تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Monday, February 24, 2014

٭ سینگی (حجامہ) لگوانے سے متعلق ضعیف روایات

1: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عن ليلة، أسري به أنه لم يمرعلى ملإٍمن الملائكةإلاأمروه أن مرأمتَك بالحجامة .
"جس رات مجھے معراج ہوئی، میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرا، وہ سب  مجھے یہی کہتے رہے: اے محمد (ﷺ)! سینگی لگوایا کریں۔" (سنن الترمذی:2052، سنن ابن ماجہ: 3477 ، المستدرک للحاکم: 209/4)
ضعیف: ٭سنن الترمذی کی سند میں عبد الرحمٰن بن اسحاق الکوفی الواسطی ضعیف ہے۔
٭جبکہ سنن ابن ماجہ اور المستدرک للحاکم کی سند میں عباد بن منصور ضعیف ہے۔
٭ اور یہ  روایت اپنے تمام طرق و شواہد کے ساتھ ضعیف ہی ہے۔

2:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "سینگی لگانے والا اچھا بندہ ہے۔ خون لے جاتا ہے، کمر ہلکی کرتا ہے اور بینائی تیز کرتا ہے۔" (سنن ترمذٰ: 2053، سنن ابن ماجہ: 3478، المستدرک للحاکم: 212/4)
ضعیف: ٭ عباد بن منصور راوی ضعیف راوی ہے۔

3:سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے نازل ہوکر نبی کریم ﷺ کو گردن کی رگوں پر اور دونوں کندھوں کے درمیان سینگی لگوانے کی ہدایت کی۔ (سنن ابن ماجہ: 3482)
ضعیف: ٭ اس میں اصبغ بن نباتہ متروک راوی ہے۔

4: سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے گردن کی رگوں اور کندھوں کے درمیان سینگی لگوائی۔ (سنن ابن ماجہ:3483، سنن ابی داود:3860، سنن الترمذی: 2051)
ضعیف: اس میں قتادہ مشہور مدلس ہیں اور روایت عن سے ہے ، سماع کی تصریح بھی نہیں، لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے۔
5: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہار منہ سینگی لگوانا زیادہ مفید ہے، اس سے عقل میں اضافہ اور حافظہ تیز ہوتا ہے اور اچھی یادداشت والے کی یاد داشت بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔ جس نے سینگی لگوانے ہو وہ اللہ کا نام لے کر جمعرات کو لگوائے۔۔ جمعہ ، ہفتہ اور اتوار کو سینگی لگوانے سے اجتناب کرو۔ سوموار اور منگل کو سینگی لگوالیا کرو۔ بدھ والے دن بھی سینگی لگوانے سے بچو، کیونکہ ایوب علیہ السلام کو اسی دن آزمائش آئی تھی۔ جذام اور برص صرف بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں ظاہر ہوتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ: 3488)
ضعیف: اس روایت کی سند میں عبد اللہ بن عصمتہ اور سعید بن میمون دونوں مجہول ہیں۔

Thursday, February 20, 2014

٭ آگ دیکھنے پر اللہ اکبر کہنا

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اذا رأیتم الحریق فکبّروا، فانّ التّکبیر یطفئۃ۔
 "جب تم آگ دیکھو تو تکبیر کہو، کیونکہ اللہ اکبر اس کو بجھا دیتا ہے۔"
(عمل الیوم اللیلۃ لابن السنی: 295-298، الدعاء للطبرانی:1266)
موضوع(من گھڑت): ٭ یہ موضوع روایت ہے، کیونکہ اس کی سند میں قاسم بن عبد اللہ بن عمر راوی "متروک" ہے، امام احمد نے اسے جھوٹا کہا ہے۔ (تقریب التہذیب:5468)
٭ طبرانی (الدعاء: 1266-1267) میں اس کی متابعت اس کے بھائی عبد الرحمٰن بن عبد اللہ بن عمر نے  کررکھی ہے، وہ بھی "کذاب" ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اسے "متروک" کہا ہے۔ (3922)
٭الکامل لابن عدی اور الدعوات الکبیر للبیہقی میں متابعتاً ابنِ لہیعہ کی روایت آتی ہے تو یہ ابن لہیعہ (ضعیف عند الجمہور) کی تدلیس ہے، جیسا کہ ابن ابی مریم کہتے ہیں:"اس حدیث کو ابن لہیعہ نے ہمارے ایک ساتھی زیاد بن یونس الحضرمی سے سنا، وہ قاسم بن عبد اللہ بن عمر سے بیان کرتا ہیں، ابن لہیعہ اسے مستحسن عمل خیال کرتےتھے، پھر انھوں نے کہا، اسے وہ عمر بن شعیب سے بیان کرتا ہے۔ " (الضعفاء الکبیر للعقیلی: 296/2)
ثابت ہوا کہ یہ متابعت اس سند کی ہے، جس میں قاسم بن عبد اللہ "کذاب" راوی موجود ہے۔

