تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Saturday, June 21, 2014

٭ گھوڑا کھانا حرام ہے


گھوڑا کھانا  حرام ہے 
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
أنّ رسول اللہ ﷺ نھی عن أکل لحوم الخیل و البغال و الحمیر، و کلّ ذی ناب من السباع
"بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے گھوڑے، خچر اور گھریلوگدھے کے گوشت اور ہر کچلی والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا۔”(مسند الامام احمد:89/4، سنن ابی داؤد:379، سنن ابن ماجہ:3198۔ شرح معانی الآثار للطحاوی:210/4، المعجم الکبیر للطبرانی:3822، سنن الدارقطنی:287/4، التمھید لابن عبد البر:128/10)

ضعیف: یہ حدیث "ضعیف "ہے۔(لیکن اس حدیث میں مذکور گھریلو گدھے، خچر اور ہر کچلی والے درندے دوسری صحیح احادیث کی روشنی میں حرام ہیں)
٭علامہ سندھی حنفی بلا ردّ و تردید لکھتے ہیں: "علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اس بات کو حافظ نووی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے۔" (حاشیة السندی علی النسائی:202/7)
٭حافظ بیہقی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "یہ حدیث ثابت نہیں اور اس کی سند مضطرب ہے۔" (السنن الصغرٰی للبیھقی:63/4-64)
٭امام عقیلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "ان دونوں (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی گھوڑے کے حلال ہونے والی حدیثوں) کی سند اس حدیث کی سند سے اچھی ہے۔" (الضعفاء الکبیر للعقیلی:206/2)
٭حافظ بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس کی سند ضعیف ہے۔" (شرح السنة للبغوی:255/11)
٭علامہ ابنِ حزم رحمہ اللہ نے تو اسے "موضوع (من گھڑت)" کہا ہے۔ (المحلی:100/8)
٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی(مذکورہ) حدیث صحیح نہیں، امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث منکر ہے اور امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ منسوخ ہے۔" (التلخیص الحبیر لابن حجر:141/4)
اس حدیث کی سند   کا دارومدار صالح بن یحییٰ بن المقدام راوی ہے۔
٭ اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس راوی میں کلام ہے" (التاریخ الکبیر للبخاری:293/4)
٭حافظ موسیٰ بن ہارون الحمال رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "صالح بن یحیٰ اور اس کے باپ کی روایت صرف اس کے دادا (مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ) سے ہی معلوم ہوئی ہے ، اور یہ حدیث ضعیف ہے۔" (سنن دارقطنی:278/4، و سندہ صحیح)
٭علامہ ابن حزم نے اسے "مجہول " کہا ہے۔ (المحلی لابن حزم:100/8)
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اسے "مجہول" کہا ہے۔ (دیوان الضعفاء للذھبی)
٭حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے "لین" کہا ہے۔ (تقریب التھذیب لابن حجر:2894)


صحیح روایات:
٭سیدنا اسماء بنت ِ ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں:  نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺَأَكَلْنَاهُ ‏.
 "ہم نے رسول اللہﷺ کے عہدِ مبارک میں گھوڑا ذبح کیا، پھر اس کو کھالیا۔" (صحیح البخاری:5519، صحیح مسلم:1942/سنن النسائی:4426 کی روایت میں ہے: ہم اس وقت مدینے میں تھے، پھر ہم  نے اسے کھایا۔)
فائدہ: حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ حدیث زیادہ بہتر دلیل، زیادہ قوی اور زیادہ ثابت ہے، جمہور علمائے کرام، جیسے امام مالک، امام شافعی، امام احمد اور ان کے اصحاب رحمہم اللہ اسی طرف گئے ہیں اور اکثر سلف و خلف کا یہی مذہب ہے۔" (تفسیر ابن کثیر:34/4، بتحقیق عبد الرزاق المھدی)
تنیبہ: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور چند مالکیوں کے علاوہ باقی تمام جمہور ائمہ دین   اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد  ابو یوسف اور محمد بن حسن الشیبانی بھی گھوڑا حلال ہونے کے قائل تھے۔ دیکھئے (شرح معانی الآثار للطحاوی:210/4)
٭سیدنا جابر بن عبد اللہ  رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: "بے شک رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمادیا اور گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت فرمائی۔" (صحیح البخاری:5520، صحیح مسلم: 1941)

