تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Monday, September 29, 2014

٭ زیارتِ قبر نبوی ﷺ سے متعلق روایات کی تحقیق


قبرِ نبی کی زیارت شفاعت کا ذریعہ

 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"من زار قبري، وجبت له شفاعتي"
جو شخص میری قبر کی زیارت کرے گا، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوجائے گی
(سنن الدارقطني: ۲۷۸/۲، ح:۲۶۶۹، شعب الإیمان للبیھقي: ۴۹۰/۳، ح: ۵۱۶۹، مسند البزار (کشف الأستار): ۵۷/۲، ح: ۱۱97)
ضعیف: اس کی سند "ضعیف" ہے۔ اس کے بارے میں:
1:امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: " میرے دل میں اس کے بارے میں خلش ہے۔ میں اس کی ذمہ داری سے بری ہوں" (لسان المیزان لابن حجر: ۱۳۵/۶)
نیز اس روایت کو امام صاحب نے "منکر" بھی قرار دیا ہے۔ (ایضاً)
٭ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی ساری بحث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی عبارت بیان ہوچکی ہے، نیز انہوں نے اس روایت  کی علت بھی بیان کردی ہے، اس سب کچھ کے ہوتے ہوئے یہ کہنا درست نہیں کہ اس روایت کو امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے۔ ہاں! وضاحت کرکے ایسا بیان کیا جاسکتا ہے۔" (ایضاً)
٭ حافظ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ روایت صحیح ابن خزیمہ میں ہے، لیکن امام صاحب نے اس کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔" (المقاصد الحسنة في بیان کثیر من الأحادیث المشتھرۃ علی الأ لسنة : ۱۱۲۵)
2:  امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس میں کمزوری ہے" (الضعفاء الکبیر: ۱۷۰/۴)
3:حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ روایت منکر ہے" (شعب الإیمان: ۴۹۰/۳)
4: حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ (المجموع شرح المھذّب: ۲۷۲/۸)
5: حافظ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: " یہ حدیث نہ صحیح ہے نہ ثابت۔ یہ تو فن حدیث کے ائمہ کے ہاں منکر اور ضعیف الاسناد روایت ہے۔ ایسی (روایت ) دلیل بننے کے لائق  نہیں ہوتی۔ علم حدیث میں ناپختہ کار لوگ ہی ایسی روایات کو اپنی دلیل بناتے ہیں۔" (الصارم المنکي في الردّ علی السبکي، ص: ۳۰)
6: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "اس بارے میں کچھ بھی ثابت نہیں" (التلخیص الحبیر: ۲۶۷/۲)
نیز فرماتے ہیں: "اس روایت میں کمزوری ہے" (اتّحاف المھرة: ۱۲۳/۹ - ۱۲۴)
7: حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ حدیث منکر ہے" (تاریخ الإسلام: ۲۱۲/۱۱، وفي نسخة: ۱۱۵/۱۱)
٭اس روایت کے راوی موسیٰ بن ہلال عبدی کی توثیق ثابت نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ محدثین کرام نے اس کو "مجہول" اور اس کی بیان کردہ روایات کو "منکر" قرار دیا ہے۔
