسٹ ورژن میں پڑھئیے >> ماہِ رجب کی وجہ تسمیه - فضائل رجب المرجب 


Tags: مشہور ضعیف اور موضوع (من گھڑت) احادیث،  رجب المرجب کے فضائل، 27 رجب اسراء و معراج کی رات ، رجب سے متعلق ضعیف اور من گھڑت روایات،  تحقیق حدیث، Zaeef HadeesDaeef Hadiths, Zaeef Hadith, Weak and Fabricated Hadiths, False Hadiths, سلسلة الأحادیث الضعیفة، محدث البانی رحمه اللہ، محدث شیخ زبیر علی زئی رحمه اللہ۔ www.zaeefhadith.com
zaeef hadees, daef hadiths, false hadiths, ماہ رجب کے فضائل، رجب المرجب کے فضائل
www.zaeefhadith.com



٭ 27 رجب کی رات ایک نیکی سو سال کی نیکیوں کے برابر


اس روایت کو ٹیکسٹ ورژن میں پڑھئیے >>  27 رجب اسراء و معراج کی رات 12 رکعت پڑھنا | ضعیف احادیث

Tags: مشہور ضعیف اور موضوع (من گھڑت) احادیث،  رجب المرجب کے فضائل، 27 رجب اسراء و معراج کی رات ، رجب سے متعلق ضعیف اور من گھڑت روایات،  تحقیق حدیث، Zaeef HadeesDaeef Hadiths, Zaeef Hadith, Weak and Fabricated Hadiths, False Hadiths, سلسلة الأحادیث الضعیفة، محدث البانی رحمه اللہ، محدث شیخ زبیر علی زئی رحمه اللہ۔ www.zaeefhadith.com

مشہور ضعیف اور موضوع (من گھڑت) احادیث،  رجب المرجب کے فضائل، 27 رجب اسراء و معراج کی رات ، رجب سے متعلق ضعیف اور من گھڑت روایات،  تحقیق حدیث، Zaeef Hadees, Daeef Hadiths, Zaeef Hadith, Weak and Fabricated Hadiths, False Hadiths, سلسلة الأحادیث الضعیفة، محدث البانی رحمه اللہ، محدث شیخ زبیر علی زئی رحمه اللہ۔ www.zaeefhadith.com


Monday, May 04, 2015

٭ ستائیس رجب کے روزے اور رات کی شب بیداری کا ثواب

اس روایت کو ٹیکسٹ ورژن میں پڑھئیے >> ستائیس رجب کے روزے اور شب بیداری کا ثواب 

Tags: مشہور ضعیف اور موضوع (من گھڑت) احادیث،  رجب المرجب کے فضائل، 27 رجب اسراء و معراج کی رات ، رجب سے متعلق ضعیف اور من گھڑت روایات،  تحقیق حدیث، Zaeef HadeesDaeef Hadiths, Zaeef Hadith, Weak and Fabricated Hadiths, False Hadiths, سلسلة الأحادیث الضعیفة، محدث البانی رحمه اللہ، محدث شیخ زبیر علی زئی رحمه اللہ۔ www.zaeefhadith.com

Monday, April 27, 2015

٭ کشتی نوح میں رجب کے روزے کی بہار


اس روایت کو ٹیکسٹ ورژن میں پڑھئیے >> کشتی نوح میں رجب کے روزے کی بہار - فضائل رجب  

Tags: مشہور ضعیف اور موضوع (من گھڑت) احادیث،  رجب المرجب کے فضائل، کشتی نوح میں رجب کے روزے کی بہار ، رجب سے متعلق ضعیف اور من گھڑت روایات،  تحقیق حدیث، Zaeef HadeesDaeef Hadiths, Zaeef Hadith, Weak and Fabricated Hadiths, False Hadiths, سلسلة الأحادیث الضعیفة، محدث البانی رحمه اللہ، محدث شیخ زبیر علی زئی رحمه اللہ۔ www.zaeefhadith.com

www.zaeefhadith.com

Sunday, April 26, 2015

٭ جنتی نہر کا نام رجب



اس روایت کو ٹیکسٹ ورژن میں پڑھنے کیلئے کل کریں :جنتی نہر  کا نام رجب


کفن کی واپسی، جنتی نہر کا نام رجب، ضعیف احادیث

Thursday, April 23, 2015

٭ پانچ بابرکت راتیں

اس روایت کو ٹیکسٹ ورژن میں پڑھئیے >> پانچ بابرکت راتیں - رجب کی پہلی رات دعا رد نہیں ہوتی  

