تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Saturday, November 22, 2014

٭ علی رضی اللہ عنہ کی ولایت

علی رضی اللہ عنہ کی ولایت
 
6: امینی صاحب نے لکھا ہے:
ابو سعید خدری  سے روایت ہے کہ بہ تحقیق غدیر خم کے روز جناب رسالت مآب ﷺ نے لوگوں کو بلا کر درخت کے نیچے جھاڑو دینے کا حکم دیا۔ وہاں سے کانٹوں کو جھاڑو سے دور کیا گیا۔ پھر آپ ؐ نے علی ؑ کو بلوا کر ان کے دونوں بازو پکڑ کر اٹھائے۔ یہاں تک کہ لوگوں نے حضرت ؐ کی بغل کی سفیدی کو ملاحظہ کیا۔ پھر آپ ؐ نے فرمایا جس کا میں مولا ہوں پس اس کا علی ؑ مولا ہے۔ پھر ابھی لوگ متفرق نہیں ہوئے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی کہ "آج کے روز میں نے تمہارے لیے دین کو مکمل کیا ہے اور میں نے اپنی نعمت کو تم پر پورا کیا ہے۔ پس رسالت مآب ؐ نے فرمایا: اللہ اکبر دین کے کامل ہوجانے اور نعمت کے پورا ہونے اور میری رسالت اور علی ؑ کی ولایت پر خدا کےراضی ہونے پر۔
(شیعیت کا مقدمہ ص۱۷۱، بحوالہ ارجح المطالب ص۸۰، أبو نعیم وأبو بکر مردویه عنه وعن أبي ھریرۃ، 
والسیوطی فی الدرالمنثور والدیلمی (صح) وأبو نعیم فیما نزل من القرآن في علي)

موضوع(من گھڑت): عرض ہے کہ اس روایت کی کوئی سند اہلِ سنت کی کتابوں میں موجود نہیں ہے اور نہ ابو نعیم وابن مردویہ کی روایتوں کی اسانید کا علم ہوسکا ہے۔ یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ درمنثور (۳۹۸/۲) میں بھی نہیں ملی اور نہ دیلمی کی سند کا نام ونشان ملا ہے، لہٰذا یہ بے سند روایت موضوع  (من گھڑت)ہے۔
٭حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے صدیوں پہلے اس روایت کی سند پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دیکھئے منہاج السنۃ النبویہ (ج۴ص۱۵)
٭حافظ ذہبی نے اسے موضوع قرار دیا۔ دیکھئے المنتقیٰ من منہاج السنہ (ص۴۲۵)
امینی صاحب اور ان کے ساتھیوں سے درخواست ہے کہ ہمت کریں اور کوشش کرکے کہیں سے اس روایت کی سند پیش کریں تاکہ راویوں کی تحقیق کی جاسکے اور اگر سند پیش نہ کرسکیں تو پھر اس بے سند موضوع روایت کو عوام الناس کے سامنے کیوں پیش کررہے ہیں؟
اگر شیعہ کی کتابوں، مثلاً اصولِ کافی سے ہم کوئی ضعیف ومردود روایت پیش کردیں تو کیا شیعہ اسے تسلیم کرلیں گے؟
فل حال اصولِ کافی کی روایت پڑھ لیں:
٭ ابو عبد اللہ علیہ السلام (شیعہ کے نزدیک معصوم امام) سے روایت ہے کہ: "إنّ العلماء ورثة الأنبیاء وذاک أن الأنبیاء لم یورّثوا درھماً ولا دینارً۔ ۔ ۔ ۔"
بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں، یہ اس لئے کہ انبیاء نے درہم ودینار کی وراثت نہیں چھوڑی ۔ ۔ ۔ ۔ الخ (الاصو ل من الکافی ج۱ص۳۲ باب صفۃ العلم وفضلہ وفضل العلماء ح۲)
ضعیف: اس کے راوی ابو البختری وھب بن وھب کے بارے میں مامقانی (شیعہ) نے لکھا ہے: "في غایة الضعف" یعنی بہت زیادہ ضعیف۔ (تنقیح المقال فی علم الرجال ج۱ص۱۶۱، راوی نمبر ۱۲۷۰۹)
کیا خیال ہے شیعہ اصول کی رُو سے اس سخت ضعیف روایت کو شیعہ کے خلاف پیش کرنا جائز ہے؟


No comments:

تبصرہ کیجئے