تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Friday, February 07, 2014

٭ نماز میں قہقہہ لگانے سے وضو کا ٹوٹنا



نماز میں قہقہہ لگانے سے وضو کا ٹوٹنا
ایک طویل روایت میں ہے کہ: آپ ﷺ نے حکم دیا کہ جو (نماز میں) ہنسے ہیں وہ وضو اور نماز دہرائیں۔ (مجمع الزوائد: 246/1)
ضعیف:اس کی سند منقطع ہے جیسا کہ شیخ محمد صبحی حسن حلاق نے بیان کیا ہے کہ ابو العالیہ رحمہ اللہ کا حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے لہٰذا یہ حدیث ضعیف ہے۔ (التعلیق علی السیل الحرار:264/1)  مزید برآں اس کی سند میں محمد بن عبد الملک بن مروان  بن حکم ابو جعفر واسطی دقیقی راوی مختلف فیہ ہے۔(میزان الاعتدال: 232/3 ) امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس معنی کی دیگر تمام روایات بھی ضعیف ہیں۔ (العلل المتناھیۃ : 371/1)
فائدہ : اس بات پر اجماع ہے کہ نماز میں بآواز بلند ہنسنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ (الاوسط ابن المنذر: 49) اور اس میں اختلاف ہے کہ نماز میں بآواز بلند ہنسنے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟
اہل الرائے کا مسلک  یہ ہے کہ وضو بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ اس بارے میں وہ ضعیف و موضوع روایات پیش کرتے ہیں۔
امام ابن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : "نماز میں ہنسنے والی حدیث اور زہری کی مرسل روایت کچھ چیز نہیں ہے۔" (السنن الکبری للبیہقی 148/1 و سندہ صحیح)
اہل الرائے کی ضعیف احادیث کے مقابلے میں سیدنا جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نماز میں ہنسنے سے وضو کے قائل نہیں تھے۔ (السنن للدارقطنی 174/1 ح 650 وسندہ صحیح)
عطاء بن ابی رباح فرماتے تھے کہ : "اور اس پر دوبارہ وضو نہیں ہے۔" (مصنف ابن ابی شیبہ : 387/1 ح 3913 و سندہ صحیح) ، عروہ بن الزبیر بھی ہنسنے کی وجہ سے  دوبارہ وضو کے قائل نہیں تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : 387/1 ح 3912 و سندہ صحیح) ، امام احمد آواز کے ساتھ ہنسنے سے دوبارہ وضو کے قائل نہیں تھے۔ (مسائل ابی داود ص 13 و مسائل ابن ھانی : 7/1) ، امام شافعی بھی اس کے قائل تھے کہ ہنسنے سے وضو نہیں ٹوٹتا (کتاب الأم : 21/1)
خلاصہ: نماز میں آواز کے ساتھ ہنسنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے لیکن وضو نہیں ٹوٹتا۔
لطیفہ: ایک دفعہ امام شافعی رحمہ اللہ کے سامنے ایک شخص کا حسن بن زیاد اللؤلؤی سے مناظرہ ہوا تو اس نے پوچھا: جو شخص  نماز میں قہقہہ لگا کر ہنس پڑے تو اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ لؤلؤہ نے کہا: نماز باطل ہوگئی اور وضو بھی ٹوٹ گیا۔اس شخص نے پوچھا کہ: آپ کا اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو نماز میں کسی پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگائے ؟ لؤلؤی نے کہا: نماز فاسد ہوگئی، اور وضو برقرار ہے۔ وہ شخص بولا: آپ کے نزدیک نماز میں پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگانا نماز میں ہنسنے سے کم ترہے؟ تو لؤلؤی اپنے جوتے لے کر اٹھ کھڑا ہوا (اور بھاگ گیا)۔ دیکھئے لسان المیزان (208/2)

No comments:

تبصرہ کیجئے