تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label مشہور واقعات. Show all posts
Showing posts with label مشہور واقعات. Show all posts

Thursday, January 05, 2017

ایک نوجوان کا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا

ایک انصاری نوجوان کا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا


سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

"میں ایک انصاری نوجوان کی عیادت کیلئے گیا (لیکن وہاں جانے کے بعد) وہ جلد ہی فوت ہوگیا۔ ہم نے اس کی آنکھیں بند کیں اور اس پر چادر ڈال دی، ہم میں سے بعض نے اس کی ماں کو کہا: اس کے ثواب کی امید رکھ،ا س نے کہا: وہ فوت ہوگیا؟ ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: کیا تم صحیح کہہ رہے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں، اس نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے اور کہا: اے اللہ! بے شک میں تیرے ساتھ ایمان لائی اور تیرے رسول کی طرف ہجرت کی، پس جب مجھے کوئی مصیبت پہنچی اور مین نے تجھ سے دعا کی، تو نے اسے دور کردیا۔ میں تجھ سے سوال کرتی ہوں: اے اللہ! آج کے دن یہ مصیبت مجھ پر نہ ڈال۔ انھوں (انس رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: اس (میت) نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا ہم اس سے جدا نہیں ہوئے حتیٰ کہ ہم نے کھانا کھایا اور اس نے بھی ہمارے ساتھ کھانا کھایا۔"

(دلائل النبوۃ للبیهقي: ج۶ص۵۱، الکامل لابن عدي: ۹۵/۵، البدایة و النهایة: ۱۷۱/۶)


موضوع (من گھڑت): اس واقعہ کا مرکزی راوی صالح المری "منکر الحدیث" ہے۔

٭ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا: "وہ قصہ گو تھا قصے بیان کرتا تھا۔ وہ صاحب آثار و حدیث نہیں ہے اور نہ وہ حدیث کو پہچانتا۔" (الجرح والتعدیل:۳۹۶/۴ )

٭امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا: "ضعیف الحدیث" (الجرح والتعدیل:۳۹۶/۴ )

٭امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا: "منکر الحدیث" (الجعفاء الصغیر: ۱۶۹)

٭امام نسائی رحمہ اللہ نے کہا: "متروک الحدیث" (الضعفاء والمتروکون: ۳۲۱)

٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہا: "ضعیف" (التقریب: ۲۸۴۵)

٭ اس کے علاوہ بھی علماء نے اس پر جرح کی ہے۔ دیکھئے الکامل لابن عدي وغیرہ

تنبیہ: ان تمام علماء کے مقابلے مین صرف امام ابن شاہین رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں کہا: لیس به بأس۔ (أسماء الثقات: ۶۰۲)

لیکن جمہور علماء کے مقابلے میں ہونے کی وجہ سے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ لہٰذا یہ سارا واقعہ من گھڑت ہے جو لائق التفات نہیں۔




Monday, March 02, 2015

٭ درود کی برکت سے آدمی کی ماں کی سڑی ہوئی لاش دوبارہ صحیح سالم ہوگئی


ایک مشہور اصلاحی واقعہ
درود کی برکت سے آدمی کی ماں کی سڑی ہوئی لاش دوبارہ صحیح سالم ہوگئی

