تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Thursday, January 05, 2017

ایک نوجوان کا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا

ایک نوجوان کا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا

ضعیف احادیث، zaeef Hadees, سلسلة الأحادیث الضعیفة و الموضوعة

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"عُدْنَا شَابًّا مِنَ الأَنْصَارِ وَعِنْدَهُ أُمٌّ لَهُ عَجُوزٌ عَمْيَاءٌ قَالَ فَمَا بَرِحْنَا أَنْ فَاظَ يَعْنِي مات ومددنا على وجه الثَّوْبَ فَقُلْنَا لأُمِّهِ يَا هَذِهِ احتسبي مصابك عند الله قال أَمَاتَ ابْنِي قُلْنَا نَعَمْ قَالَتْ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي هَاجَرْتُ إِلَيْكَ وَإِلَى نَبِيِّكَ رَجَاءَ أَنْ تُغْنِينِي عِنْدَ كُلِّ شَدِيدَةٍ فَلا تَحْمِلْ عَلَيَّ هَذِهِ الْمُصِيبَةَ الْيَوْمَ قَالَ أَنَسٌ فَوَاللَّهِ مَا بَرِحْنَا حَتَّى كَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ وَطَعِمَ وَطَعِمْنَا مَعَهُ."
میں ایک انصاری نوجوان کی عیادت کیلئے گیا (لیکن وہاں جانے کے بعد) وہ جلد ہی فوت ہوگیا۔ ہم نے اس کی آنکھیں بند کیں اور اس پر چادر ڈال دی، ہم میں سے بعض نے اس کی ماں کو کہا: اس کے ثواب کی امید رکھ،ا س نے کہا: وہ فوت ہوگیا؟ ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: کیا تم صحیح کہہ رہے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں، اس نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے اور کہا: اے اللہ! بے شک میں تیرے ساتھ ایمان لائی اور تیرے رسول کی طرف ہجرت کی، پس جب مجھے کوئی مصیبت پہنچی اور مین نے تجھ سے دعا کی، تو نے اسے دور کردیا۔ میں تجھ سے سوال کرتی ہوں: اے اللہ! آج کے دن یہ مصیبت مجھ پر نہ ڈال۔ انھوں (انس رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: اس (میت) نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا ہم اس سے جدا نہیں ہوئے حتیٰ کہ ہم نے کھانا کھایا اور اس نے بھی ہمارے ساتھ کھانا کھایا۔ (دلائل النبوۃ للبیهقي: ج۶ص۵۱، الکامل لابن عدي: ۹۵/۵، البدایة و النهایة: ۱۷۱/۶)

موضوع (من گھڑت): اس واقعہ کا مرکزی راوی صالح المری "منکر الحدیث" ہے۔
٭ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا: کان صاحب قصص یقص لیس ھو صاحب آثار و ھدیث ولا یعرف الحدیث۔ "وہ قصہ گو تھا قصے بیان کرتا تھا۔ وہ صاحب آثار و حدیث نہیں ہے اور نہ وہ حدیث کو پہچانتا۔" (الجرح والتعدیل:۳۹۶/۴ )
٭امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا:" ضعیف الحدیث " (الجرح والتعدیل:۳۹۶/۴ )
٭امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا: "منکر الحدیث" (الجعفاء الصغیر: ۱۶۹)
٭امام نسائی رحمہ اللہ نے کہا:"متروک الحدیث" (الضعفاء والمتروکون: ۳۲۱)
٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہا: "ضعیف" (التقریب: ۲۸۴۵)
٭ اس کے علاوہ بھی علماء نے اس پر جرح کی ہے۔ دیکھئے الکامل لابن عدي وغیرہ
تنبیہ: ان تمام علماء کے مقابلے مین صرف امام ابن شاہین رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں کہا: لیس به بأس  ۔ (أسماء الثقات: ۶۰۲)
لیکن جمہور علماء کے مقابلے میں ہونے کی وجہ سے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ لہٰذا یہ سارا واقعہ من گھڑت ہے جو لائق التفات نہیں۔

No comments:

تبصرہ کیجئے