Tags: مشہور ضعیف اور موضوع (من گھڑت) احادیث،  رجب المرجب کے فضائل، پانچ بابرک راتیں، رجب کی پہلی رات دعا رد نہیں ہوتی،  رجب سے متعلق ضعیف اور من گھڑت روایات،  تحقیق حدیث، Zaeef HadeesDaeef Hadiths, Zaeef Hadith, Weak and Fabricated Hadiths, False Hadiths, سلسلة الأحادیث الضعیفة، محدث البانی رحمه اللہ، محدث شیخ زبیر علی زئی رحمه اللہ۔ www.zaeefhadith.com


www.zaeefhadith.com

Tuesday, April 21, 2015

٭ ماہِ رجب کے ابتداء کی دعا



اس روایت کو ٹیکسٹ ورژن میں پڑھئیے >> ماہ رجب المرجب کے ابتداء کی دعا  | ضعیف احادیث

Tags: مشہور ضعیف اور موضوع (من گھڑت) احادیث،  رجب المرجب کے فضائل، 27 رجب اسراء و معراج کی رات ، رجب سے متعلق ضعیف اور من گھڑت روایات،  تحقیق حدیث، Zaeef HadeesDaeef Hadiths, Zaeef Hadith, Weak and Fabricated Hadiths, False Hadiths, سلسلة الأحادیث الضعیفة، محدث البانی رحمه اللہ، محدث شیخ زبیر علی زئی رحمه اللہ۔ www.zaeefhadith.com


Monday, April 20, 2015

٭ ماہِ رجب کے روزوں کی فضیلت



Tags: مشہور ضعیف اور موضوع (من گھڑت) احادیث،  رجب المرجب کے فضائل، 27 رجب اسراء و معراج کی رات ، رجب سے متعلق ضعیف اور من گھڑت روایات،  تحقیق حدیث، Zaeef HadeesDaeef Hadiths, Zaeef Hadith, Weak and Fabricated Hadiths, False Hadiths, سلسلة الأحادیث الضعیفة، محدث البانی رحمه اللہ، محدث شیخ زبیر علی زئی رحمه اللہ۔ www.zaeefhadith.com


Sunday, April 19, 2015

٭ رجب کے روزوں اور اس کی فضیلت سے متعلق علماء کے اقوال


رجب کے روزوں اور اس کی فضیلت سے متعلق علماء کے اقوال:

