تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Monday, April 27, 2015

٭ کشتی نوح میں رجب کے روزے کی بہار


اس روایت کو ٹیکسٹ ورژن میں پڑھئیے >> کشتی نوح میں رجب کے روزے کی بہار - فضائل رجب  

Tags: مشہور ضعیف اور موضوع (من گھڑت) احادیث،  رجب المرجب کے فضائل، کشتی نوح میں رجب کے روزے کی بہار ، رجب سے متعلق ضعیف اور من گھڑت روایات،  تحقیق حدیث، Zaeef HadeesDaeef Hadiths, Zaeef Hadith, Weak and Fabricated Hadiths, False Hadiths, سلسلة الأحادیث الضعیفة، محدث البانی رحمه اللہ، محدث شیخ زبیر علی زئی رحمه اللہ۔ www.zaeefhadith.com

www.zaeefhadith.com

٭ محمد اور احمد نام والے دوزخ میں نہیں جائیں گے


محمد اور احمد نام والے  دوزخ میں نہیں جائیں گے

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
 يُوقَفُ عَبْدَانِ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ فَيَأْمُرُ بِهِمَا إِلَى الْجَنَّةِ ، فَيَقُولانِ : رَبَّنَا بِمَ اسْتَأْهَلْنَا دُخُولَ الْجَنَّةِ ، وَلَمْ نَعْمَلْ عَمَلًا تُجَازِينَا بِهِ الْجَنَّةَ ؟ فَيَقُولُ اللَّهُ : أَدْخِلا عَبْدَيَّ ، فَإِنِّي آلَيْتُ عَلَى نَفْسِي ، أَلَّا يَدْخُلَ النَّارَ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ وَمُحَمَّدٌ .
"دو آدمی اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں داخل کرنے کا حکم فرمائے گا۔ اس پر وہ دونوں کہیں گے: ہمارے رب ! ہم جنت میں داخل ہونے کے حق دار کیسے ہوئے ، حالانکہ ہم نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا ، جس کے بدلے میں تُو ہمیں جنت دیتا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے: میرے ان دونوں بندوں کو جنت میں داخل کردو، کیونکہ میں نے اپنے آپ پر لازم کیا ہے کہ وہ شخص دوزخ میں نہیں جائے گا، جس کا نام محمد یا احمد ہوگا۔"
(فضائل التسمیة لابن بکیر: ۱)

موضوع (من گھڑت) : یہ جھوٹی روایت ہے، کیونکہ؛
۱: اس کا راوی احمد بن نصر بن عبد اللہ ذارع  "کذاب" ہے۔ جیساکہ؛
٭ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ذاک الکذاب"یہ جھوٹا شخص ہے۔" (میزان الاعتدال: ۳۱۳/۲)
۲: اس کے راوی صدقہ بن موسیٰ بن تمیم  "مجہول " ہے جیسا کہ ؛
٭ حافظ  خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  ھٰذا الشیخ مجھول ، وقد رو ٰی عنه الذارع أحادیث منکرۃ ، والحمل فیها عندي علی الذارع.
"یہ مجہول راوی ہے۔ ذارع نے اس سے جھوٹی روایات بیان کر رکھی ہیں۔ میرے نزدیک اس کاروائی کا بوجھ ذارع کے سر پر ہے۔" (تاریخ بغداد: ۳۳۳/۹)
۳: اس کا باپ موسیٰ بن تمیم بن ربیعہ بھی "مجہول" ہے۔
٭حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ھٰذا حدیث لا أصل له. "اس روایت کی کوئی اصل نہیں۔" (الموضوعات لابن جوزی: ۱۵۷/۱)
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ اس روایت کے بارے میں  لکھتے ہیں: سندہ مظلم ، وھو موضوع. "اس کی سند اندھیری ہے جو کہ گھڑی ہوئی ہے۔" (تلخیص کتاب الموضوعات: ص ۳۴ ح ۵۲)
٭شیخ الاسلام ثانی ، علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: وھٰذا مناقض ، لما ھو معلوم من دینهٖ صلی اللہ علیہ وسلم أن النار لا یجار منها بالإسماء و الألقاب ، وإنما النجاۃ منها بالإیمان و الإعمال الصالحة.
"یہ واضح طور پر نبی کریم ﷺ کے لائے ہوئے دین کے خلاف ہے، کیونکہ اسماء و القاب نارِ جہنم سے بچا نہیں پائیں گے، بلکہ نجات کا دارومدار صرف ایمان  اور اعمال صالحہ پر ہے۔" (المنار المنیف في الصحیح و الضعیف: ص ۵۷)