الحاصل: گھوڑا حلال ہے، کیونکہ اس کے حرام ہونے پر قرآن  وحدیث میں کوئی ثبوت نہیں، اس کے برعکس اس کی حلت پر قوی احادیث موجود ہیں۔
٭جناب اشرف علی تھانوی دیوبندی صآحب لکھتے ہیں: "گھوڑے کا کھانا جائز ہے، لیکن بہتر نہیں۔" (بھشتی زیور ازتھانوی: حصہ سوم، صفحہ نمبر 56، مسئلہ نمبر 2)
٭جناب مفتی کفایت اللہ دہلوی دیوبندی صاحب ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
سوال: کن جانوروں کا جوٹھا پانی پاک ہے؟
جواب: آدمی اور حلال جانوروں کا جوٹھا پانی پاک ہے، جیسے گائے، بکری، کبوتر، گھوڑا! (تعلیم الاسلام از کفایت اللہ:36)

 

Friday, June 13, 2014

٭ پندرہ شعبان کی رات اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں


پندرہ شعبان کی رات اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: "ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ پندرہویں شعبان کی رات کے وقت میری باری تھی، رسول اللہ ﷺ میرے پاس سوئے ہوئے تھے، جب آدھی رات ہوئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو بستر سے گم پایا، مجھے ناگواری ہوئی، جیسے عورتوں کی عادت ہوتی ہے، میں نے چادر اوڑھ لی، اللہ کی قسم! وہ چادر نہ اون اور ریشم کی تھی، نہ خام ریشم کی تھی، نہ ہی ریشم کی تھی، نہ ہی ریشمی کپڑے کی تھی، جس کا تانا بانا ریشم کا ہوتا ہے، نہ روئی کی تھی، نہ ہی سنی کے کپڑے کی تھی، پوچھا گیا، وہ چادر کس چیز کی بُنی ہوئی تھی؟ فرمایا:، اس کا تانا بکری کے بالوں کا اور بانا اونٹ کی بالوں سے بنا گیا تھا، میں نے آپ ﷺ کو دیگر ازواج کے حجروں میں تلاش کیا، وہاں بھی آپ ﷺ نہ ملے، میں اپنے حجرے میں واپس لوٹ آئی، ناگہاں آپ ﷺ پر ایک کپڑا تھا جو زمین پر گرا ہوا تھا، آپ حالتِ سجدہ میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے: سجد للہ سوادی و خیالی، وآمن بک فؤادی، ھذہ یدی، وما جنیت بھا علی نفسی، یا عظیم الرّجاء لکلّ عظیم، اغفر الذّ نب العظیم، سجد و جھی للّذی خلقہ، وشقّ سمعہ۔
آپ ﷺ فارغ ہوکر میرے پاس چادر میں گھس گئے، اس رات میری سانس پھول گئی، مجھے کیا ہوگیا، میں نے ایسا کیوں کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: سانس کیوں پھول رہی ہے؟ میں نے ساری کاروائی کے بارے میں آپ ﷺ کو آگاہ کیا، آپ نے اپنا ہاتھ مبارک میرے گھٹنوں پر پھیرنا شروع کیا اور فرمایا: ناس ہو ان دونوں گھٹنوں کی جو اس رات پندرہویں شعبان کو نہ مل سکے (یعنی عبادت نہ کرسکے)، اس رات اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر اترتا ہے، مشرک اور اپنے مسلمان بھائی سے بغض و عداوت رکھنے والے کے علاوہ اپنے تمام بندوں کی بخشش فرمادیتے ہیں۔"
(کتاب احادیث النّزول للدارقطنی:134، کتاب الدعاء للطبرانی:557، شعب الایمان للبیہقی:3838)


