تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Thursday, November 20, 2014

٭ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے شیعہ


شیعیت کا مقدمہ نامی کتاب کی جھوٹی اور مردود روایات

حسین الامینی صاحب (ایک شیعہ) کی کتاب : "شیعیت کا مقدّمہ" سے جھوٹی اور مردود روایات پیشِ خدمت ہیں، جن سے امینی مذکور نے اہلِ سنت کی بعض کتابوں کے حوالے دے کر استدلال کیا ہے، حالانکہ مذکورہ کتابوں کے مصنفین نے اپنی ان کتابوں میں روایات کے صحیح ہونے کا التزام نہیں کیا اور نہ اصولِ حدیث واسماءالرجال کی رُو سے یہ روایتیں صحیح یا حسن ہیں، بلکہ اس کے برعکس موضؤع، باطل ومردود ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے شیعہ
1:سیدنا جابر بن عبد اللہ الانصاری رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک روایت میں آیا ہے کہ ہم نبی ﷺ کے پاس موجود تھے، پھر علی (رضی اللہ عنہ) تشریف لائے تو نبی ﷺ نے  فرمایا :
والذي نفسي بیدہ! إن ھذا وشیعته ھم الفائزون یو م القیامة ۔ ۔ ۔
” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بے شک یہ (علی رضی اللہ عنہ) اور اُن کے شیعہ قیامت کے دن (جنت کے رفیع درجوں پر) فائز ہوں گے۔۔۔۔۔ الخ
(شیعیت کا مقدمہ ص ۵۰۔ ۵۱)



موضوع(من گھڑت): اس روایت کو امینی صاحب نے اپنے مخصوص ترجمے کے ساتھ کسی عبید اللہ امرتسری (؟)کی کتاب : ارجح فی مناقب اسد اللہ الغالب سے بحوالہ ابن عساکر، خوارزمی اور سیوطی (دُرِّ منثور) نقل کیا ہے۔
٭خوارزمی سے مراد اگر موفق بن احمد بن محمد بن سعید المکی خطیب خوارزم ہے تو یہ شخص معتزلی تھا۔ دیکھئے مناقب ابی حنیفہ للکردری (ج۱ص۸۸)
خوارزمی مذکور کی توثیق ثابت نہیں اور نہ اس کی کتاب کا کوئی اتہ پتا ملا ہے اور علمائے کرام نے یہ صراحت کی ہے کہ اس کی کتاب (فضائل علی رضی اللہ عنہ) میں (بہت زیادہ) موضوع  روایات ہیں۔ دیکھئے منہاج السنہ للحافظ ابن تیمیہ (۱۰/۳) اور المنتقیٰ من منہاج السنہ للذہبی (ص۳۱۲)
معلوم ہوا کہ خوارزمی کا بے سند حوالہ پیش کرنا بے کار ومردود ہے اور اُصولِ اہلِ سنت کے سرا سر خلاف ہے۔
٭سیوطی کی درمنثور میں یہ روایت بحوالہ ابن عساکر مذکور ہے۔ (ج۶ص۳۷۹، آخر سورۃ البینہ)
٭حافظ ابن عساکر کی کتاب: تاریخ دمشق (ج۴۵ص۲۴۳) میں یہ روایت سند سے موجود ہے، لیکن کئی وجہ سے موضوع ہے۔
۱: اس کا راوی ابو العباس ابن عقدہ رافضی اور چور تھا۔
٭امام دارقطنی نے فرمایا: "وہ گندا آدمی تھا" آپ اس کے رافضی ہونے کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ (دیکھئے تاریخ بغداد: ۲۲/۵، لسان المیزان: ۲۶۴/۱ت۸۱۷)
امام دارقطنی نے مزید فرمایا: "وہ منکر روایتیں کثرت سے بیان کرتا ہے۔" (تاریخ بغداد: ۲۲/۵ وسندہ صحیح)
٭ابو عمر محمد بن العباس بن محمد بن زکریا البغدادی المعروف بابن حیویہ نے فرمایا: "ابن عقدہ براثا (بغداد) میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ یا (سیدنا ) ابو بکر اور (سیدنا) عمر (رضی اللہ  عنہم) کی بُرائیاں اور سب وشتم لکھواتا تھا، میں نے جب یہ دیکھا تو اس کی حدیث کو ترک کردیا اور اس کے بعد میں اس سے کوئی چیز بھی روایت نہیں کرتا ہوں۔" (سوالات حمزہ السہمی: ۱۶۶، وسندہ صحیح)
٭محمد بن الحسین بن مکرم البغدادی البصری نے ایک سچا واقعہ بیان کیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابن عقدہ نے عثمان بن سعید المری رحمہ اللہ کے بیٹے کے گھر سے کتابیں چرالی تھیں۔  (دیکھئےالکامل لابن عدی ج۱ص۲۰۹وسندہ صحیح)
۲: ابن عقدہ رافضی کا استاد محمد بن احمد بن الحسن القطوانی نامعلوم (مجہول) ہے۔
۳: قطوانی کا استاد ابراہیم بن انس الانصاری نامعلوم ہے۔
4: انصاری کا استاد ابراہیم بن جعفر بن عبد اللہ بن محمد بن مسلمہ نامعلوم ہے۔
مجہول راوی کی روایت موضوع ہونے کیلئے دیکھئے: حافظ ذہبی کی تلخیص المستدرک (۶۰/۳ح۴۳۹۹)
خلاصۃ التحقیق یہ ہے کہ روایتِ مذکورہ موضوع ہے، لہٰذا بغیر جرح کے اس کا بیان کرنا حلال نہیں ہے۔


