تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Showing posts with label فضائل صحابہ. Show all posts
Showing posts with label فضائل صحابہ. Show all posts

Monday, November 10, 2014

٭ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک جھوٹ

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک جھوٹ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک روایت میں ہے کہ:
جب رسول اللہ ﷺ کو غسل دیا گیا تو پانی آپ کی آنکھوں کے گڑھوں پر بلند ہوگیا۔ حضرت علیؓ نے اسے پی لیا تو انہیں اولین اور آخرین کا علم دے دیا گیا
(مدارج النبوۃ:جلد دوم ص ۵۹۶، اردو مترجم ، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ، ۴۰اردو بازار لاہور)
موضوع (من گھڑت): یہ روایت بے سند و بے اصل ہے ۔ اسے عبدالحق دہلوی نے اپنی کتاب "مدارج النبوۃ" میں" روایت کیا گیا ہے کہ " کے الفاظ سے بے سند و بے حوالہ لکھا ہے۔
    ٭ مشہور صوفی احمد بن محمد القسطلانی (متوفی۹۲۳؁ھ) لکھتے ہیں کہ:
"وذکر ابن الجوزی أنہ روی عن جعفر بن محمد قال: کان الماء یستنقع فی جفون النبی ﷺ فکان علي یحسوہ، وأما ماروي أن علیاً لما غسلہ ﷺ امتص ماء محاجر عینیہ فشربہ وأنہ قدورث بذلک علم الأولین والآخرین، 
فقال النووي: لیس بصحیح"
    ابن جوزی نے ذکر کیا ہے کہ جعفر بن محمد سے روایت کی گئی ہے کہ: نبی ﷺ کی پلکوں پر پانی جمع ہوجاتا تھا تو علی رضی اللہ عنہ اسے پی لیتے تھے۔ اور جو یہ روایت کی گئی ہے کہ جب علیؓ نے آپﷺ کو غسل دیا تو آپ کی پلکوں کا پانی چوس کر پی لیا ۔ اس وجہ سے انہیں اولین و آخرین کا علم دیا گیا، پس نووی نے کہا : یہ صحیح نہیں ہے۔
 (المواھب اللدنیۃبالمنح المحمدیۃ ج۳ ص ۳۹۶)
یہ دونوں روایتیں بالکل بے اصل اور من گھڑت ہیں۔ جعفر بن محمدالصادقؒ سے منسوب روایت کہیں بھی باسند نہیں ملی۔ جو لوگ رسول اللہﷺ پر جھوٹ بولنے سے نہیں شرماتے وہ جعفر صادق پر جھوٹ بولنے سے کسطرح  شرماسکتے ہیں۔ ابن جوزی کی اصل کتاب دیکھنی چاہئے تا کہ یہ معلوم ہو کہ ابن جوزی نے اگر یہ بے سند روایت بیان کی ہے تو اس پر کیا جرح کی ہے؟
خلاصہ التحقیق: یہ روایت موضوع، بے اصل و بے سند ہے۔

Thursday, May 22, 2014

٭ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قلعہ خیبر کا دروازہ اٹھا کر پھینکا


حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قلعہ خیبر کا دروازہ  اٹھا کر پھینکا
امام جعفر صادق رحمہ اللہ سے منسوب ہے، وہ اپنے آبا سے بیان کرتے ہیں کہ امیر المومنین، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سہل بن حینف کو خط لکھا:
واللہ، ما قلعت باب خیبر، و رمیت بہ خلف ظھري أربعین ذراعا بقوۃ جسدیۃ ولا حرکۃ غذائیۃ، لٰکني أبدت بقوۃ ملکوتیۃ نفس بنور ربھا مضیۃ، و أنا من أحمد کالضوء من الضوء۔
"اللہ کی قسم! میں نے جو خیبر کے دروازے کو اکھیڑا اور اپنے پیچھے کی طرف چالیس گز کے فاصلے پر پھینک دیا، یہ نہ جسمانی قوت تھی اور نہ خوراک کی طاقت، بلکہ یہ ایک ملکوتی و نورانی قوت تھی، جو میرے رب نے مجھے عطا کی تھی۔ میری احمد ﷺ سے وہی نسبت ہے، جو روشنی کو روشنی سے ہوتی ہے۔" (بحار الأنور للمجلسی الرافضی:26/21)
موضوع (من گھڑت) : یہ جھوٹ کا پلندہ ہے، کیونکہ:
1: امام جعفر کے آبا نامعلوم و "مجہول" ہیں۔
2:محمد بن محصن اسدی عکاشی باتفاق محدثین غیر ثقہ، منکر الحدیث، متروک، کذاب اور وضاع ہے۔
3:یونس بن ظبیان کے حالات اہل سنت کی کتب سے نہیں مل سکے۔ اور کتبِ رجالِ شیعہ میں بھی اس پر جرح  موجود ہے۔
4:علی بن احمد بن موسیٰ بن عمران دقاق کی اہل سنت اور شیعہ کتبِ رجال میں کہیں بھی توثیق نہیں مل سکی۔
5: محمد بن ہارون مدنی بھی "مجہول" ہے۔
6:ابوبکرعبید اللہ بن موسیٰ خباز حبال طبری کی اہل سنت اور شیعہ کتبِ رجال میں توثیق مذکور نہیں، لہٰذا یہ "مجہول" ہے۔


٭مؤرّخِ دیار مصر، علامہ مقریزی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
"بعض محدثین تو کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قلعہ خیبر کا دروازہ اٹھانے کے واقعہ کی کوئی حقیقت ہی  نہیں۔" (إمتاع الأسماع:310/1)
٭علامہ سخاوی لکھتے ہیں:
"اس کے متعلق تمام روایات ضعیف ہیں اس لئے بعض علما نے اس واقعے کو منکر قرار دیا ہے۔" (المقاصد الحسنۃ:313)

اہل سنت کی کتب میں موجود روایات کی مختصر تحقیق:
روایت نمبر1:مسند الإ مام أحمد:8/6، دلائل النبوّۃ للبیھقی:212/4، سیرۃ ابن ھشام:349،350/6، تاریخ دمشق لابن عساکر:111/42
تحقیق: یہ سند ضعیف ہے، کیونکہ اس میں بَعضُ أَھلِہ "مبہم" اور "مجہول" لوگ ہیں۔ شریعت ہمیں نامعلوم افراد سے دین اخذ کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
٭دلائل النبوۃ کی سند میں عبد اللہ بن حسن کا واسطہ گرگیا ہے، اسی لئے حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
 "اس روایت میں جہالت اور واضح انقطاع موجود ہے۔" (البدایۃ و النھایۃ:191/4)
 
روایت نمبر 2: مصنف ابن أبی شیبۃ:84/12، تاریخ بغداد للخطیب:324/1، تاریخ دمشق لابن عساکر:111/42
تحقیق: اس کی سند "ضعیف " ہے، کیونکہ اس میں لیث بن ابی سلیم جمہور محدثین کے نزدیک "ضعیف" خراب حافظے والا موجود ہے۔
٭  حافظ عراقی، حافظ ہیثمی، حافظ ابن ملقن، حافظ نووی، حافظ بوصیری، علامہ سندھی، حافظ سیوطی رحمہم اللہ نے اسے جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف قرار دیا ہے۔
٭اسے امام یحییٰ بن معین، امام احمد بن حنبل، امام ابو زرعہ رازی، امام ابو حاتم رازی، امام عمرو بن علی فلاس، امام دارقطنی، امام نسائی، امام ابن عدی، امام ابن خزیمہ، امام ترمذی، امام ابن حبان، امام بزار، امام ابن سعد رحمہم اللہ اور جمہور محدثین  کرام نے "ضعیف"قرار دیا ہے۔
٭ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
"میرے علم کے مطابق کسی نے اس کے ثقہ ہونے کی صراحت نہیں کی۔" (زوائد مسند البزار:403/2)
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس روایت کو "منکر" قرار دیا ہے۔ (میزان الاعتدال:113/3)
٭حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"اس (روایت) میں بھی کمزوری ہے۔" (البدایۃ والنھایۃ: 191/4)
 