Tuesday, February 18, 2014

٭ حضرت علی ؓ غفار، ستار، قاضی الحاجات

حضرت علی ؓ غفار، ستار، قاضی الحاجات (الامن و العلی از احمد رضا: ص 222-223)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
بے شک اللہ عزوجل سے شرم آتی ہے کہ کسی کا گناہ میری صفتِ مغفرت سے بڑھ جائے ۔ وہ گناہ کرے اور میری مغفرت اس کی بخشش میں تنگی کرے کہ میں نہ بخش سکوں یا کسی کی جہالت میرے علم سے زائد ہوجائے کہ وہ جہل سے پیش آئے اور میں حلم سے کام نہ لے سکوں یا کسی عیب ، کسی شرم کی بات کو میرا پردہ نہ چھپائے یا کسی حاجت مندی کو میرا کرم بند نہ فرمائے۔ (تاریخ بغداد للخطیب: 381/1 ، تاریخ ابن عساکر : 517/42)
موضوع (من گھڑت): یہ روایت جھوٹ کا پلندا ہے۔
1: اس کا راوی ہیثم بن عدی بالاتفاق "کذاب" ، "متروک الحدیث" اور "مدلس" ہے۔
٭امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: "یہ ثقہ نہیں تھا۔ جھوٹ بولتا تھا۔" (تاریخ یحییٰ بن معین: 1768)
٭امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ متروک الحدیث راوی ہے۔ اس کا درجہ واقدی (کذاب راوی) والا درجہ ہے۔" (الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم:85/9)
٭امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ متروک الحدیث راوی ہے۔" (الضعفاء و المتروکون للنسائی: 637)
٭امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ کچھ بھی نہیں تھا۔" (تاریخ ابی زرعۃ: 431/3)
٭امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "محدثین نے اس کی روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔" (کتاب الضعفاء للبخاری: 399)
اس کے علاوہ اس پر بہت سی جروح ہیں۔ ایک بھی توثیق ثابت نہیں۔
2: اس روایت کا دوسرا راوی مجالد بن سعید جمہور محدثین کرام کے نزدیک "ضعیف" اور "سییی ء الحفظ" ہے۔
٭حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "مجالد بن سعید جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔" (مجمع الزوائد للھیثمی: 66/6، 347/7، 32/5، 98/9)
٭ حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔" (فیض القدیر للمناوی: 13/6، ح : 8247)
٭ علامہ عینی حنفی لکھتے ہیں: "اسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔" (عمدۃ القاری: تحت حدیث: 934)