حافظ ابو نعیم رحمۃ اللہ علیہ، حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ :
"میں ایک دفعہ باہر جارہا تھا۔ میں نے ایک جوان کو دیکھا کہ جب وہ قدم اٹھاتا ہے یا رکھتا ہے تو یوں کہتا ہے: اللھم صل علیٰ محمد و علیٰ اٰل محمد، میں نے  اس سے پوچھا کیا کسی علمی دلیل سے تیرا یہ عمل ہے؟ (یا محض اپنی رائے سے)۔ اس نے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے کہا سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ۔ ۔ ۔ میں نے پوچھا یہ درُود کیا چیز ہے؟ اس نے کہا، میں اپنی ماں کے ساتھ حج کو گیا تھا۔ میری ماں وہیں رہ گئی (یعنی مر گئی) اس کا منہ کالا ہوگیا اور اس کا پیٹ پھول گیا جس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ کوئی بہت بڑا سخت گناہ ہوا ہے۔ اس سے میں نے اللہ جل شانہ، کی طرف دُعا کیلئے ہاتھ اُٹھائے تو میں نے دیکھا کہ تہامہ (حجاز) سے ایک ابر آیا اس سے ایک آد می ظاہر ہوا۔ اس نے اپنا مبارک  ہاتھ میری ماں کے منہ پر پھیرا جس سے وہ بالکل روشن ہوگیا اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا تو ورم بالکل جاتا رہا۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کون ہیں کہ میری اور میری ماں کی مصیبت کو آپ نے دور کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تیرا نبی محمد ﷺ ہوں میں نے عرض کیا مجھے کوئی وصیت کیجئے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی قدم رکھا کرے یا اُٹھا یاکرے تو اللھم صل علیٰ محمد و علیٰ اٰل محمد.پڑھا کر۔”
(فضائل درود ص ۱۲۲۔۱۲۳، بحوالہ نزہتہ المجالس)

موضوع (من گھڑت): یہ بالکل جھوٹی حکایت ہے:
۱: اس حکایت سے مراد چاہے خواب ہو یا عالمِ بیداری کا واقعہ جس میں نبی ﷺ کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپ نے غیر عورت کے چہرے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ اتنے شرم و حیاء والے تھے کہ آپ نے اپنی ساری زندگی میں کسی غیر عورت سے ہاتھ تک نہیں ملایا تھا۔
۲: یہ حکایت نزہۃ مجالس نامی کتاب میں نہیں ملی ۔ اور اگر اس کتاب میں مل بھی جائے تو بھی باطل ہے۔ کیونکہ:
٭عبد الرحمٰن صفوری (متوفی ۸۹۴ھ) کی (بے سند روایات والی) کتاب: "نزہۃ المجالس و منتخب النفائس" ناقابلِ اعتماد کتاب ہے۔
٭برہان الدین محدث دمشق نے اس کتاب کو پڑنے سے منع کیا اور جلال الدین سیوطی نے اس کے مطالعے کو حرام قرار دیا۔ دیکھئے کتاب: کتب حذر منھا العلماء (ج۲ص۱۹)
تنبیہ: اس قسم کا ایک ضعیف و مردود واقعہ ایک "مرد میت" کے بارے میں ابن ابی الدنیا کی کتاب المنامات (ح۱۱۸) میں لکھا ہوا ہے لیکن غیر عورت کے بارے میں اس طرح کا کوئی واقعہ کہیں بھی نہیں ملا اور نہ ابو نعیم کی کسی کتاب میں اس کا کوئی نام و نشان ہے۔

Wednesday, February 18, 2015

٭ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زہر دیا


سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زہر دیا
 
ہیثم بن عدی نے کہا ہے کہ:
دسّ معاویة إلی ابنه سھیل بن عمرۃ امرأۃ الحسن مأۃ ألف دینار علی أن تسقیه شربه بعث بھا إلیھا ففعلت
"معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے سیدنا حسن( رضی اللہ عنہ) کی بیوی سہیل بنتِ عمرہ کو ایک ہزار دینار کے عوض سیدنا حسن (رضی اللہ عنہ) کو زہر پلانے پر اُکسایا۔ اس نے زہر اس کے پاس بھیجی تو اس نے ایسا کردیا۔"
 (انساب الاشراف لاحمد بن یحیی البلاذری: ۵۹/۳)

