تمام ضعیف احادیث کو بغیر ترتیب سے دیکھنے کیلئے بٹن پر کلک کریں

Tuesday, February 04, 2014

٭رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو بیس تراویح اور وتر پڑھائے۔





رسول اللہ ﷺ بیس رکعات تراویح اور وتر پڑھاتے تھے 

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کی ایک رات تشریف لائے ۔لوگوں کو چار رکعات فرض، بیس رکعات نماز(تراویح)اور تین رکعات وتر پڑھائے۔


موضوع (من گھڑت) : گھمن نے ترجمہ میں بدیانتی کی ہے "چار رکعات فرض" کا اپنی طرف سے اضافہ کیا ہے کیونکہ اس من گھڑت روایت سے چوبیس رکعات تراویح کا ثبوت ملتا تھا جو گھمن کے خود ساختہ مسلک کے خلاف ہے ، مثال کے طور پر بعض ضعیف روایات میں ہے کہ "لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں 23 رکعات پڑھتے تھے" ، گھمن کے اصول اور خود ساختہ ترجمے کے مطابق اس روایت کا ترجمہ اس طرح ہوگا کہ "لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں چار رکعات فرض ، سولہ رکعات نماز تراویح اور تین وتر پڑھتے تھے۔"
 اس روایت کے راوی محمد بن حمید الرازی کے متعلق خان بادشاہ بن چاندی گل دیوبندی نے کھا ہے: "کیونکہ یہ کذاب ہے" (القول المبین فی اثبات التراویح العشرین و الرد علی الالبانی المسکین ص 334)

ماسٹر امین اوکاڑوی نے کھا ہے : "رہا حمید رازی ، تو امام سخاوی ، نسائی ، یعقوب بن شیبہ ، جوزجانی ، ابو زرعہ ، ابن خراش اور ابو نعیم نے اس کی تضعیف کی ہے، ابن خزیمہ سے ابو علی نے کہا آپ  محمد بن حمید سے حدیث کیوں نہیں لیتے حالانکہ  امام احمد ان سے روایت لیتے تھے ، آپ نے فرمایا امام احمد پر اس کا وہ حال نہ کھلا تھا جو ہم پر کھلا ، اگر امام احمد بھی اس کے حالات سے باخبر ہوتے تو ہرگز اسے نی اچھا سمجھتے ، اسحاق کوسج کہتے ہیں  کہ میں گواہی دیتا ہوں وہ کذاب تھا۔ صالح بن محمد اسدی کہتے ہیں کہ  وہ حدیثوں میں ردو بدل کردیتا تھا اور بڑا دروغ گو تھا۔ "(تجلیات صفدر 224/3)
ایسے ضعیف،  کذاب ، دروغ گو اور حدیثوں میں ردو بدل کرنے والے راوی کی روایت بیان کرنے والے کے متعلق ماسٹر امین اوکاڑوی کا بیان بھی ملاحظہ فرمالیں۔ ماسٹر امین اوکاڑوی نے لکھا ہے : "حالا نکہ امت کا اجماعی مسئلہ ہے کہ ایسی جھوٹی حدیث کو بیان کرنا حرام ہے اور اللہ کے نبی پر جھوٹ بولنا ہے۔ آہ ! شرم تجھ کو مگر نہیں آتی ، اللہ کے نبی پر جھوٹ بولنے والے (گھمن)! کل قیامت میں تیرا کیا حال ہوگا؟ جہنم کا ٹھکانہ تو یقینی ہے۔ " (تجلیات صفدر 76/6 ، 77)
گھمن کی نقل کردہ روایت کا دوسرا راوی عمر بن ہارون بھی مجروح ہے۔ (نصب الرایہ : 351/1 ، 355 ۔ 273/4)

No comments:

تبصرہ کیجئے