تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Monday, August 17, 2015

٭ گلاب کی تخلیق نبی ﷺ کے پسینے سے


Daeef Hadiths, Zaeef Hadees, ضعیف حدیث، موضوع حدیث، سلسلة الأحادیث الضعیفة

گلاب کی تخلیق نبی ﷺ کے پسینے سے

لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِلَى السَّمَاءِ سَقَطَ إِلَى الأَرْضِ مِنْ عَرَقِي فَنَبَتَ مِنْهُ الْوَرْدُفَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَشُمَّ رَائِحَتِي فَلْيَشُمَّ الْوَرْدَ .
جس رات مجھے سیر کرائی گئی (یعنی شب معراج) اس رات زمین پر میرا  کچھ پسینہ گر گیا پھر اس سے گلاب کا پھول اگا، پس جو چاہتا ہے کہ میری خوشبو سونگھے وہ گلاب کو سونگھ لے۔“

 
موضوع (من گھڑت): یہ جھوٹی اور من گھڑت روایت ہے۔
٭ ملا علی قاری اور امام شوکانی رحمہما اللہ نے اس روایت کو موضوع کہا ہے۔ (الاسرارالمرفوعة: ص ۳۷۷، الفوائد المجموعة: ص ۱۹۶)
٭علامہ سیوطی اور امام ابن جوزی رحمہما اللہ نے بھی اسے موضوع قرار دیا ہے۔ (اللآلی المصنوعة: ۲۳۳/۲، الموضوعات: ۶۱/۳)

٭ گلاب کی تخلیق نبی ﷺ کے پسینے سے


گلاب کی تخلیق نبی ﷺ کے پسینے سے

إِنَّ الْوَرْدَ خُلِقَ مِنْ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یقیناً گلاب کا پھول نبی کریم ﷺ کے پسینے سے پیدا کیا گیا ہے۔“

 
موضوع (من گھڑت): یہ جھوٹی اور من گھڑت روایت ہے۔
٭ امام نووی رحمہ اللہ نے اس روایت کو غیر صحیح کہا ہے، جبکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے موضوع کہا ہے۔ (کما فی کشف الخفاء: ۲۵۸/۱، المقاصد الحسنة: ص۲۱۶)
٭علامہ احمد العامری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں۔ (الحد الحثیث: ص ۲۵۲)

Sunday, August 16, 2015

٭ عقیق کی انگوٹھی میں خیر و بھلائی


عقیق کی انگوٹھی میں خیر و بھلائی

مَنٗ تَخَتَّمَ بِالٗعَقِیٗقِ لَمٗ یَزَلٗ یَرَیٗ خَیٗرًا.
جس نے عقیق کی انگوٹھی پہنی وہ ہمیشہ خیر و بھلائی دیکھتا رہے گا۔“

 
موضوع (من گھڑت):  یہ جھوٹی اور من گھڑت روایت ہے۔
٭ امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ (۵۷/۳)
٭ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے موضوع کہا ہے۔ (السلسلة الضعیفة: ۲۳۰)
مزید دیکھئے: الفوائد المجموعة (ص۱۹۴) ، تذکرۃ الموضوعات (ص۱۵۸)

٭ حج کرنے سے پہلے شادی کرنا


حج کرنے  سے پہلے شادی کرنا

مَنْ تَزَوَّجَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ فَقَدْ بَدَأَ بِالْمَعْصِيَةِ.
جس نے حج کرنے سے پہلے شادی کی اس نے معصیت و نافرمانی شروع کردی۔“


موضوع (من گھڑت):  یہ جھوٹی و من گھڑت روایت ہے، کیونکہ؛
٭امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ (الموضوعات: ۲۱۳/۲)
٭ علامہ طاہر پٹنی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس میں ایک راوی ہے جو موضوعات بیان کرتا تھا۔ (تذکرۃ الموضوعات: ص ۷۳)
٭علامہ شوکانی اور سیوطی رحمہما اللہ نے نقل فرمایا ہے کہ اس کی سند میں محمد بن ایوب راوی ہے جو موضوع روایتیں بیان کرتا تھا اور احمد بن جمہور متہم بالکذب ہے۔ (الفوائد المجموعة : ص ۱۰۳، اللآلی المصنوعة: ۱۰۱/۲)
٭ علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے موضوع کہا ہے۔ (سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة : ۲۲۲)

Saturday, August 15, 2015

٭ حج اور عمرہ



حج اور عمرہ


الْحَجُّ جِهَادٌ ، وَالْعُمْرَةُ تَطَوُّعٌ. 
حج جہاد ہے اور عمرہ نفل ہے۔“ (ابن ماجة ۲۹۸۹)


سخت ضعیف :  اس کی سند سخت ضعیف ہے، کیونکہ؛
۱: اس کا راوی عمربن قیس سندل "متروک" ہے۔ (تقریب التہذیب: ۴۹۵۹)
۲: جبکہ حسن بن یحیی الخشني "ضعیف" راوی ہے۔
٭ حافظ بوصیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس کے ضعیف ہونے پر جمہور متفق ہیں۔" یعنی یہ جمہوف محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہے۔ (مصباح الزجاجة)
٭ حافظ ابن حجر اور علامہ بوصیری رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ (تلخیص الحبیر: ۴۳۲/۲، مصباح الزجاجة: ۱۹۹/۳)
٭علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ (ضعیف ابن ماجه: ۶۴۵،سلسلةالأحاديث الضعيفة والموضوعة : ۲۰۰)

Friday, August 14, 2015

٭ مغرب اور عشاء کے درمیان بیس رکعات کی فضیلت


مَنْ صَلَّى بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ عِشْرِينَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ .
جس نے مغرب اور عشاء کے درمیان بیس رکعات پڑھیں اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائیں گے۔“


موضوع (من گھڑت):   یہ روایت  جھوٹی اور من گھڑت ہے۔
۱ :اس کا راوی  یعقوب بن ولید "کذاب" ہے۔امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ نے اسے کذاب کہا ہے۔(تقریب التہذیب: ۷۸۳۵)
٭علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔ (ضعیف الجامع: ۵۶۶۲)

٭ مغرب کے بعد چھ رکعات کی فضیلت

 مغرب کے بعد چھ رکعات نوافل کی فضیلت

مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيمَا بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ سَنَةً.
جس نے مغرب کے بعد چھ رکعات پڑھیں اور ان کے درمیان  میں کوئی بری بات  نہ کی  تو یہ رکعات  اس کے لئے بارہ سال کی عبادت کے برابر ہوں گی۔“
سخت ضعیف  :  یہ روایت سخت ضعیف ہے، کیونکہ؛
۱: اس کا راوی  عمر بن أبی خثعم "ضعیف" ہے۔ (تقریب التہذیب: ۴۹۲۸)
٭امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :  "میں نے محمد بن اسماعیل(امام بخاری رحمہ اللہ) سے سنا ہے کہ انہوں نے کہا عمر بن عبد اللہ بن ابی خثعم منکر الحدیث ہے۔"
٭ امام شوکانی رحمہ اللہ  فرماتے ہین اس کی کوئی اصل نہیں۔ (الفوائد المجموعة : ص ۴۳۷)
 ٭امام صغانی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ (موضوعات: ص ۵۰)
 حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ (تخریج الاحیاء : ۲۶۱/۸)
٭ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو سخت ضعیف کہا ہے۔(۴۶۹)