ضعیف
: اس کی سند 'ضعیف' ہے، اس میں سلیمان بن ابی کریمہ الشامی راوی 'ضعیف' ہے، جو کہ منکر روایات بیان کرتا ہے۔
٭امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ اسے 'ضعیف' کہتے ہیں۔ (الجرح و التعدیل:138/4)
٭امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی سب احادیث منکر ہیں۔ (الکامل لابن عدی: 263/3)
٭امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ منکر روایات بیان کرتا ہے، اس کی کثیر روایات پر متابعت نہیں کی گئی۔  (الضعفاء للعقیلی:138/2)
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کو 'ضعیف' کہا ہے۔ (مجمع الزوائد:119/7، 43/10، 89، 258، 418)
لہٰذا یہ روایت 'ضعیف' اور ناقابل عمل ہے۔
٭حافظ ابن الجوزی فرماتے ہیں: یہ حدیث صحیح نہیں۔ (العلل المتناھیۃ:68/2)
٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اس کی سند میں سلیمان بن ابی کریمہ راوی ہے، اسے ضعیف قرار دیتے ہوئے امام ابن عدی رحمہ اللہ نے فرمایا  ہے کہ اس کی اکثر احادیث منکر ہوتی ہیں۔ (التلخیص الحبیر:254/1)
اس حدیث کے طرق بھی ہیں:
1: (کتاب احادیث النزول للدارقطنی:135، فضائل الاوقات للبیھقی:26)
اس کی سند 'ضعیف 'ہے، اس کا راوی العضر بن کثیر 'ضعیف' ہے۔ (تقریب التھذیب: 7148)
2: (فضائل الاوقات للبیھقی:27، العلل المتانھیۃ:918)
اس کی سند بھی 'ضعیف' ہے ، سعید بن عبد الکریم راوی کی توثیق مطلوب ہے۔
3:(شعب الایمان للبیھقی:3835) یہ 'مرسل' ہونے کی وجہ سے 'ضعیف' ہے، کیونکہ العلاء بن الحارث کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں ہے، اس میں ایک اور وجہ ضعف بھی ہے۔
4: (میزان الاعتدال للذھبی:55/4 فی ترجمہ محمد بن یحییٰ) اس کی سند 'ضعیف' ہے، محمد بن یحییٰ بن اسمعٰیل التمیمی التمار کے بارے میں امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پندیدہ راوی نہیں ہے۔ (سوالات حمزۃ بن یوسف السھمی للدارقطنی:31)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نے ایک (مذکورہ) منکر حدیث بیان کی ہے۔
5:(شعب الایمان للبیھقی:3837) اس کی سند'سخت ترین ضعیف' ہے، سلام الطّویل نامی راوی 'متروک' ہے۔ (تقریب التھذیب:3702)
اس کا دوسرا  راوی سلام بن سلیمان المدائنی بھی 'ضعیف' ہے۔ (تقریب التھذیب: 2704)
6:(معجم الشیوخ لابی بکر الاسماعیلی:408/1-409) اس کی سند 'مجہول' راویوں کی وجہ سے 'ضعیف' ہے۔
7: (العلل المتناھیۃ لابن الجوزی:69/2، ح:919) اس کی سند ' سخت ترین ضعیف' ہے، اس کا  ایک راوی عطاء بن عجلان 'متروک و کذاب' اور 'وضاع' ہے۔
ثابت ہوا کہ اس حدیث کے جمیع طرق 'ضعیف' ہیں۔


٭ نصف شعبان کی رات اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں


پندرہ شعبان کی رات اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کو بستر سے گم پایا، میں آپ کی تلاش میں نکلی، اچانک دیکھا کہ آپ بقیع میں ہیں اور اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے ہیں، بعد ازاں آپ ﷺ نے فرمایا، کیا آپ کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول آپ پر ظلم کریں گے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، میں نے کہا، اے اللہ کے رسول! ایسی کوئی بات نہیں ہے، لیکن میرا یہ گمان تھا کہ آپ اپنی بعض ازواج کے ہاں تشریف لے گئے ہوں گے،  آپ ﷺ نے فرمایا:
انّ اللہ عزّوجلّ ینزل کلّ لیلۃ النّصف من شعبان، فیغفر من الذّ نوب أکثر من شعر غنم کلب
"اللہ تعالیٰ پندرہ شعبان کی رات کو آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں اور کلب قبیلہ کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ انسانوں کی مغفرت فرماتے ہیں۔“
(سنن الترمذی:739، سنن ابن ماجہ:1389،مسند الامام احمد:238/6،کتاب احادیث النّزول للدارقطنی:130، مسند عبد بن حمید:1507، شعب الایمان للبیھقی:3824، العلل المتناھیۃ لابن الجوزی:915 ، وسندہ ضعیف)


ضعیف
: ٭امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے سنا کہ وہ اس حدیث کو ضعیف قرار دیے رہے تھے، آپ نے فرمایا، یحییٰ بن ابی کثیر نے عروہ سے اور حجاج بن ارطاۃ نے اس حدیث کو یحییٰ بن ابی کثیر سے نہیں سنا۔" (جامع ترمذی، تحت حدیث: 739)
٭حجاج بن ارطاۃ جمہور کے نزدیک 'ضعیف' ہیں، نیز 'مدلس' بھی ہیں۔
٭اس میں یحییٰ بن ابی کثیر راوی بھی 'مدلس' ہیں جوکہ 'عن' سے روایت کرہے ہیں۔

