تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label وسیلے سے متعلق. Show all posts
Showing posts with label وسیلے سے متعلق. Show all posts

Wednesday, May 13, 2015

٭ حجر اسود نفع و نقصان دیتا ہے


 حجر اسود نفع و نقصان دیتا ہے

ایک روایت میں ہےکہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود سے یہ فرمایا:
إني أعلم أنک حجر، لا تضر  و لا تنفع.
”بلاشبہ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے۔ تو نہ نفع دیتا ہے نہ نقصان۔“
تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا:
بلیٰ، یا أمیر المومنین ، إنه یضر و ینفع.
” کیوں نہیں ، امیر المومنین ! یہ تو نفع و نقصان دیتا ہے۔“
(المستدرک علی الصحیحین للحاکم: ۴۵۷/۱، شعب الإیمان للبیهقي: ۳۷۴۹)


موضوع (من گھڑت): یہ جھوٹی روایت ہے۔
۱: اس کو گھڑنے کا  کارنامہ ابو ہارون عبدی نامی "متروک" و "کذاب" راوی نے سر انجام دیا ہے۔ اس کے بارے میں:
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: والأکثر علیٰ تضعیفهٖ أو ترکهٖ.
”اکثر محدثین نے اسے ضعیف یا متروک قرار دیا ہے۔“ (میزان الاعتدال: ۱۷۳/۳)
٭حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مضعف عند الأئمة.
”ائمہ محدثین کے ہاں یہ ضعیف قرار دیا گیا۔“ (تفسیر ابن کثیر: ۲۱/۳)

٭ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تدفین سے پہلے قبرنبوی سے اجازت لی گئی


 ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تدفین سے پہلے  قبرنبوی سے اجازت لی گئی

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے:
لما حضرت أبابکر الوفاۃ أقعدني عند رأسهٖ ، وقال لي : یا علي ، إذا أنا مت ؛ فغسلني بالکف الذي غسلت بهٖ رسول اللہ ﷺ، وحنطوني ، واذھبوا بی إلی البیت الذي فیه رسول اللہ ﷺ ، فاستأذنوا ، فإن رأیتم الباب قد یفتح ؛ فادخلوا بي ،وإلا فردوني إلیٰ مقابر المسلمین ، حتیٰ یحکم اللہ بین عبادہٖ، قال: فغسل و کفن ، وکنت أول من یأذن إلی الباب ، فقلت : یا رسول اللہ، ھذا أبوبکر مستأذن ، فرأیت الباب قدتفتح ، وسمعت قائلًا یقول: أدخلوا الحبیب إلیٰ حبیبهٖ ، فإن الحبیب إلیٰ الحبیب مشتاق.
" جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا ، تو انہوں نے مجھے اپنے سر کی جانب بٹھایا۔ فرمایا: علی(رضی اللہ عنہ)! جب میں فوت ہوجاؤں، تو مجھے اس ہتھیلی سے غسل دینا، جس سے آپ نے رسول اللہ ﷺ کو غسل دیا تھا۔ پھر مجھے خوشبو لگا کر اس گھر کی طرف لے جانا، جہاں رسول اللہ ﷺ آرام فرمارہے ہیں۔ جاکر اجازت طلب کرنا۔ اگر آپ دیکھیں کہ دروازہ کھل رہا ہے، تو مجھے اندر لے جانا، ورنہ مجھے عام مسلمانوں کے قبرستان میں لے جانا، یہاں تک کے اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:انہیں غسل و کفن دیا گیا، سب سے پہلے میں نے دروازے کے پاس جاکر اجازت طلب کرتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ ! یہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، جو آپ سے اجازت  طلب کرتے ہیں۔ اسی دوران میں نے دیکھا کہ دروازہ کھلنا شروع ہوگیا۔ میں نے سنا، کوئی کہہ رہا تھا: دوست کو دوست کے پاس لے چلو، کیونکہ محبوب اپنے حبیب کی چاہت رکھتا ہے۔"


