تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Tuesday, February 11, 2014

٭ جنگل اور بیابان میں اللہ کے بندوں کو پکارنا





سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 
 أذا انفلتت دابۃ احدکم بأرض فلاۃ فلیناد: یا عبد اللہ ! احبسوا علی ، یا عباد اللہ ! احبسوا علی؛ فإن للہ فی الأرض حاضرا، سیحبسہ علیکم
 "جب تم میں سے کسی کی سواری جنگل  بیابان میں چھوٹ جائے تو اس شخص کو یوں پکارنا چاہیے:اے اللہ کے بندوں ! میری سواری کو پکڑوادو، اے اللہ کے بندوں ! میری سواری کو پکڑا دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے بندے اس زمین میں ہوتے ہیں وہ تمہیں (تمہاری سواری) پکڑا دیں گے۔"  
(المعجم الکبیر للطبرانی: 217/10 ، ح: 10518 ، و اللفظ لہ- 
مسند أبی یعلی: 177/9 ح : 5269 ، عمل الیوم و اللیلۃ لابن السنی:509)


سخت ضعیف: اس کی سند کئی وجوہ سے سخت ترین ضعیف ہے:
۱:معروف بن حسان "غیر معروف" اور "مجہول" ہے:٭ امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے اسے مجہول قرار دیا ہے۔ (الجرح والتعدیل لابن أبی حاتم: 323/8)
٭امام ابن عدی رحمہ اللہ نے اس راوی کو "منکر الحدیث" کہا ہے۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال:325/6) 
٭ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ (مجمع الزوائد: 132/10)
۲:اس میں قتادہ بن دعامہ تابعی "مدلس" ہیں(سیر أعلام النبلاء: 270/5) جو کہ "عن" سے بیان کر رہے ہیں، سماع کی تصریح ثابت نہیں۔
۳: سعید بن ابی عروبہ بھی "مدلس" اور "مختلط" ہیں۔
٭ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ غریب حدیث ہے جسے ابن السنی اور طبرانی نے بیان کیا ہے ، اس کی سند میں ابنِ بریدہ اور سیدنا ابنِ مسعود کے درمیان انقطاع ہے۔" (شرح الاذکار لابن علان: 150/5)
تنبیہ: ابن السنی کی سند میں ابنِ بریدہ اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان "عن أبیہ" کا واسطہ ہے، یہ ناسخ کی غلطی ہے، کیونکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس سند کو "منقطع" قرار دیا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ یہی سند ابو یعلیٰ کی بھی ہے ، لیکن مسند ابی یعلیٰ میں بھی یہ واسطہ مذکور نہیں، لہٰذا اس کا "منقطع" ہونا واضح ہے۔
٭علامہ بوصیری اس کے بارے میں کہتے ہیں: "اس کی سند معروف بن حسان کے ضعیف ہونے کی بنا پر ضعیف ہے۔ " (اتّحاف الخیرۃ المھرۃ: 500/7)
٭ حافظ سخاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "اس کی سند تو ضعیف ہے، لیکن حافظ نووی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اور بعض اکابر شیوخ نے اس کا تجربہ کیا ہے۔" (الابتھج بأذکار المسافر و الحاج للسخاوی، ص: 39)
٭اس کے تعاقب میں ناصر السنۃ، محدث العصر، علامہ البانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
"عبادات تجربوں سے اخذ نہیں کی جاسکتیں، خصوصا ایسی عبادات جو کسی غیبی امر کے بارے میں ہوں، جیسا کہ یہ حدیث ہے، لہٰذا تجربے کو بنیاد بنا کر اسے صحیح قرار دینے کی طرف میلان ظاہر کرنا جائز نہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے، جبکہ بعض لوگوں نے اس سے مصیبتوں کے وقت مردوں سے مدد مانگنے پر بھی استدلال کیا ہے۔ یہ خالص شرک ہے، اللہ محفوظ فرمائے!" (سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ: 108/2، 109 ، ح: 655)

نوٹ: مصنف ابن أبی شیبۃ(132/7) میں اس کا ایک منقطع بلکہ "معضل(سخت منقطع)" شاہد بھی موجود ہے۔ اور اس میں محمد بن اسحاق راوی بھی جو کہ "مدلس" ہے، سماع کی تصریح نہیں مل سکی۔

No comments:

تبصرہ کیجئے