*** اہل علم کی تصریحات***
محمد نام کی فضیلت اور فوائد و برکات کے متعلق جتنی بھی احادیث وارد ہوئی ہیں، وہ ساری کی ساری جھوٹی ہیں، جیسا کہ:
٭حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: وقدروي في ھذا الباب أحادیث ، لیس فیها ما یصح.
"اس باب میں بیان کی جانے والی کوئی روایت صحیح نہیں۔" (الموضوعات : ۱۵۸/۱)
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: وھذہٖ أحادیث مکذوبةٌ.
"یہ ساری روایتیں جھوٹی ہیں۔" (میزان الاعتدال في نقد الرجال: ۱۲۹/۱)
٭حافظ ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: و في ذٰلک جزءٌ ، کله  کذب.
"اس بارے میں پورا ایک کتابچہ ہے جو کہ سارا جھوت کا پلندہ ہے۔" (المنار المنیف فی الصحیح و الضعیف: ص ۵۲)
٭علامہ حلبی کہتے ہیں: قال بعضهم : ولم یصح في فضل التسمیة بمحمد حدیث ، وکل ماورد فیه ؛ فهو موضوع.
"بعض علما کا کہنا ہے کہ محمد نام کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں ، بلکہ اس بارے میں بیان کی جانے والی ساری روایات من گھڑت ہے۔" (إنسان العیون في سیرۃ الأمین المأمون ، المعروف به السیرۃ الحلبیّة: ۱۲۱/۱)
٭علامہ زرقانی لکھتے ہیں: وذکر بعض الحفاظ أنه لم یصح في فضل التسمیة بمحمد حدیث.
"بعض حفاط کا کہنا ہے کہ محمد نام کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں۔" (شرح الزرقانی علی مواھب اللدنیة : ۳۰۷/۷)
٭ابن عراق کنانی لکھتے ہیں: قال الأُبِّيُّ: لم یصح في فضل التسمیة بمحمد حدیث ، بل قال الحافظ أبو العباس تقی الدین الحراني : کل ما ورد فیه ؛ فهو موضوع.
"علامہ اُبّی کہتے ہیں کہ محمد نام کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں ، بلکہ حافظ ابو عباس تقی الدین حرانی (علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ) کے بقول اس بارے میں بیان کی جانے والی ساری کی ساری روایات من  گھڑت ہیں۔" (تنزیعه الشریعة المرفوعة عن الأخبار الشنیعة الموضوعة : ۱۷۴/۱)

Sunday, April 26, 2015

٭ محمد نام والا آگ کے عذاب سے محفوظ


محمد نام والا آگ کے عذاب سے محفوظ

 رسول اللہ ﷺ کی طرف ایک منسوب روایت یوں ہے:
((قَالَ اللہُ : وَ عِزَّتِي وَ جَلالِي ، لَا أُعَذِّبُ أَحَدًا سُمِّيَ  بِاسٗمِکَ بِالنَّارِ ، یَا مُحَمَّدُ)).
"اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ! جس کا نام آپ کے نام پر رکھا جائے گا، میں اسے آگ کا عذاب نہیں دوں گا۔"
(معجم الشیوخ للذهبي: ۴۲/۳ ، ۴۳)
موضوع (من گھڑت) : یہ روایت جھوٹی اور باطل ہے، کیونکہ؛
٭ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ونسخة نبیط، نسخة موضوعة بلا ریب ، فلا تغتروا بعلوھا ، فاللکي تکلم فیه ابن ماکولا وغیرہ ، و شیخه أحمد ؛ أحسبه ھو واضع النسخة.
"نبیط کے نسخہ کے من گھڑت ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اس کے عالی ہونے سے دھوکہ مت کھاؤ، کیونکہ لُکَّیٗ کے بارے میں ابن ماکولا وغیرہ نے جرح کردی ہے۔ میرے خیال کے مطابق اس نسخے کو گھڑنے والا اس کا استاد احمد ہے۔" (معجم الشیوخ: ۴۳/۳)
٭علامہ محمد طاہر پٹنی حنفی رحمہ اللہ نے اسے تذکرۃ الموضوعات (۸۹) میں ذکر کیا ہے۔
٭اسی طرح ابن عراق کنانی رحمہ اللہ نے تنزیعه الشریعة المرفوعة عن الأخبار الشنیعة الموضوعة (۲۲۶/۱) میں ذکر کیا ہے۔

*** اہل علم کی تصریحات***
محمد نام کی فضیلت اور فوائد و برکات کے متعلق جتنی بھی احادیث وارد ہوئی ہیں، وہ ساری کی ساری جھوٹی ہیں، جیسا کہ:
٭حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: وقدروي في ھذا الباب أحادیث ، لیس فیها ما یصح.
"اس باب میں بیان کی جانے والی کوئی روایت صحیح نہیں۔" (الموضوعات : ۱۵۸/۱)
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: وھذہٖ أحادیث مکذوبةٌ.
"یہ ساری روایتیں جھوٹی ہیں۔" (میزان الاعتدال في نقد الرجال: ۱۲۹/۱)
٭حافظ ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: و في ذٰلک جزءٌ ، کله  کذب.
"اس بارے میں پورا ایک کتابچہ ہے جو کہ سارا جھوت کا پلندہ ہے۔" (المنار المنیف فی الصحیح و الضعیف: ص ۵۲)
٭علامہ حلبی کہتے ہیں: قال بعضهم : ولم یصح في فضل التسمیة بمحمد حدیث ، وکل ماورد فیه ؛ فهو موضوع.
"بعض علما کا کہنا ہے کہ محمد نام کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں ، بلکہ اس بارے میں بیان کی جانے والی ساری روایات من گھڑت ہے۔" (إنسان العیون في سیرۃ الأمین المأمون ، المعروف به السیرۃ الحلبیّة: ۱۲۱/۱)
٭علامہ زرقانی لکھتے ہیں: وذکر بعض الحفاظ أنه لم یصح في فضل التسمیة بمحمد حدیث.
"بعض حفاط کا کہنا ہے کہ محمد نام کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں۔" (شرح الزرقانی علی مواھب اللدنیة : ۳۰۷/۷)
٭ابن عراق کنانی لکھتے ہیں: قال الأُبِّيُّ: لم یصح في فضل التسمیة بمحمد حدیث ، بل قال الحافظ أبو العباس تقی الدین الحراني : کل ما ورد فیه ؛ فهو موضوع.
"علامہ اُبّی کہتے ہیں کہ محمد نام کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں ، بلکہ حافظ ابو عباس تقی الدین حرانی (علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ) کے بقول اس بارے میں بیان کی جانے والی ساری کی ساری روایات من  گھڑت ہیں۔" (تنزیعه الشریعة المرفوعة عن الأخبار الشنیعة الموضوعة : ۱۷۴/۱)