Friday, February 14, 2014

٭ جنگ یمامہ میں یا محمد کا نعرہ


جنگِ یمامہ میں مسلیمہ کذاب کے ساتھ فوج کی تعداد ساٹھ ہزار تھی، جبکہ مسلمانوں کی تعداد کم تھی۔ مقابلہ بہت شدید تھا۔ ایک وقت نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ مسلمان مجاہدین کے پاؤں اکھڑنے لگے۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سپہ سالار تھے۔ انہوں نے یہ حالت دیکھی تو:
و نادی بشعارھم یومئذ، و کان شعارھم یومئذ: یا محمداہ !
"انہوں نے مسلمانوں کا نعرہ بلند کیا۔ اس دن مسلمانوں کا نعرہ یَامحمداہ تھا۔"
(تاریخ الطبری: 181/2 ، البدایۃ النھایۃ لابن کثیر: 324/6)
موضوع(من گھڑت): یہ روایت موضوع ہے، کیونکہ:
٭ اس میں سیف بن عمر کوفی راوی بالاتفاق "ضعیف و متروک" موجود ہے۔
٭ شعیب بن ابراہیم کوفی "مجہول" ہے۔
٭ ضحاک بن یربوع کی توثیق نہیں ملی۔
٭اس کا باپ یربوع کیسا ہے؟ معلوم نہیں ہوسکا۔
٭ رجل من سحیم کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔

Tuesday, February 11, 2014

٭ جنگل اور بیابان میں اللہ کے بندوں کو پکارنا





سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 
 أذا انفلتت دابۃ احدکم بأرض فلاۃ فلیناد: یا عبد اللہ ! احبسوا علی ، یا عباد اللہ ! احبسوا علی؛ فإن للہ فی الأرض حاضرا، سیحبسہ علیکم
 "جب تم میں سے کسی کی سواری جنگل  بیابان میں چھوٹ جائے تو اس شخص کو یوں پکارنا چاہیے:اے اللہ کے بندوں ! میری سواری کو پکڑوادو، اے اللہ کے بندوں ! میری سواری کو پکڑا دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے بندے اس زمین میں ہوتے ہیں وہ تمہیں (تمہاری سواری) پکڑا دیں گے۔"  
(المعجم الکبیر للطبرانی: 217/10 ، ح: 10518 ، و اللفظ لہ- 
مسند أبی یعلی: 177/9 ح : 5269 ، عمل الیوم و اللیلۃ لابن السنی:509)


سخت ضعیف: اس کی سند کئی وجوہ سے سخت ترین ضعیف ہے:
۱:معروف بن حسان "غیر معروف" اور "مجہول" ہے:٭ امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے اسے مجہول قرار دیا ہے۔ (الجرح والتعدیل لابن أبی حاتم: 323/8)
٭امام ابن عدی رحمہ اللہ نے اس راوی کو "منکر الحدیث" کہا ہے۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال:325/6) 
٭ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ (مجمع الزوائد: 132/10)
۲:اس میں قتادہ بن دعامہ تابعی "مدلس" ہیں(سیر أعلام النبلاء: 270/5) جو کہ "عن" سے بیان کر رہے ہیں، سماع کی تصریح ثابت نہیں۔
۳: سعید بن ابی عروبہ بھی "مدلس" اور "مختلط" ہیں۔
٭ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ غریب حدیث ہے جسے ابن السنی اور طبرانی نے بیان کیا ہے ، اس کی سند میں ابنِ بریدہ اور سیدنا ابنِ مسعود کے درمیان انقطاع ہے۔" (شرح الاذکار لابن علان: 150/5)
تنبیہ: ابن السنی کی سند میں ابنِ بریدہ اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان "عن أبیہ" کا واسطہ ہے، یہ ناسخ کی غلطی ہے، کیونکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس سند کو "منقطع" قرار دیا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ یہی سند ابو یعلیٰ کی بھی ہے ، لیکن مسند ابی یعلیٰ میں بھی یہ واسطہ مذکور نہیں، لہٰذا اس کا "منقطع" ہونا واضح ہے۔
٭علامہ بوصیری اس کے بارے میں کہتے ہیں: "اس کی سند معروف بن حسان کے ضعیف ہونے کی بنا پر ضعیف ہے۔ " (اتّحاف الخیرۃ المھرۃ: 500/7)
٭ حافظ سخاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "اس کی سند تو ضعیف ہے، لیکن حافظ نووی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اور بعض اکابر شیوخ نے اس کا تجربہ کیا ہے۔" (الابتھج بأذکار المسافر و الحاج للسخاوی، ص: 39)
٭اس کے تعاقب میں ناصر السنۃ، محدث العصر، علامہ البانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
"عبادات تجربوں سے اخذ نہیں کی جاسکتیں، خصوصا ایسی عبادات جو کسی غیبی امر کے بارے میں ہوں، جیسا کہ یہ حدیث ہے، لہٰذا تجربے کو بنیاد بنا کر اسے صحیح قرار دینے کی طرف میلان ظاہر کرنا جائز نہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے، جبکہ بعض لوگوں نے اس سے مصیبتوں کے وقت مردوں سے مدد مانگنے پر بھی استدلال کیا ہے۔ یہ خالص شرک ہے، اللہ محفوظ فرمائے!" (سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ: 108/2، 109 ، ح: 655)