(1) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لم یرد فی فضل شھر رجب ، ولا فی صیامہ ، ولا فی صیام شئی منہ معین ، ولا فی قیام لیلۃ مخصوصۃفیہ حدیث صحیح یصلح للحجۃو قد سبقنی الی الجزم بذلک الامام ابو اسمٰعیل الھروی الحافظ ، رویناہ عنہ باسناد صحیح ، و کذلک رویناہ عن غیرہ . (تبیین العجب :۷۱)
یعنی :رجب کے مہینے کی فضیلت کے حوالے سےکوئی صحیح روایت وارد نہیں ہوئی اور نہ ہی رجب کے روزوں کے بارے میں ، اور اسے مخصوص روزوں اور قیام کے بارے میں بھی کوئی صحیح روایت وارد نہیں جو حجت کے قابل ہو ۔اور مجھ سے پہلے یہی بات امام ابو اسمعیل  نے کہی ہے جسے ہم نے سند صحیح کے ساتھ بیان کیا ہے ۔
(2) علامہ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
واماالصیام،فلم یصح فی فضل صوم رجب بخصوصہ شئی عن النبی ﷺ ولا عن الصحابۃ .(لطائف المعارف :۲۲۸)
یعنی :نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ سے رجب کے روزوں سے متعلق کچھ بھی ثابت نہیں۔
(3) امام عبداللہ انصاری کے بارے میں آتا ہے :
كَانَ عَبْد اللَّهِ الأَنْصَارِيّ لَا يَصُوم رَجَب وَينْهى عَن ذَلِك يَقُول: مَا صَحَّ فِي فضل رَجَب وَفِي صِيَامه عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم شئ.(الموضوعات لابن الجوزی :کتاب الصیام ،،۲۰۸/۲، المغنی عن الحفظ والکتاب :باب صیام رجب و فضلہ  ،۳۷۱/۱)
یعنی : امام عبداللہ انصاری رجب کے روزے نہیں رکھتے تھے اور اس سے روکتے تھے اور فرمایا کرتے تھے :رجب کی فضیلت اور اس کے روزوں کے حوالے سے کوئی صحیح روایت مروی نہیں ۔
(4)علی بن ابراہیم العطارکہتے ہیں:
ان ما روی فی فضل صیام رجب ، فکلہ موضوع و ضعیف ، لا اصل لہ .(الفوائد المجموعۃ :۳۹۲)
یعنی :رجب کے روزوں کے بارے میں جو کچھ مروی ہے وہ سب ضعیف و موضوع ہے ۔
(5)علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
و کل حدیث فی ذکر صوم رجب  و صلوۃ بعض اللیالی فیہ ، فھوکذب مفتری. (المنار المنیف :84)
یعنی :رجب اور اس کی بعض راتوں کے قیام کے حوالے سے تمام روایات جھوٹ اور بہتان ہیں ۔
ضروری وضاحت :
ہماری مذکورہ تمام گزارشات سے واضح ہوگیا کہ رجب کے روزوں کی فضیلت اور رجب کی دیگر مخصوص عبادات کسی صحیح حدیث یا اثر سے ثابت نہیں ہیں، البتہ یہاں کچھ باتوں کی وضاحت ضروری ہے:
1) اگر ایک شخص کی مسلسل روزے رکھنے کی کوئی ترتیب بنی ہوئی ہے اور اسی ترتیب میں رجب کا مہینہ بھی آرہا ہے تو اس جہت سے یہ روزے رکھے جاسکتے ہیں ، مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ روزے مسلسل نہ ہوں یعنی لگاتار و پے درپہ بغیر گیپ کے نہ ہوں ،کیونکہ رسولِ اکرم ﷺنے اس سے منع فرمایا ہے اور فرمایا:" سب افضل روزہ سیدنا داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن فاصلہ رکھتے"  یعنی ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھتے اس سے زیادہ کی شرعاً اجازت نہیں،اگر کسی نے مسلسل نفلی روزے رکھنے ہوں تو وہ سیدنا داؤد علیہ السلام کی طرح رکھے ۔
2) کفاروں و قضاء کی صورت میں مسلسل روزے رکھےجاسکتے ہیں کیونکہ وہ واجبی روزے ہیں نہ کہ نفلی۔
رسولِ اکرمﷺکی سنّتِ مبارکہ کو سامنے رکھتے ہوئے ہر اسلامی مہینہ کی 13،14،1ٍ5 تاریخ کے روزے اور ہر پیر و جمعرات کے روزے عام مہینوں کی طرح ماہِ رجب میں بھی رکھے جاسکتے ہیں ، لیکن ان کا ماہِ رجب سے کسی بھی قسم کا کوےی تعلق نہیں ، آپﷺ عموماً  پورے سال میں اس ترتیب سے روزے رکھتے تھے۔
رب کریم ہمیں تمام بدعات وناجائزرسومات سے بچا کر توحید و سنت پر کار بند رکھے ۔(آمین )

Thursday, May 08, 2014

٭ 27 رجب اسراء و معراج کی رات


27 رجب اسراء و معراج کی رات
بعض ملکوں میں اسراء و معراج کی یاد کے طور پر ستائیس رجب کی رات کو جشن منایا جاتا ہے۔ جبکہ اس رات میں معراج ہونا صحیح نہیں ہے۔
 
٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ابن دحیہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بعض قصہ گو لوگوں نے یہ بیان کیا ہے کہ معراج ماہ رجب میں پیش آئی تھی، "یہ کذب ہے۔"(تبیین العجب، ص 6)
٭علامہ
ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں "معراج والی روایت قاسم بن محمد سے ایسی سند سے مروی ہے جو صحیح نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ کو ستائیس رجب کو معراج ہوئی تھی ۔ ابراہیم حربی وغیرہ نے اس بات کا انکار کیا ہے۔ " (زاد المعاد لابن القیم 275/2 ، )
٭ علامہ ابن حجر نے فتح الباری( 243/7-242 )میں معراج کے وقت کے بارے میں اختلاف ذکر کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ایک قول یہ ہے کہ معراج ماہ رجب میں ہوئی تھی، دوسرا قول یہ ہے کہ ماہ ربیع الاوّل میں اور تیسرا قول یہ ہے کہ ماہ رمضان یا شوال میں ہوئی تھی، صحیح بات وہی ہے جو علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں "موراج کے مہینہ ، عشرہ اور دن کے بارے میں کوئی قطعی دلیل ثابت نہیں ہے ، بلکہ اس سلسلہ میں نقول منقطع و متضاد ہیں جن سے کسی تاریخ کی قطعیت ثابت نہیں ہوسکتی۔" (لطائف المعارف ، لابن رجب ، ص 233)