موضوع (من گھڑت):  یہ روایت موضوع (جھوٹ کا پلندا) ہے۔
۱: اس کا راوی ہیثم بن عدی بالاتفاق "کذاب" اور "متروک الحدیث" ہے۔
 ٭امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: "یہ ثقہ نہیں تھا۔ جھوٹ بولتا تھا۔" (تاریخ یحییٰ بن معین: ۱۷۶۸)
٭امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ متروک الحدیث راوی ہے۔ اس کا درجہ واقدی (کذاب راوی) والا درجہ ہے۔" (الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم:۸۵/۹)
٭امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ متروک الحدیث راوی ہے۔" (الضعفاء و المتروکون للنسائی: ۶۳۷)
٭امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ کچھ بھی نہیں تھا۔" (تاریخ ابی زرعۃ: ۴۳۱/۳)
٭امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "محدثین نے اس کی روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔" (کتاب الضعفاء للبخاری: ۳۹۹)
اس کے علاوہ اس پر بہت سی جروح ہیں۔ ایک بھی توثیق ثابت نہیں۔

Wednesday, February 04, 2015

٭ سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے دخول جنت کی کیفیت


سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے دخول جنت کی کیفیت 
 
بینما عائشة في بیتھا إذ سمعت صوتاً فی المدینة فقالت: ماھذا؟ قالوا: عیر لعبدالرحمن بن عوف قدمت الشام تحمل من کل شيء‎، قال: فکانت سبع مائة بعیر، فارتجت المدینة من الصوت فقالت عائشة : سمعت رسول اللہ ﷺ یقول: قد رأیت عبد الرحمن بن عوف یدخل الجنة حبوأ، فبلغ ذلک عبد لارحمن فقال: ان استطعت لأدخلنّھا قائماً،  فجعلھا بأقتابھا وأحمالھا في سبیل اللہ عزوجل.
” سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر میں تشریف فرما تھیں کہ اس دوران انہوں نے مدینہ میں ایک آواز سنی، فرمایا: یہ کیا ہے؟ تو انہیں بتلایا گیا کہ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا قافلہ ہے جو ملک شام سے لوٹا ہے، جس میں سات سو اونٹ تھے، جو بہت سی چیزوں سے لدھے ہوئے تھے۔ (اس کی) آواز سے مدینہ لرز اٹھا، پس عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے  رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ:  میں عبد الرحمٰن بن عوف کو جنت میں داخل ہوتے ہوئے اس حال میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ سرین کے بل گھسٹے ہوئے داخل ہورہے ہیں۔ پس یہ (خبر) سیدناعبد الرحمٰن بن عوف تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: اگر میرے لئے ممکن ہوا تو میں ضرور کھڑا  ہوکر جنت میں داخل ہوں گا، پس آپ نے وہ سارے (اونٹ) ان کے پالان، ان کے لدان (یعنی تمام ساز وسامان) سمیت اللہ کی راہ میں خرچ کردیا۔“
 (مسند احمد: ج ۶ص۱۱۵ح۲۵۳۵۳، ۲۴۸۴۲،المعجم الکبیر: ج۱ص۱۲۹ح۲۶۴، معرفة الصحابة:ج۱ص۳۱)
موضوع (من گھڑت): یہ منکر اور جھوٹا قصہ ہے۔
۱:اس  کی سند میں "عمارہ بن زاذان" راوی ہے۔
٭اس سے متعلق امام احمد  رحمہ اللہ نے فرمایا:" منکر حدیثیں روایت کرتا ہے۔"، ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے فرمایا:"اس سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔"، امام دارقطنی رحمہ اللہ نے فرمایا: "ضعیف ہے۔"، امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا:" اکثر اوقات یہ اپنی حدیث میں مضطرب ہوتا ہے۔" اور حافظ الساجی رحمہ اللہ نے فرمایا: "اس میں ضعف ہے، یہ کچھ نہیں اور نہ ہی حدیث میں قوی ہے۔"
دیکھئے: تہذیب التہذیب (ج۷ص۳۶۵) ابن الجوزی کی الضعفاء (ج۲ص۲۰۳)، عقیلی کی الضعفاء الکبیر (ج۳ص۳۱۵) اور ابن عبد الہادی کی بحر الدم (ص۳۱۰)
٭ابو حاتم الرازی نے کہا عمارہ سے حجت نہیں لی جاتی اور اس روایت کو الجراح بن منہال نے اپنی سند سے عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "اے ابن عوف ! بے شک تم مالدار لوگوں میں سے ہو، تم جنت میں داخل نہیں ہوگے مگر سرین کے بل سرکتے ہوئے، تم اپنے رب کو قرض دو وہ تمہارے دونوں قدموں کو آزاد کردے گا۔"
٭امام نسائی رحمہ اللہ نے کہا: یہ حدیث گھڑی ہوئی ہے اور  "الجراح" (راوی) متروک الحدیث ہے، یحییٰ بن معین رحمہ اللہ  نے فرمایا: "جراح" کی حدیث کچھ نہیں۔، ابن المدینی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کی حدیث لکھی نہ جائے۔، ابن حبان رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ جھوٹ بولتاتھا۔،  دارقطنی  رحمہ اللہ نے فرمایا: ابن اسحاق نے اس سے روایت کی اور (تدلیس کرتے ہوئے) اس کے نام کوالٹ  پلٹ دیا اور کہا:  منہال بن الجراح (جب کہ فی الحقیقت اس کا نام الجراح بن منہال  ہے) اور یہ متروک ہے۔
٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے القول المسدد (ص۲۸) میں فرمایا: جو کچھ میں سمجھتا ہوں، کلام میں وسعت کی گنجائش نہیں پس ہمارے لئے امام احمد کی یہ گواہی کافی ہے کہ یہ روایت جھوٹی ہے، اس کا اولین محمل یہ ہے کہ ہم کہیں کہ یہ ان احادیث میں سے ہے جن کے متعلق امام احمد نے فرمایا کہ یہ روایت لائق بیان  نہیں اور جھوٹی ہے۔
٭حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایہ والنہایہ (ج۷ص۱۶۴) میں فرمایا: عمارہ بن زاذان الصیدلانی نے اس (حدیث کو بیان) کرنے میں تفرد کیا ہے اور وہ ضعیف ہے۔
[یہ تحقیق  کمی و بیشی کے ساتھ شیخ ابو عبد الرحمن الفوزی کی کتاب "مشہور  واقعات کی حقیقت"  سے لی گئی ہے ]

