تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Tuesday, November 25, 2014

٭ قادیانیوں کی مردود روایات


اگر نبی کریم ﷺ مبعوث نہ ہوتے
 
 نبی کریم ﷺ سے روایت کیا جاتا ہے کہ:
” لو لم أبعث فیکم لبعث عمر بن الخطاب“
” اگر میں تمہارے درمیان مبعوث نہ ہوتا تو عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) مبعوث ہوتے۔ “
(فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل: ۴۲۸/۱ح۶۷۶)
ضعیف: اس کی سند میں محمد بن عبید الکوفی مجروح ہے:
٭ "له مناکیر" اس  کی منکر روایتیں ہیں۔ (دیکھئے لسان المیزان : ۲۷۶/۵، دوسرا نسخہ: ۳۳۰/۶)
٭ اس کی سند میں "رجل " مجہول ہے۔

دوسری سند: الکامل لابن عدی (۱۰۱۴/۳، دوسرا نسخہ: ۸/۴)
٭اس میں رشدین بن سعد جمہور کے نزدیک ضعیف راوی ہے۔
٭ابن لھیعہ مدلس ہیں۔
٭ اور محمد بن عبد اللہ بن سعید الغزی کا تعین مطلوب ہے۔
٭ نیز یہ روایت مقلوب ہے جیسا کہ ابن عدی نے صراحت کی ہے اور مقلوب ضعیف کی قسم ہے۔

تیسری سند: عن بلال رضي اللہ عنه، الکامل (۱۰۷۱/۳، دوسرا نسخہ: ۱۷۵/۴) الموضوعات لابن الجوزی (۳۲۰/۱ح۵۹۴) تاریخ دمشق لابن عساکر (۱۱۶/۴۴) اللالی المصنوعۃ للسیوطی (۳۰۲/۱)
اس روایت کی سند میں :
٭ زکریا بن یحییٰ الوقار کذاب ہے
٭اور ابو بکر بن عبد اللہ بن ابی مریم الغسانی ضعیف ہے۔
٭ نیز ابن عدی نے اسے غیر محفوظ اور مقلوب قرار دیا ہے۔

چوتھی سند: الکامل لابن عدی (۱۵۱۱/۴، دوسرا نسخہ: ۳۲۴/۵)
اس سند میں تین وجۂ ضعف ہیں:
۱: ابوقتادہ عبد اللہ بن واقد الحرانی متروک مدلس تھا۔ (دیکھئے تقریب التہذیب: ۴۰۹۰)
۲:مصعب بن سعد ابو خیثمہ المصیصی ضعیف عند الجمہور و مدلس تھا، بلکہ ابن عدی نے فرمایا: "یحدث عن الثقات بالمناکیر و یصحف"
یعنی ثقہ راویوں سے منکر روایتیں بیان کرتا تھا اور  تصحیف (روایتیں پڑھنے میں غلطی) کرتا تھا۔
۳:عمر بن الحسن بن نصر الحلبی کی توثیق بھی مطلوب ہے.

پانچویں سند: حدیث ابی بکر وابی ہریرہ رضی اللہ عنہما (مسند الفردوس للدیلمی: ۴۱۷/۳ح۵۱۶۷، ابن الجوزی فی الموضوعات: ۳۲۰/۱ح۵۹۵، تاریخ دمشق لابن عساکر: ۱۱۴/۴۴، وقال: "غریب" اللآلی المصنوعہ: ۳۰۲/۱)
٭ اس کی سند میں اسحاق بن نجیح الملطی کذاب ہے اور دوسری علتیں بھی ہیں۔
٭ایک اور سند میں بھی عبد اللہ بن واقد الحرانی متروک ہے۔ دیکھئے اللآلی المصنوعہ(۳۰۲/۱ ) والفوائد المجموعۃ (للجرح علی کلام السیوطی ص۳۳۷)
٭حافظ عراقی نے تخریج الاحیاء میں فرمایا: "وھو منکر" (۱۶۱/۳)
خلاصۃ التحقیق: یہ روایت اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف ومردود ہے۔
نیز دیکھئے: طبقات الشافعیہ للسبکی (۵۰۹/۳) اور موسوعۃ الاحادیث والآثار الضعیفۃ والمضوعۃ (۳۶۸/۸- ۳۶۹ ح۲۱۰۷۶، ۲۱۰۷۷)

********

No comments:

تبصرہ کیجئے