روایت نمبر3:دلائل النبوّۃ للبیھقی:212/4 ، المقاصد الحسنۃ للسخاوی:313
تحقیق: اس کی سند سخت ترین "ضعیف" ہے، کیونکہ اس کا راوی حرام بن عثمان سخت ترین"ضعیف" اور مجروح ہے۔
٭اسے امام یحییٰ بن معین، امام احمد بن حنبل، ، امام دارقطنی،امام ابن حبان، امام بخاری، امام یعقوب بن سفیان فسوی، امام ابن سعد اور علامہ جوزجانی رحمہم اللہ نے "ضعیف" کہا ہے۔
الحاصل: یہ واقعہ معتبر سندوں سے ثابت نہیں، فضیلت  وہی ہے جو قابل اعتبار سندوں سے ثابت ہو۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت و بسالت کا انکار کوئی کافر ہی کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہترین قوت بھی عطا فرمائی تھی۔ وہ بلاشبہ شیر خدا تھے۔
حقیقی ہیرو کو کسی جھوٹی فضیلت و منقبت کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن ہمیشہ سے لوگوں کا یہ چلن رہا ہے کہ وہ اپنی من پسند شخصیت کے بارے میں جھوٹی باتیں مشہور کردیتے ہیں،جو اکثر اوقات اس شخصیت کی سیرت کو نکھارنے کی بجائے لوگوں کے ذہنوں میں اس کا غلط تصور بٹھاتی ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ایک ایسی ہی بات  قلعہ خیبر کا دروازہ اکھاڑ پھینکنے والی روایت تھی، یہ واقعہ غیر ثابت اور غیر معتبر ہونے کے ساتھ ساتھ علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک مافوق الفطرت مخلوق ہونے کا تصور پیدا کرتا ہے۔
 