1:،2: امام ابو حاتم رازی (الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم: ۱۶۶/۸) اور امام دارقطنی (لسان المیزان لابن حجر: ۱۳۶/۶) نے اسے " مجہول" قرار دیا ہے۔
3: امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس کی حدیث ضعیف اور منکر ہوتی ہے۔" (الضعفاء الکبیر:۱۷۰/۴)
4: اس کے بارے میں امام ابن عدی رحمہ اللہ کے قول "مجھے امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں" ( الکامل في ضعفاء الرجال: ۳۵۱/۶) ذکر کرتے ہوئے حافظ ابن قطان فاسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"حق  بات یہ ہے کہ اس راوی کی  عدالت ثابت نہیں ہوئی" (بیان الوھم والإیھام في کتاب الأحکام: ۳۲۲/۴)
حافظ ابن قطان رحمہ اللہ  کی یہ بات بالکل درست ہے۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ کے اس قول سے موسیٰ بن ہلال عبدی کی توثیق ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ جعفر بن میمون راوی کے بارے میں امام صاحب فرماتے ہیں: "مجھے امید ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس کی حدیث ضعیف راویوں میں لکھی جائے گی۔" (الکامل: ۱۳۸/۲، وفي نسخة: ۵۶۲)
یعنی امام ابن عدی رحمہ اللہ "ضعیف" راویوں کے بارے میں بھی یہ الفاظ بول دیتے ہیں۔ ان کی مراد شاید یہ ہوتی ہے کہ یہ راوی جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتا تھا۔
ہماری بات کی تائید علامہ عبد الرحمٰن بن یحییٰ یمانی معلّمی (۱۳۱۳ - ۱۳۸۶ھ) کے ایک قول سے بھی ہوتی ہے۔ یوسف بن محمد بن منکدر کے بارے میں بھی امام ابن عدی رحمہ اللہ نے بالکل یہی الفاظ کہے ۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ یمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"میں نے کئی ایسے مقامات پر امام ابن عدی کی طرف سے اس کلمے کا اطلاق دیکھا ہے، جہاں ان کے قول کا مقصود یہی ہوتا ہے کہ یہ راوی جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتا تھا۔ یہاں بھی یہی معاملہ ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ یوسف (بن محمد بن منکدر) کی بیان کردہ روایات ذکر کرنے کے بعد امام ابن عدی نے ایسا کہا ہے اور ان میں سے اکثر روایات منکر ہیں۔" (التعلیق علیٰ الفوائد المجموعة: ص 51)
ثابت ہوا کہ موسیٰ بن ہلال کو واضح طور پر کسی متقدم امام نے"ثقہ" قرار نہیں دیا۔ اس کی حدیث "ضعیف" اور "منکر" ہوتی ہے، جیسا کہ ائمہ کی تصریحات بیان ہوچکی ہیں۔ لہٰذا حافظ ذہبی رحمہ اللہ (میزان الاعتدال: ۲۲۵/۴) کا اسے "صالح الحدیث" کہنا ان کا علمی تسامح ہے، یہ بات درست نہیں۔ ہم نقل کرچکے ہیں کہ خود حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو "منکر" بھی قرار دیا ہے۔
اس لیے حافظ ذہبی رحمہ اللہ کے اس تسامح کو اس حدیث کی صحت کی  دلیل نہیں بنایا جاسکتا، متقدمین ائمہ حدیث میں سے کسی نے اس حدیث کو "صحیح” قرار  نہیں دیا ۔ اعتبار محدثین ہی کی بات کا ہے۔