Tuesday, December 30, 2014

٭ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر بہتانِ عظیم


سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر بہتانِ عظیم
 
 ابوجعفرسے روایت ہے کہ:
"سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان کی بیٹی کا رشتہ مانگا تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ چھوٹی ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ بڑی ہوگئی ہے ، پس آپ بار بار اس سلسلے میں گفتگو فرماتے تو علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ہم انہیں آپ کے پاس بھیج دیتے ہیں ۔          پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ان (علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی) کی پنڈلی پر سے کپڑا اٹھایا، تو اس نے کہا : کپڑا چھوڑ دیجئے اگر آپ امیر المؤمنین نہ ہوتے تو میں آپ کی آنکھیں پھوڑ ڈالتی۔“
(سنن سعید بن منصور ج ۱ص ۱۴۷ ح ۵۲۱، مصنف عبدالرزاق ج ۶ ص ۱۶۳ ح ۱۰۳۵۲)
 
ضعیف: یہ روایت سعید بن منصور (سنن سعید بن منصور ج ۱ص ۱۴۷ ح ۵۲۱) او رعبدالرزاق (مصنف عبدالرزاق ج ۶ ص ۱۶۳ ح ۱۰۳۵۲) نے "سفیان عن عمرو بن دینار عن أبي جعفر قال" کی سند سے بیان کی ہے ۔اس کی سند انقطاع (منقطع ہونے) کی وجہ سے ضعیف ہے ، کیونکہ:
 ٭ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب کی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ۔ حوالے کے لئے دیکھئے ابن ابی حاتم کی المراسیل (۱۴۹)
٭امام عبدالرزاق نے المصنف (ج۶ ص۱۶۳ ح ۱۰۳۵۳) میں "ابن جریج قال: سمعت الأعمش یقول:" کی سند سے یہ قصہ بیان کیا ہے ۔اس کی سند بھی سابقہ سند کی طرح ضعیف ہے اس لئے کہ: سلیما ن بن مہران الاسدی کی سیدنا عمررضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ۔
 