واقعہ اسراء اور معراج کے مہینہ کے تعیین میں سیرت نگار اہل علم کے مختلف اقوال ہیں، جن میں سے 9پیش خدمت ہیں:

٭ہجرت سے چھ مہینے پہلے     
٭ ہجرت سے نو مہینے پہلے
٭ محرم
٭ربیع الأول
٭ربیع الآخر
٭رجب
٭رمضان
٭شوال
٭ذوالقعدہ
اسی طرح اسراء و معراج کس سال ہوئی اس میں بھی اختلاف ہے، کسی نے کہا بعثت سے پہلے، تو کسی نے کہانبوت کے سال،اسی طرح ہجرت سے ایک سال پہلے، ہجرت سے تین سال پہلے ، ہجرت سے پانچ سال پہلے وغیرہ وغیرہ جیسے مختلف ا قول  بھی ملتے ہیں۔

 جب واقعہ اسراء و معراج کے سال و مہینہ کی تعیین میں اس قدر شدید اختلاف ہے تو دن متعین کرنے میں تو لازمی طور پر بدرجہ اولی اختلاف ہوجائے گا۔
اس اختلاف کی مزید تفصیل کے لیے تفسیر قرطبی، فتح البار شرح صحیح البخاری (باب المعراج)، امام ابن القیم رحمہ اللہ کی کتاب زاد المعاد  اور دیگر کتب تفسیر و سیرت ملاحظہ فرمائیں۔
مزید تفصیلات کے لئے درج  ذیل لنک  وزٹ کریں !
http://islamqa.info/ur/60288http://islamqa.info/ur/60288
http://islamqa.info/ar/60288http://islamqa.info/ar/60288

Thursday, February 06, 2014

٭رجب اور شعبان کے مہینے کی فضیلت

رجب اور شعبان کے مہینے کی فضیلت

فَضْلُ شَهْرِ رَجَبٍ عَلَى الشُّهُورِ كَفَضْلِ الْقُرْآنِ عَلَى سَائِرِ الْكَلامِ، وَفَضْلُ شَهْرِ شَعْبَانَ عَلَى الشُّهُورِ كَفَضْلِي عَلَى سَائِرِ الأَنْبِيَاءِ.
رجب کے مہینہ کی فضیلت ایسی  ہی ہے جیسی قرآن کی فضیلت تمام کلام پہ اور شعبان کے مہینہ کی وہی فضیلت ہے جیسی میری تمام انبیاء پر“
(المقاصد الحسنۃ: ۷۴۰)


موضوع (من گھڑت): یہ جھوٹی اور من گھڑت روایت ہے، کیونکہ؛
٭ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس روایت کو موضوع قراردیتے ہوئے رقمطراز ہیں: "اس کے تمام رواۃ بجز سقطی کے ثقات ہیں کیونکہ وہ حدیثیں گھڑنے میں معروف تھا" (تبیین العجب: ص ۱۴)
 
 مزید دیکھئے: (کشف الخفاء للعجلونی: ۸۵/۲) ، (تمییز الطیب من الخبیث: ۹۱۹) اور (الأسرار المرفوعة : ۲۵۴)

٭اللہ کا ، میرا اور میری امت کا مہینہ

 اللہ کا  ،رسول اللہ ﷺ کااور امت کا مہینہ

 رَجَبٌ شَهْرُ اللَّهِ ، وَشَعْبَانُ شَهْرِي ، وَرَمَضَانُ شَهْرُ أُمَّتِي.
" رجب اللہ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔"
(مسند دیلمی :  ۳۰۹۵)

موضوع (من گھڑت):
یہ جھوٹی  روایت ہے، کیونکہ ؛
۱: اس کی سند میں ابو بکر بن حسن النقاش متہم بالکذب ہیں ۔(لسان المیزان: رقم:۴۴۱)
۲:اور  کسائی مجہول ہے۔
٭حافظ عراقی شرح ترمذی میں فرماتے ہیں کہ: "یہ حدیث مرسلات حسن میں سے ہونے کی بنا پر نہایت ضعیف ہے۔"
٭ شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس کی تضعیف کی ہے۔ (ضعیف الجامع: رقم ۳۰۹۴)
٭علامہ  شوکانی ، امام  ابن الجوزی اور علامہ سیوطی نے اسے موضوع قرار دیا ہے (الفوائد المجموعۃ: ص ۱۰۰،الموضوعات:۲۰۵/۲،الآلی المصنوعۃ : ۱۱۴/۲)