موضوع (من گھڑت): یہ جھوٹی اور باطل روایت ہے، کیونکہ اسے ذکر کرنے کے بعد:
٭حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ خود فرماتے ہیں: ھذا منکر ، وروایه أبو الطاهر موسی بن محمد بن عطاء المقدسی و عبد الجلیل مجهول.
"یہ جھوٹی روایت ہے، اس کے راوی ابو طاہر موسیٰ بن محمد بن عطا مقدسی اور عبد الجلیل دونوں مجہول ہیں۔"
٭حافظ سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: وفي إسنادہٖ أبو الطاهر موسی بن محمد بن عطاء المقدسي کذاب، عن عبد الجلیل المري، وھو مجهول.
"اس روایت کی سند میں ابو طاہر موسیٰ بن محمد بن عطا مقدسی جھوٹا، عبد الجلیل مجہول سے بیان کرتا ہے۔" (الخصائص الکبریٰ: ۴۹۲/۲)
٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: وأبو طاھر، ھو موسی بن محمد بن عطاء، کذاب ، وعبد الجلیل مجهول.
"ابو طاہر موسی بن محمد بن عطا جھوٹا، عبد الجلیل مجہول ہے۔" (لسان المیزان: ۳۹۱/۳)
٭نیز اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں:  خبرٌ باطلٌ.
"یہ روایت باطل ہے۔" (لسان المیزان: ۳۹۱/۳)
٭حافظ خطیب بغدادی رحمہ اللہ کہتے ہیں: غریب جدًا
"یہ روایت انتہائی کمزور ہے۔" (الخصائص الکبریٰ للسیوطي: ۴۹۲/۲)

Saturday, March 28, 2015

٭ سیدنا زکریا علیہ السلام کا درخت سے پناہ مانگنا


سیدنا زکریا   کا درخت سے پناہ مانگنا
 
معراج کے بارے میں ایک لمبی چوڑی روایت میں سیدنا ذکریا  کا رسول اللہ ﷺ سے یہ مکالمہ مروی ہے کہ:
 قالت بنو إسرائیل: قد غضب إلٰهُ زکریا، فتعالوا حتی نغضب لملکنا، فنقتل زکریا، قال: فخرجوا في طلبي لیقتلوني، فجائني النذیر، فھربت منھم، وإبلیس أمامھم، یدلھم علي، فلما أن تخوفت أن لا أعجزھم، عرضت لي شجرۃ، فنادتني، فقالت: إلي، وانصدعت لي، فدخلت فیھا، قال: وجاء إبلیس حتی إخذ طرف ردائي، والتأمت الشجرۃ، و بقي طرف رادئي خارجا من الشجرۃ، وجائت بنو إسرائیل، فقال إبلیس : أما رأیتموہ دخل ھٰذہ الشجرۃ، ھٰذا طرف ردائهٖ، دخلھا بسحرہٖ، فقالوا : نحرق ھٰذہ الشجرۃ، فقال   إبلیس : شقوھا بالمشار شقا، قال : فشققت مع الشجرۃ بالمنشار، فقال له النبيﷺ : <<یا زکریا! ھل وجدت له مسا أو وجعا؟>> قال: لا، إنما وجدت ذٰلک الشجرۃ جعل اللہ روحي فیھا.قحط المدینة قحطا شدیدا، فشکوا الی عائشة رضی اللہ عنها فقالت: انظروا قبر النبي ﷺ فاجعلوا منه کوی الی السماء، حتی لا یکون بینه و بین السماء سقف، ففعلوا، فمطروا مطرا حتی نبت العشب، وسمنت الابل، حتی تفتقت من الشحم، فسمی عام الفتق
"بنی اسرائیل نے کہا کہ زکریا کا الٰہ اس سے ناراض  ہوگیا ہے، آؤ ہم اپنے بادشاہ کی خاطر زکریا سے  ناراض ہوجائیں اور اسے قتل کردیں۔ وہ مجھے قتل کرنے کیلئے تلاش کرنے لگے۔ ایک شخص نے مجھے  اس بات کی اطلاع دی تو میں بھاگ نکلا۔ ابلیس ان لوگوں کے آگے آگے تھا اور میرے بارے میں ان کو بتا رہا تھا۔ جب مجھے خوف ہوا کہ میں مزید نہیں بھاگ پاؤں گا تو ایک درخت میرے سامنے آکر کہنے لگا : میرے پاس آجاؤ۔ یہ کہہ کر اس کا تنا پھیل گیا۔ میں اس میں داخل ہونے لگا۔ اتنی دیر میں ابلیس نے آکر میری چادر کا ایک کونہ پکڑلیا۔ اسی دوران درخت کا تنا لپٹ گیا اور میری چادر کا کونہ درخت سے باہر ہی رہ گیا۔ جب بنی اسرائیل آئے تو ابلیس ان سے کہنے لگا : کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ زکریا اپنے جادو کے ذریعے اس درخت میں داخل ہوگیا ہے۔ یہ رہا اس کی چادر کا کونہ! بنی اسرائیل کہنے لگے کہ ہم اس درخت کو جلائیں گے۔ ابلیس نے کہا: اسے آرے سے چیر دو۔ یوں آرے سے مجھے درخت کے ساتھ ہی چیر دیا گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے سیدنا زکریا  سے پوچھا : کیا اس سے آپ کو کوئی گزند یا تکلیف پہنچی؟  سیدنا زکریا  نے فرمایا: نہیں مجھے تو یوں لگا کہ میری روح اللہ تعالیٰ نے درخت ہی میں ڈال دی تھی۔"
 (تاریخ دمشق لابن عساکر: ۵۶/۱۹)

