تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Saturday, September 27, 2014

٭ امام مسلم رحمہ اللہ کی وفات کا قصہ


امام مسلم رحمہ اللہ کی وفات کا قصہ
"عقد لأبی الحسین مسلم بن الحجاج مجلس للمذاکرۃ فذکر له حدیث لم یعرفه فانصرف إلیٰ منزله وأوقد السراج وقال لمن فی الدار: لایدخلن أحدمنکم ھذا البیت، فقیل له: أھدیت لناسلة فیھا تمر فقال: قدموھا إلي، فقدموھا إلیه فکان یطلب الحدیث ویأخذ تمرة تمرة یمضغھا فأصبح وقد فني التمر ووجد الحدیث۔
قال: محمد بن عبد اللہ: زادني الثقة من أصحابنا أنه منھا مات"
ابو الحسین مسلم بن الحجاج کے لئے ایک مجلس مذاکرہ منعقد کی گئی، پھر ان کے سامنے ایک حدیث بیان کی گئی جسے انہوں نے نہیں پہچانا، پھر وہ اپنے گھر تشریف لے گئے اور چراغ جلا لیا او گھر والوں سے کہا: اس کمرے میں تم میں سے کوئی بھی داخل نہ ہو۔ ان سے عرض کیا گیا کہ ہمارے پاس کھجور کی ایک ٹوکری بطورِ تحفہ آئی ہے تو آپ نے فرمایا: میرے پاس لے آؤ۔ پھر وہ ان کے پاس (یہ ٹوکری) لے آئے تو آپ حدیث تلاش کرتے رہے اور ایک ایک کھجور چبا کر کھاتے رہے۔ صبح ہوئی تو کھجوریں ختم ہوچکیں تھیں اور حدیث مل گئی۔
محمد بن عبد اللہ (حاکم نیشاپوری) نے فرمایا: مجھے اپنے ساتھیوں میں سے ایک ثقہ (؟) نے مزید بتایا کہ وہ ان( کھجوروں کے کھانے) سے فوت ہوئے تھے۔۔۔“
ضعیف: ٭  یہ روایت  کئی کتابوں میں بغیر سند کے امام حاکم سے منقول ہے۔ مثلاً
1: تہذیب الکمال للمزی (۹۷/۷)
2: سیر اعلام النبلاء للذہبی (۵۶۴/۱۲) وغیرہما۔
٭ جبکہ تاریخ بغداد (۱۰۳/۱۳)، تاریخ دمشق (۹۴/۵۸) من طریق الخطیب بہ، التقیید لابن نقطہ (۲۵۳/۲- ۲۵۴) من طریق الخطیب بہ، وغیر ذلک،  میں درج ذیل سند سے مذکور ہے:
قاضی ابو العلاء محمد بن علی (بن احمد بن یعقوب الواسطی) المقری "قال: أخبرنا محمد بن عبد اللہ النیسابوري (الحاکم صاحب تاریخ ینسابور و المستدرک): سمعت أبا عبد اللہ محمد بن یعقوب یقول: سمعت أحمد بن سلمة یقول۔۔۔۔۔"
٭یہ قصہ دو وجہ سے ضعیف و مرودو ہے:
1: (امام حاکم کے ساتھیوں میں سے ایک  ) ثقہ کون ہے؟ اس کا کوئی اتا پتا نہیں اور اصولِ حدیث کا مشہور مسئلہ ہے کہ راوی کا حدثني الثقہ کہنا اور اپنے استاذ کا نام نہ لینا توثیق نہیں ہوتا۔ (مثلاً دیکھئے: اختصار علوم الحدیث لابن کثیر: ۲۹۰/۱، اردو مترجم ص ۶۱-۶۲)
2:ابو العلاء محمد بن علی الواسطی ضعیف ہے۔
تنبیہ: اگر یہ روایت تاریخ نیشا پور یا امام حاکم کی کسی کتاب میں نہ ملے تو قاضی ابو العلاء کی وجہ سے حاکم نیشاپوری سے بھی ثابت نہیں، لہٰذا سارا قصہ ہی ضعیف و مشکوک ہے۔
 فائدہ: اگر کوئی کہے کہ اس قسم کے قصوں کا مشہور ہونا ہی کافی ہے اور یہاں صحیح یا حسن سند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں (!!) تو اس کا جواب یہ ہے کہ مشہور کی دو قسمیں ہیں:
1: صحیح و حسن لذاتہ
2: ضعیف ومردود، بلکہ بے سند وموضوع
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
"مشہور حدیث صحیح بھی ہوتی ہے جیسے "الأعمال بالنیات" والی حدیث اور حسن بھی ہوتی ہے۔ لوگوں کے درمیان ایسی حدیثیں بھی مشہور ہوجاتی ہیں جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی یا کلیتاً وہ موضوع ہوتی ہیں اور یہ بہت زیادہ ہیں۔" (اختصار علوم الحدیث: ۴۵۶/۲، اردو مترجم ص۱۰۵)
کئی روایات عوام و خواص میں مشہور ہوتی ہیں، لیکن اصولِ حدیث کی رُو سے بے اصل و مردود ہوتی ہیں
تفصیل کے لیے دیکھئے "مشہور واقعات کی حقیقت (click)" (مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ)

No comments:

تبصرہ کیجئے