فائدہ:سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر غیور صحابی قطعاً ایسا نہیں کرسکتے اور معلوم نہیں کہ ابوجعفر نے کس سے یہ بات سنی تھی؟
          باقی یہ بات درست ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ اُم کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ کا رشتہ مانگا اور علی رضی اللہ عنہ نے اسے قبول بھی فرمایا اور اپنی لختِ جگر کا نکاح امیر المؤمنین عمررضی اللہ عنہ سے کردیا جیساکہ بالاتفاق مروی ہے ۔

Friday, December 05, 2014

٭ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ۵۰۰ احادیث کا صحیفہ جلادیا


Weak and Fabricated Hadiths, Zaeef Hadees, Usool e hadith, Munkreen e Hadees, Inkaar e Hadees

 
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ:
جمع أبي الحديث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فكانت خمسمائة حديث فبات ليلة يتقلب كثيرا قالت : فغمني فقلت تتقلب لشكوى أو لشيء بلغك ؟ فلما أصبح قال : أي بنية هلمي الأحاديث التي عندك فجئته بها فدعا بنار فأحرقها وقال : خشيت أن أموت وهي عندك فيكون فيها أحاديث عن رجل ائتمنه ووثقت به ولم يكن كما حدثني فأكون قد تقلدت ذلك
"میرے  والدماجد  رضی اللہ عنہ نے رسول کریم ﷺ سے احادیث جمع کی تھیں ان کی تعداد  پانچ سو (۵۰۰)  تک پہنچتی تھی۔ ایک رات(میرے والد نے) کروٹیں لیتے لیتے گزاردی، میں رنجیدہ ہوئی اور عرض کی: آپ کروٹیں لے رہے ہیں کوئی تکلیف تو نہیں یا پھر کیا وجہ ہے؟ صبح ہوئی فرمایا: اے بیٹی! احادیث کا وہ مجموعہ لاؤ جو تمہارے پاس ہے ،میں مجموعہ لائی پھر آپ رضی اللہ عنہ نے آگ منگوائی اور وہ مجموعہ جلادیا اور فرمایا مجھے خوف ہے کہ میں مرجاؤں اور یہ مجموعہ تمہارے پاس ہی رہ جائےاور اس میں وہ وہ حدیثیں بھی ہوں جن کے راوی پر میں نے بھروسہ اور اعتماد کرلیا ہو اوربات حقیقت میں یوں نہ ہو جیسے اس نے مجھے بیان کی تھی اور یوں غلط بات میں میری تقلید کی جائے"
(تذکرۃ الحفاظ ج ۱ص۵)
 