٭ امام محمد بن المنکدر رحمہ اللہ کا قبرِ نبی ﷺ پر رخسار رکھنے کا واقعہ


امام محمد بن المنکدر رحمہ اللہ کا قبرِ نبی ﷺ پر رخسار رکھنے کا واقعہ
حافظ ابو بکر احمد بن ابی خیثمہ رحمہ اللہ (م ۲۷۹ھ) نے لکھا ہے:
"حدثنا مصعب قال: حدثني إسماعیل بن یعقوب التیمي قال: کان محمد بن المنکدر یجلس مع أصحابه فکان یصیبه الصمات فکان یقوم کما ھو۔ یضع خدہ علیٰ قبر النبي ثم یرجع فعوقب في ذلک فقال: إنه تصیبني خطرہ فإذ وجدت ذلک استغثت بقبر النبي ۔
وکان یأتي موضعاً فی المسجد فی الصحن فیتمرع و یضطجع فقیل له في ذلک فقال: إني رأیت النبي في ھذا الموضع۔ قال: أراہ فی النوم"
اسماعیل بن یعقوب التیمی سے روایت ہے کہ محمد بن المنکدر اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھتے تو آپ پر خاموشی چھا جاتی، پھر اسی حالت میں کھڑے ہوجاتے حتیٰ کہ نبی ﷺ کی قبر پر اپنا رخسار رکھ دیتے پھر واپس آجاتے تھے۔ انھیں جب اس کے بارے میں ملامت کی گئی تو انہوں نے فرمایا: وہ (اپنے دل میں) خطرات پاتے ہیں، پھر جب یہ حالت ہوتی ہے تو میں نبی ﷺ کی قبر سے  مدد حاصل کرتا ہوں۔
اور آپ مسجد کے صحن میں ایک جگہ جاتے تو زمین میں لیٹ جاتے اور لوٹ پوٹ ہوتے تھے پھر جب اس کے بارے میں انہیں کہا گیا تو فرمایا: میں نے نبی ﷺ کو اس مقام پر دیکھا ہے۔ اسد (راوی) نے کہا: یعنی خواب میں دیکھا ہے۔ (التاریخ الکبیر لابن ابی خیثمہ: ۲۵۸/۲- ۲۵۹فقرہ۲۷۷۷شاملہ)
٭یہ روایت کافی اختلاف کے ساتھ ابن عساکر کی تاریخ دمشق (۵۰/۵۶- ۵۱) میں ابن ابی خیثمہ کی سند سے مذکور ہے۔
٭نیز حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اسے نقل کیا ہے۔ (دیکھئے سیر اعلام النبلاء: ۳۵۹/۵، تاریخ الاسلام: ۲۵۶/۸)
ضعیف: یہ واقعہ ضعیف ہے کیونکہ اس کا راوی اسماعیل بن یعقوب التیمی ”ضعیف“ ہے۔
٭سیر (اعلام النبلاء)میں تو حافظ ذہبی نے سکوت کیا مگر تاریخ الاسلام میں اس واقع کے فوراً بعد فرمایا:
"اسماعیل : فیه لین" اسماعیل (راوی) میں کمزوری ہے۔ (ص ۲۵۶)
٭ اسماعیل بن یعقوب  التیمی کے بارے میں ابو حاتم الرازی نے فرمایا:
"ھو ضعیف الحدیث" (کتاب الجرح و التعدیل: ۲۰۴/۲ ت ۶۹۰)
٭حافظ ذہبی نے اسے دیوان الضعفاء و المترکین میں ذکر کیا ۔(۹۲/۱ ت ۴۵۸)
اور میزان الاعتدال میں فرمایا: "اور اس نے (امام) مالک سے ایک منکر قصہ بیان کیا ہے جسے خطیب نے روایت کیا ہے" (۲۵۴/۱)
٭ابن الجوزی نے اس راوی کو کتاب الضعفاء و المترکین میں ذکر کیا ۔ (۱۲۳/۱ ت ۴۲۹)
٭ امام ابو حاتم الرازی اور جمہور محدثین کی جرح کے مقابلے میں حافظ ابن حبان کا اس راوی کو کتاب الثقات میں ذکر کرنا غلط ہے۔
٭دوسرے  یہ کہ اسماعیل بن یعقوب نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے یہ قصہ کس سے سنا تھا؟
ہمارے علم کے مطابق کسی محدث نے محمد بن المنکدر رحمہ اللہ سے اس کی کسی ملاقات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا اور منقطع روایت مردود ہوتی ہے۔
عصرِ حاضر میں لکھی ہوئی اصولِ حدیث کی ایک مشہور کتاب میں لکھا ہوا ہے:
"المنقطع ضعیف بالاتفاق بین العلماء و ذلک للجھل بحال الراوي المحذوف"
علماء کا اتفاق ہے کہ منقطع ضعیف ہے اور یہ اس وجہ سے کہ اس کا حذف شدہ راوی مجہول الحال ہوتا ہے۔ (تیسیر مصطلح الحدیث: ص ۷۸)
خلاصہ یہ کہ امام محمد بن المنکدر رحمہ اللہ کی طرف منسوب یہ قصہ ثابت نہیں، لہٰذا اس قصے سے بعض قبر  پرستوں کا استدلال کرنا غلط ہے۔

Sunday, September 28, 2014

٭ کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے آپ کو منافق سمجھتے تھے؟


کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے آپ کو منافق سمجھتے تھے؟  (رافضی  دلیل کا جواب)
محمد حسین نجفی (رافضی شیعہ) نے لکھا ہے:
"عُمر صاحب عموماً جناب حذیفہ سے (جن کو آنحضرت نے بعض منافقین کے نام بتائے تھے اس لئے انکو صحاب السرِّ (رازدارِ رسول) کہا جاتا تھا) دریافت کیا کرتے تھے کہ کہیں میرا نام تو منافقوں میں نہیں؟ مگر وہ حکمِ نبوی کے مطابق بتانے سے گریز کرتے۔ بالآخر ایک دن خود ہی کہہ دیا۔
باللہ یا حذیفة انا من المنافقین۔ اے حذیفہؓ ! خدا کی قسم میں منافقوں میں سے ہوں" (تجلیاتِ صداقت للمحمدحسین نجفی رافضی بحوالہ میزان الاعتدال: ج۱ص 365)
ضعیف و مردود: میزان الاعتدال میں یہ روایت بے سند ہے، لیکن درج ذیل کتابوں میں یہ اعمش عن زید بن وہب کی سند سے مذکور ہے:
1: مصنف ابن ابی شیبہ (۱۰۷/۱۵ح۳۷۳۷۹)
2:السنة للخلال (۱۲۸۸،۱۶۳۰)
3: کتاب المعرفة (التاریخ للامام یعقوب بن سفیان الفارسی : ۷۷۹/۲)
4: مسند مسدد (بحوالہ المطالب العالیہ لابن حجر : ۳۷۳۷ وقال: "إسنادہ صحیح" !!)
ان تمام کتابوں میں اس روایت میں اعمش کے زید بن وہب سے سماع کی تصریح موجود نہیں اور سلیمان بن مہران الاعمش ثقہ مدلس تھے۔ اگرچہ حافظ ابن حجر نے اس سند کو اسنادہ صحیح اور اعمش کو طبقات المدلسین کے طبقہ ثانیہ میں ذکر کیا ہے لیکن اُن کی یہ تحقیق جمہور محدثین اور اصولِ حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے غلط ہے۔
1: اعمش کے شاگرد امام شعبہ نے فرمایا: تین آدمیوں کی تدلیس کے لئے میں تمہارے لئے کافی ہوں: اعمش، ابو اسحاق اور قتادہ۔ (مسألة التسمیہ لابن طاہر المقدسی: ص ۴۷ وسندہ صحیح)
یعنی امام شعبہ کی روایت کے علاوہ اعمش کی معنعن روایت ضعیف ہوتی ہے۔
2:حافظ ابن حبان نے اعمش کو ان مدلس رایوں میں ذکر کیا جن کی عن والی روایت حافظ ابن حبان کے نزدیک حجت نہیں ہوتی، الا یہ کہ وہ تصریح  سماع کریں۔ (دیکھئے کتاب المجروحین:۹۲/۱ دوسرا نسخہ:۸۶/۱، صحیح ابن حبان:۱۶۱/۱دوسرا نسخہ:۹۰/۱)
3:اعمش ضعیف راویوں سے بھی تدلیس کرتے تھے۔ (مثلاً دیکھئے میزان الاعتدال: ۲۲۴/۲)
اور جو راوی ضعیف راویوں سے تدلیس کرے تو اس کی عن والی روایت (بالاولیٰ) مردود ہوتی ہے۔ (نیز دیکھئے الموقظۃ [فی اصول الحدیث] للذہبی: ص۱۹۹)
4: اعمش کا مدلس ہونا ناقابلِ تردید حقیقت ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:
جس کے بارے میں ہمیں معلوم ہوگیا کہ اس نے ایک دفعہ  تدلیس کی ہے تو اُس نے اپنی پوشیدہ بات ہمارے سامنے ظاہر کردی۔ ۔ ۔ پس ہم نے کہا: ہم کسی مدلس سے کوئی حدیث قبول نہیں کرتے حتیٰ کہ وہ حدثنی یا سمعت کہے۔ (الرسالۃ: ۱۰۳۳،۱۰۳۵)
5:خود حافظ ابن حجر نے اپنی دوسری کتاب النکت علیٰ ابن الصلاح (۶۴۰/۲) میں اعمش کو طبقہ ثالثہ میں ذکر کیا ، نیز اعمش کی بیان کردہ ایک معنعن روایت کو معلول (ضعیف)  قرار دیا اور فرمایا: اعمش مدلس ہیں اور انہوں نے عطاء سے اپنے سماع کا ذکر نہیں کیا۔ (التلخیص الحبیر: ۱۹/۳ح۱۱۸۱)