موضوع (من گھڑت):
 یہ جھوٹی روایت ہے؛
٭ اس کوگھڑنے کا سہرا اسحاق بن بشر بن محمد بن عبد اللہ، ابو حذیفہ، بخاری کے سر ہے، جو کہ "متروک" اور "کذاب" راوی ہے۔ (دیکھیں: میزان الاعتدال للذھبي: ۱۸۴/۱ ۔ ۱۸۶)
تنبیہ: سیدنا زکریا  سے منسوب اسی طرح کا واقعہ کچھ تابعین سے بھی بیان کیا گیا ہے، ان سے مروی روایات کا حال بھی ملاحظہ فرمائیں:
٭سعید بن مسیّب والی روایت (تاریخ دمشق: ۲۰۷/۶۴) میں علی بن زید بن جدعان راوی "ضعیف" ہے۔
٭وہب بن منبہ والی روایت (تاریخ دمشق: ۵۵/۱۹) میں عبد المنعم بن ادریس راوی موجود ہے جوکہ بااتفاقِ محدثین "متروک" اور "کذاب" ہے۔ نیز اس کا باپ ادریس بن سنان، ابو الیاس صنعانی بھی"ضعیف" ہے۔
٭اسی طرح محمد بن اسحاق بن یسار کی بیان کردہ روایت (تاریخ طبری: ۵۳۶/۱) محمد بن حمید رازی کے غیر معتبر ہونے کی وجہ سے" ضعیف" ہے۔
 معلوم ہوا کہ بعض الناس کا یہ مشہور کرنا کہ سیدنا زکریا  نے درخت سے پنا ہ مانگی تھی، سفید جھوٹ ہے۔

٭ قبر نبی ﷺ کا وسیلہ


نبی  ﷺ کی قبر  کی چھت میں سوراخ  کرنے سے مدینہ میں خوشحالی
(وسیلہ کی من گھڑت دلیل)
 