ضعیف: روایت مذکورہ کو حافظ ذہبی نے حاکم کے حوالے  سے درج ذیل سند کے ساتھ نقل کیا ہے:"حدثني بکر بن محمد الصیرفي بمرو: أنا محمد بن موسی البربري،  أنا مفضل بن غسان، أنا علي بن صالح ، أنا موسی بن عبد اللہ بن حسنبن حسن عن أبراھیم بن عمر بن عبید اللہ التیمی: حدثني القاسم بن محمد قالت عائشة۔۔۔۔"
۱: اس کا راوی محمد بن موسیٰ بن حماد البربری مشہور اخباری علامہ تھا، لیکن روایت میں اُس کا ثقہ ہونا ثابت نہیں بلکہ:
٭امام دارقطنی نے فرمایا: "لیس بالقوي" وہ القوی نہیں ہے۔ (سوالات الحاکم للدارقطنی:۲۲۱)
۲: دوسرے راوی علی بن صالح کے بارے میں:
٭حافظ ابن کثیر نے مسندا لصدیق میں فرمایا: "وعلي بن صالح لا یعرف" اور علی بن صالح پہچانا نہیں جاتا، یعنی معروف نہیں ہے۔ (کنز العمال: ۲۹۴۶۰)
٭حافظ ابن حجر العسقلانی نے علی بن صالح المدنی کے بارے میں فرمایا: "مستور" یعنی مجہول الحال ہے۔ (تقریب التہذیب: ۴۷۵۲)
۳:اس کے تیسرے راوی موسیٰ بن عبد اللہ بن حسن بن حسن العلوی کو امام یحییٰ بن معین نے ثقہ کہا، لیکن امام بخاری، امام عقیلی اور ذہبی رحمہم اللہ نے مجروح قرار دیا، یعنی وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
۴:اس کا چوتھا راوی ابراہیم بن عمر بن عبید اللہ التیمی ہے جس کی توثیق نامعلوم ہے۔
٭حافظ ابن کثیر نے حاکم نیشاپوری کی اس روایت کو "ھذا غریب من ھذا الوجه جداً" یہ اس کی سند سے بہت زیادہ غریب ہے، قرار دیا۔ (کنز العمال: ۲۸۶/۱۰ح۲۹۴۶۰)
٭حافظ ابن کثیر نے ایک دوسری سند ذکر کی ہے، جس میں احوص بن مفضل بن غسان نے (موسیٰ بن حماد) البربری کی ایسی مخالفت کی ہے کہ اس سند کا متصل ہونا مشکوک ہوجاتا ہے۔ (دیکھئے کنز العمال: ۲۸۵/۱۰)
الحاصل: معلوم ہوا کہ یہ روایت ظلمات کا پلندا ہونے کی وجہ سے باطل و مردود ہے۔