Tuesday, May 20, 2014

٭ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیئے سورج کی واپسی


سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیئے سورج کی واپسی

سیدہ اسماء بنت عمیس  رضی اللہ عنہا سے منسوب ہے:
کان رسول اللہ ﷺ یوحی إلیہ، و رأسہ فی حجر علي، فلم یصل العصر حتّٰی غربت الشمس، فقال رسول اللہﷺ: صلیت یا علیي؟، قال :لا، فقال رسول اللہ ﷺ: اللّٰھم، إنہ کان في طاعتک و طاعۃ رسولک، فاردد علیہ الشمس،
قالت أسماء: فرأیتھا غربت، ثم رأیتھا طلعت بعد ما غربت۔
"نبی کریم ﷺ پر وحی کا نزول ہورہا تھا اور آپ ﷺ کا سر مبارک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا۔ وہ عصر کی نماز نہ پڑھ سکے ، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔ آپ ﷺ نے دعا کی: اے اللہ! علی تیری اور تیرے رسول کی فرمانبرداری میں مشغول تھے، ان کے لئے سورج کو لوٹا دے۔ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے: میں نے سورج کو غروب ہوتے دیکھا، پھر سورج کے غروب ہوجانے کے بعد اسے طلوع ہوتے دیکھا۔"(السنۃ لابن أبي عاصم:1323، مختصراً، مشکل الأ ثار للطحاوی:9/2، المعجم الکبیر للطبرانی:147،152/24، تاریخ دمشق لابن عساکر: 314/42)
ضعیف: اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
٭ابراہیم بن حسن بن حسن بن ابی طالب کی صریح توثیق، زمانئہ تدوین حدیث میں سوائے حافظ ابن حبان کے کسی نے بھی نہیں کی اور مجہول و مستور کی توثیق میں ابن حبان متساہل تھے لہٰذا ابراہیم بن حسن مذکور مجہول الحال ہیں اور حافظ ذہبی نے انھیں ضعیف راویوں میں ذکر کیا ہے۔دیکھئے (دیوان الجعفاء و المتروکین:46/1ت169)
 ٭حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: فضیل بن مرزوق کا ابراہیم (بن حسن بن حسن) سے سماع معلوم نہیں، ابراہیم کا (اپنی ماں) فاطمہ سے اور فاطمہ کا اسماء (بنت عمیس رضی اللہ عنہا) سے سماع معلوم نہیں ہے۔ (منہاج السنہ:190/4)
اس روایت کے بارے میں جمہور ائمہ محدثین کے اقوال ملاحظہ ہوں:
٭ حافظ ابوبکر محمد بن حاتم بن زنجویہ بخاری رحمہ اللہ اپنی کتاب (إثبات إمامۃ الصدیق) میں فرماتے ہیں:
"یہ روایت سخت ضعیف اور بے اصل ہے- یہ روافض کی کارستانی ہے۔" (البدایۃ و النھایۃ لابن کثیر:87/6)
٭حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ امام ابن مدینی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ روایت بے اصل ہے۔ (البدایۃ والنھایۃ: 93/6)
٭حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"یہ حدیث منکر ہے، اس میں کئی ایک مجہول راوی ہیں۔" (تاریخ دمشق:314/42)
٭امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"اس روایت میں کمزوری ہے۔" (الضعفاء الکبیر:328/3)
٭حافظ جورقانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"یہ حدیث منکر اور مضطرب ہے۔" (الأباطیل والمناکیر و الصحاح و المشاھیر: 308/1)
٭حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اسے" موضوع" (من گھڑت) قرار دیا ہے۔ (الموضوعات:356/1)
٭ حافظ محمد بن ناصر بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"یہ حدیث من گھڑت ہے۔" (البدایۃ و النھایۃ لابن کثیر:87/6)
٭حافظ ذہبی فرماتے ہیں:
"یہ روایت جھوٹی ہے، صحیح نہیں۔" (تلخیص الموضوعات: 118)
٭شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اسے من گھڑت قرار دیا ہے۔ (منھاج السنۃ:185،195/4)
٭ محمد بن عبید طنافسی اور یعلیٰ بن عبید طنافسی رحمہما اللہ نے بھی اسے من گھڑت ہی قرار دیا ہے۔ (البدایۃ و النھایۃ لابن کثیر:93/6)
٭حافظ ابو الحجاج یوسف مزی رحمہ اللہ نے بھی اسے "موضوع" قرار دیا ہے۔ (البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر:93/6)
٭ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ نے بھی اسے جھوٹی روایتوں میں ذکر کیا ہے۔ (المنار المنیف:56/1)
٭حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"یہ روایت جمیع طرق کے ساتھ ضعیف و منکر ہے۔ اس کی کوئی ایک سند بھی شیعہ، مجہول الحال اور شیعہ و متروک راویوں سے خالی نہیں ہے۔" (البدایۃ والنھایۃ: 87/6)

Friday, May 16, 2014

٭ لعنتی عالم

بدعات کے ظہور اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخی کے وقت علم ظاہر نہ کرنے والے عالم لعنتی
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ:
إذا ظھر البدع فی أمتی (و شتم أصحابی) فلیظھر العالم علمہ فإن لم یفعل فعلیہ لعنۃ اللہ
جب میری امت میں بدعتیں ظاہر ہوجائیں اور میرے صحابہ کو گالیاں دی جائیں تو عالم کو اپنا علم ظاہر کرنا چاہئے، اگر  وہ ایسا نہ کرے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے۔
(مسند الفردوس للدیلمی:390/1 ح 1275)
بے   سند و بے اصل: یہ روایت بے سند و بے اصل ہے لہٰذا مردود و باطل ہے۔
 اس مفہوم کی تائید کرنے والی ایک ضعیف و مردود روایت تاریخ دمشق لابن عساکر (26/57)میں ہے۔ اس روایت میں محمد بن عبد الرحمٰن بن رمل الدمشقی مجہول الحال ہے، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو منکر قرار دیا ہے۔(السلسلۃ الضعیفۃ:14/4 ح 1506)
دیلمی نے اس کی ایک موضوع (من گھڑت) سند بھی بیان کر رکھی ہے۔ (ایضاً ص 15)