یعنی خود حافظ ابن حجر کے نزدیک اعمش کثرت سے تدلیس کرنے والے ہیں۔
ثابت ہوا کہ اعمش کی یہ عن والی روایت ضعیف ومردود ہے لہٰذا امام یعقوب بن سفیان الفارسی رحمہ اللہ کا زید بن وہب پر جرح کرنا غلط ہے، وہ تو اس روایت ہی سے بری ہیں۔
(اہل سنت میں سے)  جو لوگ مروجہ طبقات المدلسین پر  آنکھیں بند کرکے ایمان رکھتے ہیں وہ ذرا ہوش سے کام لیں او ر دیکھیں  مدلسین کی معنعن روایات سے کیا کیا تباہیاں واقع ہورہی ہیں۔
 روایت کے ضعیف ومردود ہونے کے بعد عرض ہے کہ اس روایت میں یہ ہرگز نہیں لکھا ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے آپ کو منافق سمجھتے تھے بلکہ صرف یہ لکھا ہوا ہے:
" فقال: أبا منھم أنا؟" پس عمر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: اللہ کی قسم! کیا میں بھی اُن میں سے  ہوں؟ حذیفہ (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: "لا" نہیں۔ (دیکھئے المطالب العالیہ: ۲۴۰/۸ بحوالہ مسدد)
اس ضعیف روایت سے بھی یہی ظاہر ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو منافق نہیں کہا تھا بلکہ تواضع کے طور پر سوال کیا تھا اور حذیفہ رضی اللہ عنہ نے"لا" کہہ کر یہ فیصلہ کردیا کہ سیدنا عمر منافق نہیں بلکہ سچے مومن ہیں۔
اس بات کو چھپا کر محمد حسین نجفی نے اپنے اسلاف کا منہج و طرزِ عمل تازہ کردیا ہے۔
ہمارے نزدیک تو یہ روایت ضعیف یعنی مردود ہے، لہٰذا اس پر استدلال کی بنیاد رکھنا بھی باطل ومردود ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان کی گواہی نبی اکرم ﷺ کی اپنی زبانِ مبارک سے:
٭بے شک اللہ  نے عمر (رضی اللہ عنہ) کے دل و زبان پر حق جاری کر رکھا ہے۔ (صحیح ابن حبان، موارد الظمآن: ۲۱۸۴ وسندہ صحیح)
٭رسول اللہ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کے دین کی گواہی دی (صحیح بخاری: ۳۶۹۱، صحیح مسلم: ۳۳۹۰)
٭نبی کریم ﷺ نے جنت میں سیدنا  و مولی عمر رضی اللہ عنہ کا محل دیکھا تھا۔ (صحیح بخاری: ۵۲۲۶،۷۰۲۴، صحیح مسلم:۳۳۹۴)
٭رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جنتی کہا۔ (سنن ترمذی: ۳۷۴۷ وسندہ صحیح)
٭امام ابو جعفر محمد بن علی الحسین الباقر رحمہ اللہ نے فرمایا: جس شخص کو ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل معلوم نہیں، وہ شخص سنت سے جاہل ہے۔ (کتاب الشریعۃ للآجری: ص۸۵۱ح۱۸۰۳، وسندہ حسن لذاتہ)
٭امام جعفر بن محمد الصادق رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ اس شخص سے بری ہے جو ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) سے بری ہے۔ (فضائل الصحابہ للامام احمد بن حنبل: ۱۶۰/۱ح۱۴۳، وسندہ صحیح)
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے دلوں کو سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، تمام صحابۂ کرام، ازواج مطہرات اور تمام اہل بیت کی محبت سے بھر دے۔ آمین

