تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Thursday, February 06, 2014

٭ نصف (15)شعبان سے متعلق ضعیف روایات

خاص پندرہویں شعبان کی رات  مغفرت کی رات

عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
 إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ
اللہ تبارک و تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ، اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بال سے بھی  زیادہ کی تعداد میں لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔“
(ترمذی :۷۳۹ )
ضعیف: یہ روایت ضعیف ہے ،کیونکہ؛
۱: حجاج بن ارطاۃ ضعیف عند الجمہور اور مدلس راوی ہے، یحیی بن ابی کثیر بھی مدلس ہیں۔
٭اس روایت کے سلسلے میں امام ترمذی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يُضَعِّفُ هَذَا الْحَدِيثَ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ
"میں نے امام بخاری کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اسے یحیی (بن ابی کثیر) نے عروہ سے نہیں سنا اور نہ حجاج بن ارطاۃ نے نے اسے یحیی (بن ابی کثیر) سے سنا ہے۔"  (سنن الترمذی:۷۳۹)
٭شیخ البانی نے بھی اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔  (ضعیف الترمذی)

No comments:

تبصرہ کیجئے