ابوا الجوزاء اوس بن عبد اللہ تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
قُحِطَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ قَحْطاً شَدِيداً ، فَشَكَوْا إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ : انْظُرُوا قَبْرَ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم فَاجْعَلُوا مِنْهُ كِوًى إِلَى السَّمَاءِ حَتَّى لاَ يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ . فَفَعَلُوا ، فَمُطِرْنَا مَطَراً حَتَّى نَبَتَ الْعُشْبُ وَسَمِنَتِ الإِبِلُ ، حَتَّى تَفَتَّقَتْ مِنَ الشَّحْمِ ، فَسُمِّىَ عَامَ الْفَتْقِ
"مدینہ والےشدید  قحط کا شکار ہوگئے تو انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا تو انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ کی قبر کی طرف دیکھو (جاؤ) اور اس میں سے آسمان کی طرف کچھ سوراخ بنادو حتیٰ کہ ان پر کوئی پردہ نہ ہو، انہوں نے ایسے ہی کیا تو ان پر خوب بارش ہوئی حتیٰ کہ گھاس اگ آئی اونٹ اس قدر فربہ ہوگئے کہ وہ چربی سے پھول گئے اور اس سال کا نام عام الفتق یعنی (خوشحالی کا سال) رکھا گیا۔"
(دارمی: ۴۳/۱ ۔ ۴۴ح۹۳)


ضعیف:  اس روایت کی سند ضعیف ہے کیونکہ:
۱:  اس کے راوی عمرو بن مالک النکری (ثقہ) کی حدیث ابو الجوزاء سے غیر محفوظ ہوئی ہے، یہ روایت بھی اسی سے ہے۔
٭حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: وقال ابن عدی (الکامل: ۴۱۱): حدّث عنه عمرو بن مالک قدر عشرۃ  أحادیث غیر محفوظة.
"امام ابن عدی نے فرمایا ہے کہ ابو الجوزاء سے عمرو بن مالک نے تقریباً دس غیر محفوظ احادیث بیان کی ہیں۔" (تھذیب التھذیب لابن حجر: ۳۳۶/۱)
یہ جرح مفسر ہے، یہ حدیث بھی عمرو بن مالک النکری نے اپنے استاد ابو الجوزاء سے روایت کی ہے ، لہٰذاغیر محفوظ ہے۔
٭امام ابن تیمیہ﷫نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا: ليس بصحيح، لا يثبت إسناده (الرد على البكري ۱۶۳/۱)
٭امام ناصر الدین الالبانی نے اس حدیث کے متعلق فرمایا: لا يصح ( أحکام الجنائز ۳۳۵)
تخریج مشکاة المصابيح ۵۸۹۴ میں فرمایا: إسناده ضعيف
التوسل صفحہ ۱۲۸ میں فرمایا: ضعیف الإسناد موقوف