Saturday, September 27, 2014

٭ امام مسلم رحمہ اللہ کی وفات کا قصہ: کیا امام مسلم کھجوریں کھانے سے فوت ہوئے؟

Kya Imam Muslim ki Wafat Khajoorain Khane ki Waja se Huwi? -   امام مسلم رحمہ اللہ کی وفات کا قصہ: کیا امام مسلم کھجوریں کھانے سے فوت ہوئے
امام مسلم رحمہ اللہ کی وفات کا قصہ

 ابو الحسین مسلم بن الحجاج کے لئے ایک مجلس مذاکرہ منعقد کی گئی، پھر ان کے سامنے ایک حدیث بیان کی گئی جسے انہوں نے نہیں پہچانا، پھر وہ اپنے گھر تشریف لے گئے اور چراغ جلا لیا او گھر والوں سے کہا: اس کمرے میں تم میں سے کوئی بھی داخل نہ ہو۔ ان سے عرض کیا گیا کہ ہمارے پاس کھجور کی ایک ٹوکری بطورِ تحفہ آئی ہے تو آپ نے فرمایا: میرے پاس لے آؤ۔ پھر وہ ان کے پاس (یہ ٹوکری) لے آئے تو آپ حدیث تلاش کرتے رہے اور ایک ایک کھجور چبا کر کھاتے رہے۔ صبح ہوئی تو کھجوریں ختم ہوچکیں تھیں اور حدیث مل گئی۔
محمد بن عبد اللہ (حاکم نیشاپوری) نے فرمایا: مجھے اپنے ساتھیوں میں سے ایک ثقہ (؟) نے مزید بتایا کہ:
 وہ ان( کھجوروں کے کھانے) سے فوت ہوئے تھے۔۔۔

Thursday, September 25, 2014

٭ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا زہر پینا


سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا زہر پینا
ابو سفر، سعید بن یحمد کا بیان ہے:
((نذل خالد بن الولید الحیرة علی أمربني المرازبة، فقالوا له: احذر السم، لا یسقیکه الأعاجم، فقال: ائتوني به، فأتي به، فأخذہ بیدہ، ثم اقتحمه، وقال: بسم اللہ، فلم یضرۃ شیئا))
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بنو مرازبہ کے معاملے میں حیرہ آئے، تو لوگوں نے کہا: ہوشیار رہیے، کہیں عجمی لوگ آپ کو زہر نہ پلا دیں۔ آپ نے فرمایا: زہر میرے پاس لاؤ۔ زہر لایا گیا، تو آپ نے اپنے ہاتھ میں پکڑا اور بسم اللہ پڑھ کر اسے نگل لیا۔ زہر نے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔“
(مسند أبي یعلٰی:۷۱۸۶، فضائل الصحابة للإمام أحمد بن حنبل: ۱۴۷۸، دلائل النبوةللبیھقي: ۱۰۶/۷، دلائل النبوة لأبي نعیم الأصبھاني: ۴۴۵/۱، تاریخ ابن عساکر: ۲۵۱/۱۶)
ضعیف:اس روایت کی سند  "منقطع" ہونے کی وجہ سے "ضعیف" ہے، کیونکہ:
٭ ابو سفر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں۔
٭معجم کبیر طبرانی (۱۰۵/۴) میں ابو بردہ، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، لیکن ابو بردہ کا بھی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔
٭مذکورہ دونوں روایات کے بارے میں حافظ ہیثمی فرماتے ہیں:
"یہ روایت مرسل (منقطع) ہے۔ ان دونوں سندوں کے راوی ثقہ ہیں، البتہ ابو سفر اور ابو بردہ دونوں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا۔" (مجمع الزوائد: ۳۵۰/۹)
٭ جبکہ المعجم الکبیرللطبراني( ۱۰۶/۴، ح ۳۸۰۹)،فضائل الصحابة للإمام أحمد بن حنبل( ۱۴۸۱، ۱۴۸۲)، تاریخ ابن عساکر(۲۵۲/۱۶) میں ہے کہ:
قیس بن ابو حازم سے یہ بیان منسوب ہے: "میں نے دیکھا کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس زہر لایا گیا۔ آپ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ زہر ہے۔ آپ نے بسم اللہ پڑھ کر اسے نگل لیا۔"
ضعیف: اس کی سند "ضعیف" ہے، کیونکہ سفیان بن عیینہ اور ان کے استاذ اسماعیل بن ابو خالد، دونوں "مدلس" ہیں۔ ان کے سماع کی تصریح نہیں مل سکی۔
فائدہ: ویسے بھی زہر حرام اور مہلک چیز ہے۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر  صحابی رسول سے ایسی چیز کا پینا عقلی طور پر بھی ممکن  معلوم نہیں ہوتا۔