 
2: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (سیدنا) علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
ھوأنت وشیعتک یوم القیامة راضین  مرضین
” وہ لوگ تم اور تمہارے شیعہ ہیں۔ قیامت کے روز خوش اور خوشنود کیے گئے“
 (شیعیت کا مقدمہ ص۵۱ بحوالہ ابن مردویہ، ابونعیم فی الحلیہ، 
الدیلمی فی فردوس الاخبار اور السیوطی فی الدرالمنثور)
موضوع(من گھڑت): ٭ابن مردویہ کی کتاب نامعلوم یعنی مفقود ہے۔
٭درمنثور (۳۷۹/۶) میں یہ روایت بحوالہ ابن عدی مذکور ہے۔
٭اور الکامل لابن عدی، حلیۃ الاولیاء لابی نعیم، الفردوس للدیلمی تینوں کتابوں میں نہیں ملی، لہٰذا یہ بے سند ہونے کی وجہ سے مردود اور باطل ہے۔
٭حافظ ابن تیمیہ نے فرمایا: "ھو کذب موضوع باتفاق أھل المعرفة بالمنقولات” روایات کے ماہرین کا اتفاق (اجماع) ہے کہ یہ روایت جھوٹی من گھڑت ہے۔ (منہاج السنۃ النبویہ ج۴ص۷۰)
٭حافظ ذہبی نے فرمایا: "وان کنا جازمین بوضعه" اور اگر چہ بطورِ جزم اسے موضوع (جھوٹی من گھڑت روایت) سمجھتے ہیں۔ (المنتقیٰ من منہاج السنۃ ص۴۵۹)
خلاصہ یہ کہ اہلِ سنت کے نزدیک یہ روایت جھوٹی اور موضوع ہے، لہٰذا ابن عدی، ابن مردویہ یا کسی امرتسری کا نام لے کر اسے عوام کے سامنے بیان کرنا حرام ہے۔


3: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
ألم تسمع قول اللہ تعالیٰ: ان الذین آمنوآ وعملوا الصٰلحٰت اولئٰک ھم خیر البریة؟  أنت وشیعتک وموعدکم الحوض ۔ ۔ ۔
” یاعلی! کیا تُو نے اللہ کے فرمان کو نہیں سنا کہ تحقیق جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ سب سے بہترین مخلوق ہیں۔ وہ لوگ تم اور تمہارے شیعہ ہیں۔ میرا اور تمہارا وعدہ گاہ حوض کوثر ہے
 (شیعیت کا مقدمہ ص۵۲بحوالہ ابن مردویہ، خوارزمی اور درمنثور)
موضوع(من گھڑت): ٭ابن مردویہ کی کتاب مفقود ہے اور درمنثور (۳۷۹/۶) میں یہ روایت بحوالہ ابن مردویہ مذکور ہے، لہٰذا اس کی سند نامعلوم ہے۔
٭خوارزمی کے بارے میں دیکھئے حدیث سابق: ۱
خلاصہ یہ کہ یہ روایت بے سند ہونے کی وجہ سے موضوع ومردود ہے۔



4:سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی (رضی اللہ عنہ) سے فرمایا:
أبشر یا علي! أنت وشیعتک فی الجنة
” یا علی! خوش ہو تو اور تیرے شیعہ جنت میں ہوں گے۔ “
(شیعیت کا مقدمہ ص ۵۲ بحوالہ فخر الاسلام نجم الدین ابوبکر بن محمد بن حسین السنبلانی المرندی فی مناقب صحابہ)
موضوع(من گھڑت): نجم الدین سنبلانی مرندی کا کوئی اتا پتا معلوم نہیں اور اگر یہ واقعی کوئی قابلِ ذکر شخص تھا تو پھر اس سے لے کر سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہما تک سند نامعلوم ہے،  لہٰذا یہ روایت موضوع ہے۔

تنیبہ: امینی صاحب نے یہ چار موضوع روایات پیش کرکے لکھا ہے: "مزید تفصیل دیکھنے کے خواہشمند ارجح المطالب ص۶۵۷تاص۶۵۹ طبع قدیم کی طرف رجوع کریں۔" (شیعیت کا مقدمہ ص۵۲)
عرض ہے کہ کیا یہ چار موضوع اور جھوٹی روایتیں تھوڑی ہیں کہ لوگ عبیداللہ امرتسری (؟) کی ناقابلِ اعتماد اور خزینۂ موضوع کتاب: ارجح المطالب کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کئے  جارہے ہیں؟
ایسی کتاب کی طرف رجوع کرنے کا کیا فائدہ؟ کہ آپ نے جس کی طرف خوب رجوع کرکے اس میں سے چار جھوٹی روایات کی شکل میں جو "مکھن" نکالا ہے، علمی میدان اور اہلِ سنت  کے اصولوں پر اس کی کوئی حیثیت نہیں، بلکہ اس کا وجود اور عدمِ وجود برابر ہے۔
ہم آپ کو اور تمام مسلمانوں کی وصیت اور نصیحت کرتے ہیں کہ حق دیکھنے کے خواہشمند کے چائیے کہ قرآن مجید، صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی طرف رجوع کریں ، اور ان شاء اللہ اس میں آپ لوگوں کا بہت فائدہ ہوگا، بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم شاملِ حال رہے۔
دوسری تمام کتابوں کی اسانید ومتون کی اصولِ حدیث اور علمِ اسماءالرجال کی رُو سے تحقیق کرنے اور ثبوت کے بعد ہی اُن سے استدلال جائز ہے۔


No comments:

تبصرہ کیجئے