نوٹ: مصنف ابن أبی شیبۃ(132/7) میں اس کا ایک منقطع بلکہ "معضل(سخت منقطع)" شاہد بھی موجود ہے۔ اور اس میں محمد بن اسحاق راوی بھی جو کہ "مدلس" ہے، سماع کی تصریح نہیں مل سکی۔

٭ کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کرنا

کھانے سے پہلے اور بعد میں وضوکرنا


"سعة الرزق وردع سنة الشيطان الوضوء قبل الطعام وبعده."
کھانے سے پہلے اور بعد وضو رزق میں کشادگی کرتا ہے اور شیطان کو دور کرتا ہے۔
(کنز العمال:40762 ، ک فی تاریخہ عن أنس)

ضعیف: اسے ديلمي (2/ 217) نے عن عبد الوهاب بن الضحاك : حدثنا بقية بن الوليد : حدثنا سعيد بن عمارة : حدثنا الحارث بن نعمان : سمعت أنس ابن مالك کی سند سے روایت کیا ہے۔
٭ اس سند میں عبد الوہاب بن الضحاک "کذاب" جبکہ سعید بن عمارۃ اور حارث بن نعمان "ضعیف" راوی ہیں۔
٭امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔ (العلل المتناعیۃ:652/2)
٭شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو موضوع (من گھڑت) کہا ہے۔ (السلسلۃ الضعیفۃ: 3700)
جبکہ شمائل ترمذی (باب صفۃ وضوء رسول اللہ ﷺ عند الطعام:186) میں ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” کھانے کی برکت پہلے اور بعد وضو کرنا ہے۔
ضعیف: اس کے راوی قیس(بن الربیع) کو امام ترمذی(1846) اور امام ابو داود (3761) نے ”ضعیف“  کہا ہے۔
٭قیس بن الربیع جمہور محدثین کے نزدیک برے حافظے کی وجہ سے ضعیف تھا۔

صحیح احادیث: ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت سے تشریف لائے ، پھر آپ کے سامنے کھانا لایا  گیا تو لوگوں نے کہا: کیا آپ کے لئے وضو کا پانی لے آئیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے صرف نماز کے لئے وضو کا حکم دیا گیا ہے۔ سندہ صحیح (سنن ترمذی: 1847 و قال حسن، سنن ابی داود: 3760، سنن نسائی: 132 و صحیح ابن خزیمہ: 35)
جبکہ صحیح مسلم( 374 ، دارلسلام: 827 ) اور سنن ترمذی (1847 ، تعلیقاً مختصراً) میں آپ ﷺ کے الفاظ کچھ یوں ہیں: "کیا میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں کہ وضو کرلوں؟"
٭ کھانا کھانے سے پہلے وضو کرنا مسنون نہیں ہے۔
٭ ایک حدیث میں آیا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب حالتِ جنابت میں کھانا کھانے کا ارادہ کرتے یا سونا چاہتے تو نماز والا وضو کرتے تھے۔ (صحیح مسلم: 305، دار السلام: 700) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنبی شخص کو چاہئے کہ کھانا کھانے اور سونے سے پہلے نماز والا وضو کرے۔

٭اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ : رسول اللہ ﷺ جب کھانے پینے کا ارادہ کرتے تو دونوں ہاتھ دھوتے، پھر کھاتے یا پیتے تھے۔ (شرح السنۃ للبغوی: 34/2 و سندہ صحیح وقال البغوی: ھذا حدیث صحیح)