٭ بچے کا نام تبرکاً محمد رکھنے والے جنتی


بچے کا نام تبرکاً محمد رکھنے والے جنتی

سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ وُلِدَ لَهُ مَوْلُودٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا تَبَرُّكًا بِهِ كَانَ هُوَ وَمَوْلُودُهُ فِي الْجَنَّةِ.
"جس نے اپنے پیدا ہونے والے بچے کا نام تبرکاً محمد رکھا، وہ اور اس کا بچہ دونوں جنتی ہوں گے۔"
(فضائل التسمیة لابن بکیر: ۳۰ ، مشیخة قاضي المارستان: ۴۵۳)

موضوع (من گھڑت) : یہ جھوٹی روایت ہے۔ اسے تراشنے والا حامد بن حماد بن مبارک عسکری ہے، جیسا کہ:
٭ حافظ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں:  المتهم بوضعهٖ حامد بن حماد العسکري.
"اس حدیث کو گھڑنے کا الزام حامد بن حماد عسکری کے سر ہے۔" (تلخیص کتاب الموضوعات: ص ۳۵)
٭حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات (۱۵۷/۱) میں ذکر کیا ہے۔
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے "موضوع" (من گھڑت) کہا ہے۔
٭حافظ سیوطی  (اللآلي المصنوعة : ۱۰۶/۱) کا اس جھوٹی روایت کی سند کو "حسن" کہنا انتہائی تساہل ہے۔


*** اہل علم کی تصریحات***
محمد نام کی فضیلت اور فوائد و برکات کے متعلق جتنی بھی احادیث وارد ہوئی ہیں، وہ ساری کی ساری جھوٹی ہیں، جیسا کہ:
٭حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: وقدروي في ھذا الباب أحادیث ، لیس فیها ما یصح.
"اس باب میں بیان کی جانے والی کوئی روایت صحیح نہیں۔" (الموضوعات : ۱۵۸/۱)
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: وھذہٖ أحادیث مکذوبةٌ.
"یہ ساری روایتیں جھوٹی ہیں۔" (میزان الاعتدال في نقد الرجال: ۱۲۹/۱)
٭حافظ ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: و في ذٰلک جزءٌ ، کله  کذب.
"اس بارے میں پورا ایک کتابچہ ہے جو کہ سارا جھوت کا پلندہ ہے۔" (المنار المنیف فی الصحیح و الضعیف: ص ۵۲)
٭علامہ حلبی کہتے ہیں: قال بعضهم : ولم یصح في فضل التسمیة بمحمد حدیث ، وکل ماورد فیه ؛ فهو موضوع.
"بعض علما کا کہنا ہے کہ محمد نام کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں ، بلکہ اس بارے میں بیان کی جانے والی ساری روایات من گھڑت ہے۔" (إنسان العیون في سیرۃ الأمین المأمون ، المعروف به السیرۃ الحلبیّة: ۱۲۱/۱)
٭علامہ زرقانی لکھتے ہیں: وذکر بعض الحفاظ أنه لم یصح في فضل التسمیة بمحمد حدیث.
"بعض حفاط کا کہنا ہے کہ محمد نام کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں۔" (شرح الزرقانی علی مواھب اللدنیة : ۳۰۷/۷)
٭ابن عراق کنانی لکھتے ہیں: قال الأُبِّيُّ: لم یصح في فضل التسمیة بمحمد حدیث ، بل قال الحافظ أبو العباس تقی الدین الحراني : کل ما ورد فیه ؛ فهو موضوع.
"علامہ اُبّی کہتے ہیں کہ محمد نام کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں ، بلکہ حافظ ابو عباس تقی الدین حرانی (علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ) کے بقول اس بارے میں بیان کی جانے والی ساری کی ساری روایات من  گھڑت ہیں۔" (تنزیعه الشریعة المرفوعة عن الأخبار الشنیعة الموضوعة : ۱۷۴/۱)