٭ پندرہ شعبان کی رات عبادت کا اجر


پندرہ شعبان کی رات عبادت کا اجر

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”جس نے پانچ راتوں کو زندہ کیا (بیدار ہوکر عبادت کی) اس کے لیے جنت واجب ہوگئی،  تو یہ (راتیں) آٹھ ذوالحجہ کی رات، عرفہ کی رات، عید الفطراور عید الاضحیٰ کی راتیں اور پندرہ شعبان کی رات (ہے)۔“ (الترغیب و الترھیب للاصبہانی:327)
موضوع (من گھڑت) : یہ روایت موضوع ہے، اس کا راوی عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم جمہور کے نزدیک  "ضعیف" ہے۔
٭ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: روی عن أبیہ أحادیث موضوعۃ  "اس نے اپنے باپ سے موضوع احادیث بیان کی ہیں۔" (المدخل للحاکم: ص 154)
یہ روات بھی اس نے اپنے باپ سے بیان کی ہے، لہٰذا  یہ روایت موضوع و من گھڑت ہے۔

Monday, June 09, 2014

٭ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا خواب

سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا خواب
 
سیدناابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
"إن بلالاً  راٰی في منامه النبي (ﷺ)، وھو یقول له: "ما ھذہ الجفوۃ یا بلال ! أما اٰن لک أن تزورني یا بلال؟" فانتبه حزینا وجلا خائفا، فرکب راحلته و قصد المدینة، فاتٰی قبر النبي (ﷺ)، فجعل یبکي عنده، ویمرغ وجھه علیه، واقبل الحسن و الحسین، فجعل یضمھما ویقبلھما، فقالا له :  یابلال! نشتھي نسمع أذانک الذي کنت تؤذنه لرسول اللہ (ﷺ) في السحر، ففعل، فعلا سطح المسجد، فوقف موقفه الذي کان یقف فیه، فلما أن قال: اللہ أکبر، اللہ أکبر، ارتجت المدینة، فلما أن قال: أشھد أن لا إلہ إلا اللہ، زادتعاجیجھا، فلما أن قال: أشھد أن محمدا رسول اللہ، خرج العواتق من خدورھن، فقالوا: أبعث رسول اللہ (ﷺ)، فما رئي یوم أکثر باکیا ولا باکیة بعد رسول اللہ (ﷺ) من ذٰلک الیوم۔"
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے خواب میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اے بلال! یہ کیا زیادتی ہے؟ کیا تمہارے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ تم میری زیارت کرو؟ اس پر بلال رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے بیدار ہوئے۔ انہوں نے اپنی سواری کا رخ مدینہ منورہ کی طرف کرلیا۔ نبی اکرم ﷺ کی قبر مبارک پر پہنچے اور اس کے پاس رونا شروع کردیا۔ اپنا چہرہ اس پر ملنے لگے۔ سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما ادھر آئے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے معانقہ کیا اور بوسہ دیا۔ ان دونوں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: ہم آپ کی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ مسجد میں رسول اللہ ﷺ کے لیے کہا کرتےتھے۔ انہوں نے ہاں کردی۔ مسجد کی چھت پر چڑھے اور اپنی اس جگہ کھڑے ہوگئے جہاں دورِ نبوی میں کھڑے ہوتے تھے۔ جب انہوں نے "اللہ اکبر، اللہ اکبر" کہا تو مدینہ (رونے کی آواز سے) گونج اٹھا۔ پھر جب انہوں"أشھد أن لاإلہ إلااللہ " کہا تو آوازیں اور زیادہ ہوگئیں۔ جب وہ "أشھد أن محمدا رسول اللہ" پر پہنچے تو دو شیزائیں اپنے پردوں سے نکل آئیں اور لوگ ایسے ایک دوسرے سے پوچھنے لگے: کیا رسول اللہ ﷺ دوبارہ زندہ ہوگئے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نے مدینہ میں مردوں اور عورتوں کے رونے والا اس سے بڑا دن کوئی نہیں دیکھا۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر: ۱۳۷/۷ )
 