Friday, December 12, 2014

٭ دیہاتی کا نبی کریم ﷺ کی قبر سے مخاطب ہونا

Daeef Hadiths, Zaeef Hadees, ضعیف حدیث، موضوع حدیث، سلسلة الأحادیث الضعیفة

دیہاتی کا نبی کریم ﷺ کی قبر سے مخاطب ہونا
 
ابو حرب بلا ل کہتے ہیں کہ :
”ایک دیہاتی نے فریضۂ حج ادا کیا، پھر وہ مسجد نبوی کے دروازے پر آیا، وہاں اپنی اونٹنی بٹھا کر اسے باندھنے کے بعد وہ مسجد میں داخل ہوگیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی قبر مبارک کے پاس آیا اور آپ کے پاؤں مبارک کے پاس کھڑا ہوگیا اور کہا، السّلام علیک یا رسول اللہ!، پھر ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کو سلام کیا، پھر آپ ﷺ کی قبر مبارک کی طرف بڑھا اور کہا: اے اللہ کے رسول !میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں گناہگار ہوں، اس لیے آیا ہوں تاکہ اللہ کے ہاں آپ کو وسیلہ بناسکوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے  اپنی کتاب قرآنِ مجید میں فرمایا: وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُ‌وا اللَّـهَ وَاسْتَغْفَرَ‌ لَهُمُ الرَّ‌سُولُ لَوَجَدُوا اللَّـهَ تَوَّابًا رَّ‌حِيمًا ﴿النساء: ۶۴﴾۔۔۔۔“
(شعب الایمان للبیھقی: ۴۹۵/۳، ح:۴۱۷۸، وفی نسخة: ۳۸۸۰)
موضوع (من گھڑت) : یہ من گھڑت روایت ہے کیونکہ:
۱: اس کی سند میں یزید بن ابان الرقاشی راوی ہے جوکہ جمہور کے نزدیک "ضعیف" ہے،
٭حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "ضعّفه الجمھور" اس کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔(مجمع الزوائد: ۱۰۵/۱۰)
٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے "ضعیف" قرار دیا ہے۔ (تقریب التھذیب: ۷۶۸۳)
۲:محمد بن روح بن یزید المصری کے حالات نہیں مل سکے۔
۳: ابو حرب بلال کا ترجمہ و توثیق بھی مطلوب ہے۔
۴: عمرو بن محمد بن الحسین کے حالات و توثیق درکار ہے۔
معلوم ہواکہ یہ "ضعیف" اور "مجہول" راویوں کی کارستانی ہے، جس سے دلیل لینا اہل حق کا وطیرہ نہیں۔
تنبیہ: تفسیر ابن کثیر میں سورۂ النساء آیت نمبر ۶۴ کی تفسیر میں موجود عتبی والا واقعہ بے سند  و مردود ہے۔

Monday, December 08, 2014

٭نبی ﷺ کے مقام و مرتبہ کا وسیلہ مانگنا


نبی ﷺ کے مقام و مرتبہ کا وسیلہ مانگنا
 
ایک روایت یوں بیان کی جاتی ہے:
تَوَسَّلُوا بِجَاھِي، فَإِنَّ جَاھِي عِندَ اللہِ عَظِیم
"تم میرے مقام و مرتبے کےوسیلے سے دعا کیا کرو، کیونکہ میرا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔"
ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں:
إِذَا سَأَلتُم ا للہَ فَاسئَلُو ہُ بِجَاھِي،  فَإِنَّ جَاھِي عِندَ اللہِ عَظِیم
" جب تم اللہ سے دعا مانگو تو میری مقام و مرتبے کے وسیلے سے مانگا کرو، 
کیونکہ میرا مقام و مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بلند ہے۔"
موضوع (من گھڑت) : یہ روایت بے اصل و بے ثبوت ہے۔ اس کے بارے میں:
٭ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "بعض جاہل لوگ نبی اکرم ﷺ سے منسوب یہ روایت بیان کرتے ہیں:"جب تم اللہ سے دعا مانگو تو میری مقام و مرتبے کے وسیلے سے  مانگا کرو، کیونکہ میرا مقام و مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بلند ہے۔" یہ روایت جھوٹی ہے۔ مسلمانوں کسی ایسی کتاب میں اس کاوجود نہیں جس پر محدثین کرام اعتماد کرتے تھے۔ محدثین  میں سے کسی ایک نے بھی اس کا ذکر نہیں کیا۔ یہ بات تو برحق ہے کہ آپﷺ کا مقام و مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاء ورسل سے بڑھ کر تھا(لیکن اس مقام و مرتبے کو وسیلہ بنانا  شریعتِ اسلامیہ میں مشروع نہیں)۔" (قاعدۃ جلیلة في التوسل والوسیلة: ص۲۵۲)
٭ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس کی کوئی اصل نہیں۔" (
سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة: ۲۲ )
٭علامہ محمد بشیر شہسوانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اسے کسی اہل علم نے روایت نہیں کیا، نہ ہی کتبِ حدیث میں سے کسی کتاب میں اس کا وجود ملتا ہے۔" (صیانة الإنسان عن وسوسة الشیخ دحلان: ص۱۸۸، ۱۸۹)