Wednesday, December 03, 2014

٭ ہر بات کا جواب قرآنی آیات سے دینے والی عورت کا قصہ


ہر بات کا جواب قرآنی آیات سے دینے والی عورت کا قصہ
 
سوال:   ’’ دعوت اہل حدیث‘‘ حیدر آباد کے ماہ دسمبر کے شمارے میں عبداللہ بن مبارک ( مشہور محدث) اور رابعہ بصری کے مابین طویل مکالمہ پر مبنی واقعہ شائع ہوا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رابعہ ، عبداللہ کے ہر سوال پر قرآنی جواب دیتیں ۔ مثلاً عبداللہ کے سوال" کہاں سے آئی ہو اور کہاں جا رہی ہو" کا جواب آیت" سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی ۔۔۔ "الآیۃ سے دیا۔ وغیرہ ۔
بعض واعظین مثلاً فتح دین چشتی ملتانی بریلوی نے رابعہ کی بجائے " مریم" نام ذکر کیا ہے ۔ یہ واقعہ کسی مفسر نے آیت" وما یلفظ من قول ۔۔۔"الآیہ کی تفسیر میں نقل کیا ہے یا فضائل قرآن پر مبنی یا اہل صفہ(صوفیاء) کے احوال پر مبنی کسی کتاب میں ہے ؟ واقعہ ہذا کی تحقیق و تخریج درکار ہے ۔
موضوع (من گھڑت): الجواب بعون الوھاب
قرآنی آیات پڑھنے والی عورت کا واقعہ معتبر سند کے ساتھ کسی کتا ب میں نہیں ملا۔ شہاب الدین محمد بن احمد الفتح الابشیھی (پیدائش۷۹۰ھ وفات ۸۵۰ھ) نے بغیر کسی سند اور بغیر حوالے کے یہ قصہ امام عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ (متوفی ۱۸۱ھ ) سے نقل کیاہے ۔ اس قصے میں عورت کا نام مذکور نہیں ہے ۔ دیکھئے المستطف فی کل فن مستظرف ( ج ۱ ص ۵۶، ۵۷ حکایۃ المتکلمۃ بالقرآن ، الباب الثامن فی الأجوبۃ المسلتۃ والمستحسنۃ )
یہ بلا سند حوالہ مردود اور موضوع کے حکم میں ہے ۔ یہاں بطورِ تنبیہ عرض ہے کہ کتاب " المتسرف " فضول ،بے اصل اور موضوع قصوں والی کتاب ہے لہذا س کتاب پر اعتماد کرنا غلط ہے ۔
اسے واقعے سے مشابہ ایک واقعہ حافظ ابن حبان البستی رحمہ اللہ ( متوفی ۳۵۴ھ ) کی کتاب" روضۃ العقلاء و ترھۃ الفضلاء " میں ( عبدالملک بن قریب ) الاصمعی ( البصری ، متوفی ۲۱۶ھ ) سے باسند مروی ہے ( ص ۴۹، ۵۰) اس قصے میں عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے بجائے الاصمعی رحمہ اللہ کو بطورِ صاحبِ قصہ کیا گیا ہے اور عورت کا نام مذکور نہیں ہے ۔
حافظ ابن حبان رحمہ اللہ نے اس قصے کی درج ذیل سند لکھی ہے ۔
"أنبأنا عمر و بن محمد الأنصاری : حدثنا الغلابي : حدثنا إبراھیم بن عمر و بن حبیب : حدثنا الأصمعی قال: بینا أنا أطواف بالبادیۃ إذا أنا بأعرابیۃ ۔۔ " إلخ ( روضۃ العقلاء ص ۴۹)
۱: عمرو بن محمد الانصاری اور ابراہیم بن عمر و بن حبیب کے حالات کسی کتاب میں نہیں ملے ۔
۲: ( محمد بن ذکریا بن دینار) الغلابی کے بارے میں :
 ٭ امام دار قطنی رحمہ اللہ ( متوفی ۳۸۵ھ ) فرماتے ہیں کہ:" یضع الحدیث"یہ حدیثیں گھڑتا تھا ( کتاب الضعفاء والمتروکین للدارقطنی : ۴۸۳، سوالات الحاکم للدارقطنی : ۲۰۶)
 ٭ ابن مندہ اور حافظ ذہبی نے الغلابی پر جرح کی ۔
 ٭ ان جارحین کے مقابلے میں حافظ ابن حبان نے الغلابی کو اپنی کتاب الثقات میں ذکر کر کے لکھا کہ:
" کان صاحب حکایات وأخبار ، یعتبر حدیثہ إذا روی عن الثقات لأنہ فی روایتہ عن الجاھیل بعض المناکیر"وہ حکایتیں اور قصے بیان کرتاتھا ۔ اگر وہ ثقہ راویوں سے روایت بیان کرے تو اس کا اعتبار ہوتا ہے کیونکہ مجہول لوگوں سے اس کی روایت میں بعض منکر روایتیں ہیں۔( الثقات ۹؍۱۵۴)
یہ توثیق یہاں جمہور کی جرح کے مقابلے میں ہونے کی وجہ سے مردود ہے ۔ دوسرے یہ کہ یہ روایت ابن حبان رحمہ اللہ کی شرط پر بھی منکر و غیر معتبر ہے کیونکہ الغلابی کے استاد ابراہیم بن عمرو بن حبیب کی توثیق کہیں نہیں ملتی یعنی یہ شخص مجہو ل ہے ۔
خلاصہ یہ کہ اصمعی سے منسوب روایت بھی موضوع ہے اور غالباًالغلابی کذاب کی یہی روایت الابشیھی وغیرہ قصہ گو وں کی اصل بنیاد ہے ۔
لطیفہ : اصمعی سے منسوب الغلابی ( کذاب ) کی روایت کے آخر میں لکھا ہوا ہے کہ اصمعی نے کہا:
" فعلمت أنھا شیعیۃ " پس مجھے معلوم ہو گیا کہ وہ عورت شیعہ تھی ۔ ( روضۃ العقلاء ص ۵۰)!
[ماہنامہ الحدیث،شمارہ نمبر 12،ص 12]