موضوع (من گھڑت): یہ روایت تاریخ دمشق لابن عساکر: ۱۳۷/۷ میں  "قال ابن عساکر: أنبأنا أبو محمد بن الأکفانی: نا عبد العزیز بن أحمد: أنا تمام بن محمد: نا محمد بن سلیمان: نا محمد بن الفیض: نا أبو إسحاق إبراھیم بن محمد بن سلیمان بن بلال بن أبی الدرداء: حدثنی أبي محمد ابن سلیمان عن أبیہ سلیمان بن بلال، عن ام الدرداء، عن أبی الدرداء، قال۔۔۔۔"
یہ روایت  گھڑنتل (من گھڑت) ہے۔
٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ داستان واضح طور پر کسی کی گھڑنت ہے۔" (لسان المیزان: ۱۰۸/۱)
٭علامہ ابن الہادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے منسوب مذکورہ روایت ثابت نہیں۔" (الصارم المنکي في الرد علی السبکي، ص: ۳۱۴)
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس کی سند کمزور ہے اور یہ روایت منکر ہے۔" (سیر أعلام النبلاء: ۳۵۸/۱)
٭ ابن عراق کنانی کہتے ہیں: "یہ قصہ مبینہ طور پر گھڑا ہوا ہے۔" (تنزیۃ الشریعۃ: ۵۹)
٭حافظ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ اس روایت کے بارے آخری فیصلہ سناتے ہوئے فرماتے ہیں : "یہ روایت غریب اور منکر ہے۔ اس کی سند مجہول اور اس میں انقطاع بھی ہے۔"
٭علامہ شوکانی یمنی نے فرمایا: "اس کی کوئی اصل نہیں۔" (الفوائد المجموعہ ص ۴۰)
٭ ملا علی قاری حنفی نے اس کے موضوع (من گھڑت ) ہونے کا حکم نقل کیا۔ (المصنوع فی معرفة الحدیث الموضوع ص ۳۹۵)
اس روایت کی سند میں کئی خرابیاں ہیں: تفصیل یہ ہے:
1: ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن سلیمان بن ہلال کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ "مجہول " ہے۔ (تاریخ الإسلام: ۶۷/۱۷)
نیز فرماتے ہیں: "یہ نامعلوم راوی ہے۔" (میزان الاعتدال: ۶۴/۱، ت:۲۰۵)
 حافظ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "یہ ایسا راوی ہے جس کی امانت و دیانت اور ضبط و عدالت معلوم نہیں۔ یہ مجہول ہے اور نقل روایت میں غیر معروف ہے۔ اس سے محمد بن فیض کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی اور اس نے بھی یہ منکر قصہ اس سے روایت کیا ہے۔" (الصارم المکي، ص :۳۱۴)
2: اس روایت کے دوسرے راوی سلیمان بن ہلال بن ابو درداء کے بارے میں حافظ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ مجہول الحال شخص ہے۔ ہمارے علم کے مطابق اسے کسی ایک بھی عالم نے معتبر قرار نہیں دیا۔" (الصارم المنکي في الرد علی السبکي، ص:۳۱۴)
3: سلیمان بن بلال کا سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا سے سماع بھی ثابت نہیں، یوں یہ روایت منقطع بھی ہے۔ حافظ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس کا سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا سے سماع بھی معلوم نہیں ہوسکا۔" (الصارم المنکي في الرد علی السبکي، ص:۳۱۴)
تنبیہ: حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس کی سند عمدہ ہے۔ اس میں کوئی ضعیف راوی نہیں، البتہ یہ ابراہیم نامی راوی مجہول ہے۔" (تاریخ الإسلام:۳۷۳/۵، بتحقیق بشار، وفی نسخۃ:۶۷/۱۷)
 یہ علامہ ذہبی رحمہ اللہ کا علمی تسامح ہے۔ جس روایت کی سند میں دو راوی "مجہول" ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ انقطاع بھی ہو، وہ عمدہ کیسے ہوسکتی ہے؟
 پھر خود انہوں نے اپنی دوسر کتاب (سیر أعلام النبلاء:۳۵۸/۱) میں اس کی سند کمزور اور اس روایت کو "منکر" بھی قرار دے رکھا ہے جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں۔
اس بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ وغیرہ کی بات درست ہے کہ یہ قصا جھوٹا اور من گھڑت ہے۔ یہ ان "مجہول" راویوں میں سے کسی کی کاروائی ہے۔ و اللہ اعلم