Sunday, September 21, 2014

٭ باغِ فدک


باغِ  فَدَک
 سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منسوب روایت ہے کہ:
(( لَمَّا نَزَلَت ھٰذِہِ الآیَةُ :"  وَآتِ ذَا القُربٰی حَقَّہُ " (بنی إسرائیل17: 26) دَعَا رَسُولُ ﷺ فَاطِمَةَ فَأَ عطَاھَا فَدَکَ ))
جب یہ فرمان باری تعالیٰ نازل ہوا کہ "اپنے عزیز و اقارب کو ان کا حق دیجئے"، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر باغِ فدک دے دیا۔“
 (مسند البزّار(کشف الأستار): 2223)
موضوع (من گھڑت) :یہ روایت من گھڑت ہے کیونکہ:
اس کے راوی عطیہ عوفی کو  جمہور محدثینِ کرام نے "ضعیف "قرار دیا ہے۔
(تھذیب الأسماء واللغات للنوي:48/1، طرح التثریب لابن العراقي: 42/3، مجمع الزوائد للھیثمي: 412/1، البدرالمنیر لابن الملقن: 463/7، عمدۃ القاري للعیني: 250/6)
اس کو امام یحییٰ بن سعید قطان، امام احمد بن حنبل، امام یحییٰ بن معین، امام ابو حاتم رازی، امام ابو زرعہ رازی، امام نسائی، امام ابن عدی، امام دارقطنی، امام ابن حبان اور علامہ جوزجانی رحمہم اللہ وغیرہ نے "ضعیف" قرار دیا ہے۔
 اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہوگیا تھا، جیساکہ :
٭حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "عطیہ عوفی کے ضعیف ہونے پر محدثین کرام نے اتفاق کرلیا ہے۔" (الموضوعات: 386/1)
٭نیز حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کرام کا اجماع ہے۔" (المغنی في الضعفاء: 62/2)
٭حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ باتفاقِ محدثین ضعیف ہے۔" (البدر المنیر: 313/5)
عطیہ عوفی تدلیس کی بُری قِسم میں بُری طرح ملوث تھا۔
٭ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ کمزور حافظے والا تھا اور بُری تدلیس کے ساتھ مشہور تھا۔" (طبقات المدلّسین، ص: 50)
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ زیر بحث روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: "یہ روایت باطل ہے، اگر واقعی ایسا ہوتا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس چیز کا مطالبہ کرنے نہ آتیں جو پہلے سے ان کے پاس موجود اور ان کی ملکیت میں تھی۔" (میزان الاعتدال: 135/3)
٭حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اگر اس روایت کی سند صحیح بھی ہو تو اس میں اشکال ہے، کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور فدک تو سات ہجری میں خیبر کے ساتھ فتح ہوا۔ کیسے اس آیت کو اس واقعہ کے ساتھ ملایا جاسکتا ہے۔" (تفسیر ابن کثیر:69/5م بتحقیق الدکتور سلامۃ)
تنبیہ: عطیہ عوفی اپنے استاذ ابو سعید محمد بن السائب الکلبی (کذاب) سے روایت کرتے ہوئے "عن  أبي سعید" یا "حدثني أبو سعید" کہہ کر روایت کرتے ہوئے یہ دھوکا دیتا تھا کہ وہ سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے  یہ روایت بیان کررہا ہے۔ یہ(والی) تدلیس حرام اور بہت بڑا فراڈ ہے۔ یاد رہے کہ عطیہ عوفی اگر عن ابی سعید کے ساتھ الخدری کی صراحت بھی کردے تو اس سے الکلبی ہی مراد ہے، سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ مراد نہیں ہیں۔
تفصیل کے لیے دیکھئے کتاب المجروحین لابن حبان (176/2)

 صحیح حدیث:   متواتر حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"ہماری میراث نہیں ہوتی۔ ہم (انبیاء) جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔" (صحیح البخاری:6727، صحیح مسلم: 1761، عن أبي ھریرۃ)