Tuesday, March 11, 2014

٭ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے سورج کی واپسی


اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:
رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل کی جا رہی تھی اور آپ ﷺ کا سر علی رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا، انہوں نے نماز عصر نہیں پڑھی ہوئی تھی حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا۔  آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟ تو انہوں نے نفی میں جواب دیا، اس پر آپ ﷺ نے  فرمایا :” اللھمّ إنہ کان فی طاعتک و طاعۃ رسولک فاردد علیہ الشمس“ اے اللہ! وہ تیری اطعت اور تیرے رسول کی اطعت میں تھا لہٰذا اس کے لئے سورج کو واپس بھیج دے۔
اسماء نے کہا: پس  میں نے اسے (سورج کو) دیکھا، غروب ہوا پھر دیکھا کہ غروب ہونے کے بعد (دوبارہ) طلوع ہوا- (مشکل الآثار للطحاوی طبعہ جدیدہ:92/3ح 1067 ، طبعہ قدیمہ : 8/2 ، المعجم الکبیر للطبرانی:147/24-152 ح 390 ، الاباطیل والمناکیر للجورقانی:158/1 ، الموضوعات لابن الجوزی:355/1)
ضعیف: اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
٭ابراہیم بن حسن بن حسن بن ابی طالب کی صریح توثیق، زمانئہ تدوین حدیث میں سوائے حافظ ابن حبان کے کسی نے بھی نہیں کی اور مجہول و مستور کی توثیق میں ابن حبان متساہل تھے لہٰذا ابراہیم بن حسن مذکور مجہول الحال ہیں اور حافظ ذہبی نے انھیں ضعیف راویوں میں ذکر کیا ہے۔دیکھئے (دیوان الجعفاء و المتروکین:46/1ت169)
 ٭حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: فضیل بن مرزوق کا ابراہیم (بن حسن بن حسن) سے سماع معلوم نہیں، ابراہیم کا (اپنی ماں) فاطمہ سے اور فاطمہ کا اسماء (بنت عمیس رضی اللہ عنہا) سے سماع معلوم نہیں ہے۔ (منہاج السنہ:190/4)
تنبیہ: شرح مشکل الآثار (94/3 ح 1068 ، دوسرا نسخہ:9/2 )، المعجم الکبیر للطبرانی(145/24 ح382) میں یہ روایت " عون بن محمد عن أمہ أم جعفر عن أسماء بنت قیس رضی اللہ عنہا" کی  سند  سے موجود ہے۔  یہ  سند بھی  ضعیف ہے۔
٭ عون بن محمد اور ام جعفر (ام عون بنت محمد بن جعفر) دونوں کی توثیق نامعلوم ہے یعنی دونوں مجہول الحال تھے۔
حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: عون اور اس کی ماں (ام جعفر ) کی عدالت اور حفظ معلوم نہیں ہے۔ (منہاج السنہ ج 4 ص 189)
٭ ام جعفر کا اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے سماع بھی نامعلوم ہے۔ (ایضاً 189)
خلاصۃ التحقیق: سیدنا امیر المومنین علی رضی اللہ عنہا کے لئے سورج کی واپسی والی روایت اپنی دونوں سندوں کے ساتھ ضعیف یعنی مردود ہے۔
اس مردود روایت کی مفصل تحقیق کے لئے دیکھئے منہاج السنہ (185/4-195)